شیخ ثناءاللہ مدنی کا “آسان اردو ترجمہ قرآن” ایک جائزہ


‌شیخ ثناءاللہ مدنی کا “آسان اردو ترجمہ قرآن” ایک جائزہ

‌جمیل اختر شفیق تیمی
‌رابطہ:7004771081

‌یوں تو دنیا کے مختلف شعبوں میں علمی وفکری کام کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں، ہر کام کا اپنا ایک میدان ہے، ایک طریقہ ہے، ایک نہج ہے جسے اہلِ علم پوری تندہی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اسی لیے ہم کسی کے کام کو کسی کے مقابل رکھ کر چھوٹا یا بڑا نہیں کہہ سکتے ،کم وبیش ہر انسان اپنے اپنے علمی کاموں کے تعلق سے بےحد جذباتی اور مخلص ہوتا ہے لیکن بحیثیتِ مسلمان ہمیں اس بات پہ شرح صدر ہے کہ دین کا کام ہے چاہے جس نوعیت کا ہو اگر اس میں خیر کا پہلو شامل ہے تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اسے تحسین بھری نظروں سے دیکھا جائے بالخصوص آج کی اس برق رفتار دنیا میں اگر کوئ شخص الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ قرطاس وقلم کو بھی وسیلہء اظہار بناکر نت نئی علمی کاوشیں پیش کرتا ہو تو مزید حیرت ہوتی ہے کیونکہ میں خود ایک قلم اور کاغذ کا آدمی ہوں اسی لیے مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ لفظوں کی کمزور اینٹ کے سہارے افکار ونظریات کی عمارت تعمیر کرنا کتنا مشکل کام ہے-

‌ذاتی طور پر میرا یہ ماننا  ہے کہ حدیث، قرآن اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئ بھی علمی کام اُس وقت تک پایہء تکیمل کو نہیں پہونچ سکتا جب تک اُس میں توفیقِ الٰہی شامل نہ ہو، ظاہر ہے وہ انسان کتنا خوش بخت ہوگا جس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ یا قلم سے پھوٹی ہوئ روشنی سے مستفید ہوکر کسی بندے کے سینے میں اپنے خالقِ حقیقی سے قُرب کی تڑپ بڑھ جائے، معصیت کے خوف سے کلیجہ لرز اُٹھے، دین سے رغبت پیدا ہوجائے، ہمہ وقت رکوع وسجود کا خیال ذہنوں میں گردش کرتا رہے، توحید پہ گامزن رہتے ہوئے اس کی نشرواشاعت کے لیے وہ ہمہ وقت طبیعت بےچین رہے-

‌پچھلے چند ہفتوں سے اپنی سخت عِلالت کی قید سے تھوڑی رہائ نصیب ہوئ تو پتہ چلا بذریعہء ڈاک  ایک قیمتی ترین تحفہ میرا انتظار کر رہا ہے، پیکٹ کھولا تو اس عہد کے مقبول ترین خطیب، پیس ٹی وی کے خصوصی مقرر شیخ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ کا “آسان اردو ترجمہ قرآن” سامنے تھا، دیکھ کر روحانی مسرت کا احساس ہوا، آنکھوں میں چمک پیدا ہوگئ اور شیخ کو عطا ہونے والی اس عظیم سعادت پہ رشک بھی آیا –

‌یہ رتبہء بلند  ملا  جس  کو مل گیا
‌ہر مدّعی کےواسطے دارورسن کہاں

‌شیخ ثناءاللہ مدنی کی شخصیت سے پیس ٹی وی کے سبب قبل از ملاقات ہی واقف تھا اور متاءثر بھی -بعد میں ٹیوی کے حصار سے نکل کر ملک کے طول وعرض میں جب اُن کے خطابات کا سلسلہ زور پکڑا تو اُن سے قریب ہونے کا شرف حاصل ہوا،درجنوں ملاقاتیں رہیں،ساتھ میں ڈھیروں نششتیں آباد ہوئیں، وقفے وقفے سے مختلف دینی محفلوں میں انہیں سننے اور سمجھنے کا موقع ملا، خطابات اور آپسی گفتگو کے علاوہ ان کے عجز میں ڈوبے اعمال بھی میری نگاہوں کے سامنے تھے، اُنہیں دیکھ کر ہمیشہ ان کے حق میں زیرِ لب دعاؤں کا ورد جاری رہا –

‌صوبہ بہار کی خاک سے اُٹھ کر جن لوگوں نے ملکی وغیر ملکی سطح پر دعوتی میدان میں ایک عہد پہ اپنا خاص اثر چھوڑا ہے ان میں شیخ ثناءاللہ مدنی کا نام بھی بہت نمایاں ہے،اُن کی ولادت 1977 میں دربھنگہ ضلع کی دیورا بندھولی بستی میں ہوئ، وہ قرآنِ حکیم کے باضابطہ حافظ ہیں، انہوں نے ملک کی مشہور علمی دانشگاہ جامعہ منصورہ مالیگاؤں سے 1996 میں امتیازی نمبرات سے سندِ فضیلت حاصل کی اُس کے بعد اُن کا داخلہ دنیا کی مشہور ترین اسلامی یونیورسیٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہوگیا وہاں انہوں نے شعبہء حدیث میں رہ کر احادیث کو پرکھنے، جاننے اور سمجھنے کے اسرارورموز سے سیکھے اور 2002 میں سند فراغت حاصل کرکے انڈیا تشریف لے آئے اور 2002 سے 2015 تک اسلامک انٹرنیشل اسکول میں مسندِ تدریس پہ متمکن رہے اُس کے بعد مستقل انٹرنیشنل ٹیوی پیس ٹی وی سے وابستہ ہوگئے تب سے مختلف دعوتی یوٹیوب چینلوں سے جُڑ کر ہنوز دعوتی وعلمی کاموں میں جنگی پیمانے پر سرگرمِ عمل ہیں –

‌پہلے اُن کی علمی مصروفیات کا دائرہ الیکٹرانک میڈیا تک ہی محدود تھا لیکن اِدھر چند سالوں میں  یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے قلم اور کاغذ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے شاید اُنہیں اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ تقریر سے زیادہ تحریر کی عمر ہوتی ہے اسی لیے پےدرپے ان کی شاہکار تصنیفات منظر عام پر آرہی ہیں-

‌ میں نے شروع ہی میں ذکر کردیا تھا کہ قرآن کے ترجمے کا کام خاص اللہ جل شانہ کی نصرت سے انجام پاتا ہے شیخ کا موجودہ قرآن کا اردو کا ترجمہ بلاشبہ ترجمہء قرآن کے باب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے، اس طرح کے ترجمے درجنوں مارکیٹ میں دستاب ہیں سوال یہ ہے کہ آخر ان کے زیرِ نظر “آسان اردو ترجمہ قرآن” میں ایسی کیا خصوصیت ہے جو قارئین کو متوجہ کرسکتی ہے اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ شیخ کا ترجمہ اتنا آسان ہے کہ کوئ اردو زبان کا جاننے والا ادنیٰ سے ادنیٰ قاری بھی آسانی سے پڑھ کر سمجھ سکتا ہے اُسے بلاوجہ لغت الٹ پلٹ کرنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی، ویسے بھی قرآن کے بارے میں خود اللہ کا فرمان ہے کہ: میں نے اس کلامِ مقدس کو آسان زبان میں اُتارا ہے،اسی لیے مالکِ کون ومکاں کے اس پیغام کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ آسان زبان میں لوگوں کو تک پہونچایا جائے،اگر میں اپنی بات کروں تو میری نظروں سے درجنوں تفاسیر اور قرآن کے ترجمے اردو زبان میں گزر چکے ہیں لیکن اتنا آسان ترجمہ میری نظروں سے اب تک نہیں گزرا،ملکِ عزیز ہندوستان کے پسِ منظر میں غور کیا جائے تو مجھے لگتا ہے دعوتی جذبے سے سرشار ہوکر اس ترجمے کو بہت عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ قرآن اور اسلام سے قریب تر ہوسکیں، اسے اگر کوئ صاحب ہندی زبان میں منتقل کردیں تو مجھے لگتا ہے پہلے سے ہی اس کی زبان اتنی آسان ہے کہ مترجم کو بہت محنت نہیں کرنی پڑے گی-

‌مزید اس ترجمہء قرآن کی انفرادیت کی بات کریں تو ہر سورت سے قبل انتہائ آسان زبان میں سورتوں کی خصوصیات اور اس کے اندر موجود پیغامات کی نشاندہی بہت اختصار کے ساتھ رقم کردی گئ ہے، اُسی طرح بعض ایسے سوالات جو پورا قرآن ختم کرنے بعد بھی قاری کے ذہن میں باقی رہ جاتا ہے،اس کے جوابات تلاش کرنے میں دشواری ہوتی ہے اسے بھی شیخ نے بڑے سلیقے سے یکجا کردیا ہے تاکہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو یاد کرانے اور قرآن سے بےپناہ محبت کرنے والوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو جیسے

‌(1)قرآن میں کل کتنی سورتیں ہیں؟

‌(2)کتنی سورتیں مکی ہیں اور کتنی مدنی؟

‌(3)قرآن میں کن نبیوں کے نام سے کون کون سی سورتیں منسوب ہیں؟

‌(4)پورے قرآن میں کل کتنے نبیوں کے نام ہیں؟

‌(5)نازل ہونے کے اعتبار سے کونسی سورت کتنے نمبر پہ آتی ہے؟

‌(6) قرآن حکیم میں کل کتنے سجدے ہیں؟

‌(7)حروفِ مقطعات کی تعداد کتنی ہے؟ وغیرہ

‌ ان سارے سوالات کے جوابات کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو بلا تاخیر شیخ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ کے ترجمے سے براہ راست استفادہ کرنا ہوگا ،اس کے علاوہ جہاں جہاں بھی ضمائر ہیں اس کی بھی وضاحت کردی گئ ہے مثال کے طور پر اگر آپ اگر سورہ ناس کی پہلی آیت کا ترجمہ بقیہ تراجم میں پڑھیں تو آپ کو یہ لکھا ہوا ملے گا کہ:”آپ کہہ دیجیے کہ انسانوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں” شیخ نے آپ کے بعد “صلی اللہ علیہ وسلم کا اضافہ کردیا ہے یا پھر جن نبیوں  اور قوموں کی جانب جہاں بغیر نام لیے اشارہ کیا گیا ہے وہاں شیخ نے باضابطہ اس کی وضاحت کردی ہے اس سے آسانی یہ ہوگئ کہ عام پڑھا لکھا مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی  کہیں سے بھی اگر اس ترجمے کو پڑھے گا تو بڑی آسانی سے یہ بات اس کی سمجھ میں آجائے گی کہ کہاں پہ رب تعالیٰ کس سے مخاطب ہے؟
‌ابتداء میں ملک کے مشاہیر اہلِ قلم اور قد آور علمی شخصیات کے تاثرات اس کے حسن میں مزید اضافہ کرتے ہیں، شیخ نے اس تفسیر کا انتساب برّصغیر کی مشہور علمی، ملی اور مذہبی شخصیت اور جامعہ منصورہ مالیگاؤں جیسے درجنوں ادارے کے بانی اور روح رواں شیخ مختار احمد مدنی رحمہ اللہ کے نام کیا ہے اور اپنی تحریر میں ان سے جُڑی ہوئ ایک یاد بھی شیئر کی ہے جو کسی بھی حساس انسان کو تڑپا سکتی ہے، دیدہ زیب طباعت اور نفیس صفحات سے مزین یہ “آسان اردو ترجمہ قرآن” البر فاؤنڈیشن ممبئ کی نگرانی میں تکمیل کو پہونچا اور اس کی اشاعت کا شرف “ثناء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، ممبئ “کو حاصل ہوا ہے اس کے لیے میں ان کے ذمہ دار اور معاونین کو تہِ دل سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں اور صمیمِ سے دعا گو ہوں کہ اس کارِ خیر میں شیخ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ سمیت جو لوگ بھی شامل ہیں سبھی کی کوششوں اور محنتوں کو اللہ قبول فرمائے- آمین-

‌مزید تفصیلات کے لیے رابطہ نمبر
9987021229
8767333555


اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *