قربانی کی فضیلت،اہمیت، افادیت

قربانی کی فضیلت،اہمیت، افادیت

از۔محمدقمرانجم فیضی

اے مسلماں سن یہ نکتہ درس قرآنی میں ہے
عظمت اسلام ومسلم صرف قربانی میں ہے

قربانی اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے،بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورت المائدہ میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالی کے حضور قربانی پیش کی ،ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا ۔اس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آ کر قربانی کو کھا لیتی، چنانچہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا لیا اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی،یوں وہ قبولیت سے محروم ہو گئی۔قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا چنانچہ سورت الحج آیت نمبر 34/ میں ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عطا فرمایا ہے، البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے ۔جس کی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصرہے
(1)قربانی اسلامی شعائر ہے۔
قرآن مجید کی روح سے قربانی اسلامی شعائر یعنی نشانیوں میں سے ہے،جس کے ذریعے اسلام کی شان و شوکت، عظمت و رفعت نمایاں ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالی نے سورۃ الحج آیت نمبر 32/,/36,37/میں ارشاد فرماتا ہے ،یہ ساری باتیں یاد رکھو،اور جو شخص اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کرے،تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو تمہارے لئے اللہ تعالی کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں،اُن پر اللہ تعالیٰ کا نام لو،پھر جب(ذبح ہو کر ) اُن کے پہلو زمین پر گر جائیں تو ان ( کے گوشت ) میں سے خود بھی کھاؤ،اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں،اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنا دیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔
لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے،اُسی نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئے ہیں تا کہ تم اس پر اللہ تعالی کی تکبیر کرو ،کہ اُس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی،اور جو لوگ خوش اسلوب سے نیک عمل کرتے ہیں اُنہیں خوشخبری سُنا دو۔۔۔۔۔شعائر کے معنی ہیں: وہ علامتیں جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے۔اللہ تعالی نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں،اور خاص طور پر جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے،وہ سب اللہ تعالی کے شعائر میں داخل ہیں،اور انکی تعظیم ایمان کا تقاضا ہےمذکورہ بالا آیات سے قربانی کے عمل کی فضیلت و اہمیت، افادیت خوب خوب معلوم ہو جاتی ہے۔(2)-قربانی کرنا حکم خداوندی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی قربانی کو عبادت سمجھا جاتا تھا مگر جانوروں کو بتوں کے نام پر قربان کرتے تھے، اسی طرح آج تک دوسرے مذاہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے،مشرکین بتوں کے نام پر اور عیسائی حضرت سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے نام پر قربانی آج بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالی نے سورت کوثر میں حضور نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ اپنے رب کیلئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے ۔یعنی نماز اور قربانی کا عمل اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے ہے اسی مفہوم کو اللہ تعالی نے سورت انعام میں فرمایا ترجمہ!( کہ آپ ﷺکہہ دیجئے!)بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اس اللہ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔(3)حضور نبی کریم ﷺکے عمل سے قربانی کی اہمیت۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے،اور اپنے پاؤں کو انکی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے۔
ان احادیث مبارکہ سے جہاں قربانی کی فضیلت و اہمیت، افادیت واضح ہو جاتی ہے وہاں پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ترین سنت ہے۔قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی،ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے سو میں تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا،جبکہ باقی کے لئے امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الْکریم کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔
(4)استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر وعید،، حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی جائزہ لیں،اوّل یہی خسارہ کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے،پھر اس سے بڑھ کر صاحب رؤف رحیم مجسم رحمت پیکر شفقت حضور نبی کریم ﷺ ناراض ہو جائیں اور عیدگاہ میں حاضری سے روک دیں تو سوچیئے!ایسے شخص کا کہاں ٹھکانہ ہو گا۔۔۔؟؟؟؟ عیدگاہیں اور مساجد اللہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں،جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے عفو و کرم کی بارشیں ہوتی ہیں ، یہاں کی حاضری سے بد نصیب سے بد نصیب ہی کو روکا جا سکتا ہے، اس لئے بخل سے کام نہ لیجئے،جس کا یہ مال دیا ہوا ہے قربانی کا حکم بھی اسی کی طرف سے ہے ۔لہذا سلامتی کے حصول کے لئے حکم ربی کی تعمیل کیجئے۔
(5)-قربانی والے دن قربانی سے بڑھ کر محبوب عمل کوئی نہیں۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللہ تعالی کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں،سینگوں اور کُھروں کو لے کر آئے گا،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے یہاں شرف قبولیت کے مقام کو پا لیتا ہے،اس لئے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔
روز قیامت قربانی کے جانور کے بالوں،سینگوں اور کُھروں کو لانے کا مقصد اجر و ثواب میں اضافہ ہے،جیسا کہ “مسند عبدالرزاق” میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،بال اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کئے جائیں گے ۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت مبارکہ ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس اُون کا کیا حکم ہے ؟کیا اس پر بھی کچھ ملے گا؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی، حضرت امیرالمومنین سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم قربانی کرو،اور ان قربانیوں کے خون پر اجر و ثواب کی امید رکھو،اس لئے کہ ان کا خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی حفظ وامان میں چلا جاتا ہے ،قارئین کرام!! غور وفکر کیجیئے اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہو گا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جائیں۔دنبے اور بھیڑ کے بدن پر کتنے لاتعداد بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک گننا چاہے تو بھی نہیں گن سکتا ہے تو ذرا سوچیئے! ہمارے پندرہ بیس ہزار کے مقابلے میں کتنی بے حساب نیکیاں ہوئیں اس قدر اجر و ثواب کو دیکھ کر خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرنی چاہیئے۔واجب تو واجب ہے ہی اگر وسعت ہو تو نفلی قربانی بھی کرنی چاہیئے۔یعنی اگر اللہ جل شانہُ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہے تو تو جہاں اپنی طرف سے قربانی کریں وہاں اپنے مرحوم والدین بہن بھائیوں کے ایصال ثواب کیلئے بھی قربانی کریں ،قربانی کی اہمیت(6) دنیا کے تمام مذاہب میں قربانی اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہے۔ اِس کی حقیقت وہی ہے جو زکوٰۃ کی ہے، لیکن یہ اصلاً مال کی نہیں، بلکہ جان کی نذر ہے جو اُس جانور کے بدلے میں چھڑا لی جاتی ہے جسے ہم اِس کا قائم مقام بنا کر قربان کرتے ہیں۔قربانی کا پس منظر!! قربانی کی تاریخ آدم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ اور اِس کے آثار ہم کو تمام مذاہب و ادیان میں کثرت سے ملتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے بعد، البتہ جو اہمیت و عظمت اور وسعت و ہمہ گیریت اس عبادت کو حاصل ہوئی ہے، وہ اِس سے پہلے، یقیناًحاصل نہیں ہوئی تھی۔ اُنھیں جب یہ ہدایت کی گئی کہ وہ بیٹے کی جگہ جانور کی قربانی دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسمٰعیل کو ایک ذبح عظیم کے عوض چھڑا لیاہے۔اِس کے معنی یہ تھے کہ حضرت ابراہیم کی یہ نذر قبول کر لی گئی ہے اور اب پشت بہ پشت لوگ اپنی قربانیوں کے ذریعے سے اِس واقعے کی یاد قائم رکھیں گے۔ حج و عمرہ کے موقع پر اور عیدالاضحی کے دن یہی قربانی ہے جو ہم ایک نفل عبادت کے طور پر پورے اہتمام وانتظام کے ساتھ کرتے ہیں۔قربانی کا مقصد(7)اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور فرمانبرداری ہے۔ ہم اپنی جان کا نذرانہ قربانی کے جانوروں کو اُس کی علامت بنا کر بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں تو گویا اسلام کی اُس ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا اظہار حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی سے کیا تھا۔ اِس موقع پر تکبیر وتہلیل کے الفاظ اِسی مقصد سے ادا کئے جاتے ہیں۔ یہ، اگر غور کیجیے تو پرستش کا منتہاے کمال ہے۔ اپنا اور اپنے جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے اور ’بِسْمِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہہ کر ہم اپنے جانوروں کوقیام یا سجدے کی حالت میں اِس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ یہ درحقیقت ہم اپنے آپ کو اُس کی نذر کر رہے ہیں۔قربانی کا قانون (8)اس کا قانون یہ ہے: قربانی انعام کی قسم کے تمام چوپایوں کی ہو سکتی ہے۔اس کا جانور بے عیب اور اچھی عمر کا ہونا چاہیے۔
قربانی کا وقت یوم النحر 10/ذو الحجہ کو عید الاضحی کی نماز سے فراغت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کے ایام وہی ہیں جو مزدلفہ سے واپسی کے بعد منیٰ میں قیام کے لئے مقرر کیے گئے ہیں۔ اصطلاح میں اِنھیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ قربانی کے علاوہ اِن ایام میں یہ سنت بھی قائم کی گئی ہے کہ ہر نماز کی جماعت کے بعد تکبیریں کہی جائیں۔ نمازوں کے بعد تکبیر کا یہ حکم مطلق ہے۔ اِس کے کوئی خاص الفاظ شریعت میں مقرر نہیں کیے گئے ہیں ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *