عشرہ ذی الحجہ کے فضائل اور اعمال

عشرہ ذی الحجہ کے فضائل اور اعمال
محمد ذبیح اللہ عبد الرﺅف تیمی
امت اسلامیہ کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت کے لوگوںکی عمریں اور زندگیاں مختصر ضرور بنائی ہیں لیکن ان میں کچھ ایسے مواقع اور اوقات عنایت کئے ہیں جن میں عبادت وریاضت اور اطاعت و بندگی کرکے کئی سالوں کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ان مواقع میں سے ایک اہم ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس روز ہیں ۔یہ دس دن شریعت اسلامیہ میں عبادت کے تعلق سے بہت ہی زیادہ اہمیت و فضیلت کی حامل ہیں۔اور ان میں کئے جانے والے اعمال اللہ تعالی کے نزدیک بہت زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں ۔
فضائل: ذوالحجہ عربی سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے ۔ یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جسے اللہ تعالی نے محترم اور متبرک بنایا ہے ۔اور ا س میںاسلام کا پانچواں اہم فریضہ حج کو صاحب استطاعت پر فرض قرار دیا ہے ۔حج کے علاوہ اگر دوسرا کو ئی عمل اس میں مشروع نہیں کیا گیا ہوتا تب بھی اس کی فضیلت کے لئے کا فی تھا۔مگر اللہ رب العزت نے حج کے علاوہ اور کئی اعمال اس میںمشروع قرار دے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا :ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منھا اربعة حرم ذالک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم بے شک مہینوں کی تعداداللہ کے نزدیک لوح محفوظ میں بارہ ہے ۔اسی دن سے جب سے اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ۔ان میں سے چار حرمت کے مہینے ہیں ۔یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو(توبہ :36)۔نبی ﷺ نے فرمایا:زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آگیا ہے جس پر اس وقت تھا جب اللہ نے آسمانوںاور زمینوں کو پیدا کیا ۔سال بارہ مہینوں کا ہے ،جن میں چار حرمت والے ہیں تین پے درپے ذوالقعدہ ،ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب مضر،جوجمادی الاخری اور رجب کے درمیان ہے ۔(متفق علیہ)ذوالحجہ کے دس دنوں کا ذکر بھی قرآن مجید میں بطور خاص آیا ہے ۔ اللہ تعالی نے اس کی قسم کھائی ہے ۔اوراللہ تعالی اسی چیز کی قسم کھاتاہے جو اس کے نزدیک اہم اور مہتم بالشان ہوتی ہے ۔فرمایا :والفجر ولیال عشر قسم ہے فجرکی اور دس راتوں کی ۔(فجر:1-2)دس راتوںسے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا:افضل ایام الدنیا ایام العشر یعنی عشر ذی الحجہ قیل ولامثلہن فی سبیل اللہ ؟قال ولا مثلہن فی سبیل اللہ الا رجل عفر وجہہ فی التراب،دنیا کے تمام دنوں میں ذو الحجہ کے دس دن سب سے زیادہ افضل ہیں ۔آپ سے کہاگیا کہ اگر اتنے ہی دن جہاد میں گذارے جائےں تو وہ بھی ان کے برابر نہیں ہیں ؟تو آپ ﷺنے فرمایا:جہاد میں گذارے ہوئے دن بھی ان جیسے نہیںہیں سوائے جو شہید ہوجائے ۔(صحیح الترغیب والترھیب:1150)۔عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:عمل صالح کے لئے ذوالحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نہیں ہیں ۔صحابہ ؓنے دریافت کیا جہاد بھی نہیں ؟آپﷺ نے فرمایا :جہاد بھی نہیں! سوائے اس شخص کے جو اپنے جان ومال کے ساتھ واپس نہ آئے ۔(بخاری :969) شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒنے فرمایا:ذوالحجہ کے دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے بہتر ہیں اور رمضان کی آخری دس راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں ۔(مجموع الفتاوی:287/25)
اعمال عشرہ ذی الحجہ:مذکورہ نصوص شرعیہ سے یہ معلوم ہوا کہ ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن عام دنوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ اہمیت و فضیلت اور قدر ومنزلت رکھتے ہیں ۔ان دنوں میں انجام دئے جانے والے اعمال درجہ ذیل ہیں ؛
(1)فریضہ حج: ان مبارک دنوں میں کئے جانے والے اعمال میں سے سب سے بہتر اور افضل عمل اسلام کا پانچواں بنیادی رکن حج ہے ۔مگر یہ سارے مسلمانوں پر فرض نہیں ہے بلکہ صرف مالداراور استطاعت وطاقت رکھنے والے پر واجب ہے ۔حج اعمال صالحہ میں سب سے زیادہ اجر وثواب کاباعث ہے ۔نبی ﷺ سے پوچھاگیا کونسا عمل سب سے بہتر ہے ؟تو آپﷺ نے فرمایا :اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔پوچھاگیا اس کے بعد کیا؟آپﷺ نے کہا :اللہ کے راستے میں جہاد ۔پوچھا گیا اس کے بعد کیا ؟آپﷺ نے کہا :مقبول حج(مسلم)
(2)روزہ: ان دنوں میں کئے جانے والے اعمال میں سے ایک روزہ بھی ہے ۔رمضان کے فرض روزوں کے بعدجن دنوں میں نفلی روزے رکھنے کی تاکید آئی ہے ان میں سے یہ دس دن بھی ہیں ۔ام المومنین حفصہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے؛ عاشورہ کا روزہ ،ذی الحجہ کے دس دنوں کا روزہ ،ہرمہینے میں تین دن کا روزہ اور فجرسے پہلے دو رکعت ۔(نسائی:2/135)عشرہ ذی الحجہ کے روزے سے مراد نودن کا روزہ ہے کیونکہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے ۔امام نوی ؒنے فرمایا :ذوالحجہ کے دنوں کا روزہ بہت زیادہ مستحب ہے ۔
(3)عرفہ کے دن کا روزہ : عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کا روزہ غیر حاجیوں کے لئے بہت زیادہ ثواب والا عمل ہے ۔نبی ﷺ نے فرمایا :عرفہ کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ ایک سال پیچھے اور ایک سال آگے کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا(مسلم)یہ روزہ حج ادا کر رہے حاجیوں کے لئے مشروع نہیں ہے ۔اس لئے کہ نبی ﷺ نے دوران حج عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا۔
(4) تکبیر وتحمید اور تسبیح وتہلیل:کثرت سے ذکر واذکا ر کرناان دنوں مستحب عمل ہے ۔اللہ تعالی نے بیان فرمایا:ویذکروااسم اللہ فی ایام معلومات۔ اور وہ لوگ معلوم دنوں (عشرہ ذی الحجہ )میں اللہ کا ذکر کریں۔اور نبی ﷺ نے فرمایا :ان دنوں میں کثرت سے تہلیل ،تکبیراور تحمید بیان کرو(مسند احمد:6154)۔امام بخاری ؒنے کہا ©: ابن عمرؓاور ابوہریرہ ؓذوالحجہ کے دس دنوں میں بازار جاتے تھے اور زور سے تکبیر کہاکرتے تھے اور لوگ بھی تکبیر کہا کرتے تھے (فتح الباری،کتاب العیدین)۔جہاں تک تکبیر خاص کی بات تو وہ یوم عرفہ کے فجرکی نماز سے شروع ہوگی اور تشریق کے آخری دن کی نمازعصر تک ہر فرض نماز کے بعدپڑھی جائے گی ۔اور تکبیر خاص کے الفاظ یہ ہیں :اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد۔
(5)قربانی :ان دس دنوں کے آخری دن یعنی عید کے دن سب سے مستحب عمل اللہ کے راہ میں استطاعت کے مطابق جانوروں کی قربانی کرنا ہے ۔نبی ﷺ نے فرمایا:من وجد سعة لان یضحی فلم یضح فلا یحضر مصلاناجوشخص استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔(صحیح الترغیب والترھیب:1087)
اس کے علاوہ ان دنوں میں مستحب اعمال میں سے یہ ہے کہ نماز پنج گانہ کی پابندی کی جائے ۔نوافل کثرت سے پڑھی جائیں۔توبہ و استغفار زیادہ سے زیادہ کئے جائیں.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *