سید فخرالدین بلے ,ایک آدرش ,ایک انجمن: تحریر و تبصرہ۔ مظفر نازنین

سید فخر الدین بلے, ایک آدرش, ایک انجمن
تحریر و تبصرہ : مظفر نازنین، کولکاتا


وہی ہے فخرِ ادب اور شہنشاہ ِ سخن
کہ بَلّے نام سے یہ ساراشہرجانے جسے
(مجروح سلطان پوری)

ہندو پاک کے مایہ ناز شعراء،، ادباء کی شاہکار نگارشات کا مجموعہ۔
کتاب :۔ سید فخرالدین بلے ۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن
تبصرہ نگار:۔محترمہ ڈاکٹر مظفر نازنین ۔ کولکاتا۔ بھارت
دوسرا اور نظرثانی شدہ ایڈیشن
مرتّبہ :۔علیگڑھ مسلم یونیورسٹی۔اولڈبواٸزایسوسی ایشن
پبلشر :۔ عالمی اخبار ۔ انگلینڈ
صفحات :۔ 270 (سیکنڈ ایڈیشن )
(اہتمامِ تالیف :۔ مجلسِ مصنفین و مولفین۔
(A.M.U. Old Boys Association)۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ، اولڈ بواٸز ایسوسی ایشن

وطنِ عزیز ہندوستا ن دو سو سالہ فرنگیوں کی طوقِ غلامی سے آخر کار 15/اگست، 1947ء کو آزاد ہوا۔ انگریزی سامراج کی غلامی کے شکنجے سے بلاشبہ وطنِ عزیز آزاد ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی ایک جمہوری ہندوستان اور دوسرا مملکت خداداد پاکستان۔ سیاسی طور پر تو بالکل الگ ہوگئے۔ اور دہلی کے لال قلعے کی فصیل پر ترنگا لہرانے لگا۔ یونین جیک اتار لیا گیا۔ اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن انگلینڈ واپس چلا گیا۔ لیکن جس طرح سے دو جڑواں بہنیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی شباہت، قدوقامت، اندازِ سخن، مزاج، ذہن، نشست و برخاست سب بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں۔ شادی کے پہلے دونوں ایک ساتھ رہتی ہیں۔ اور شادی کے بعد سسرال چلی بھی جائیں تو بھی ان کی فطرت اور شباہت نہیں بدلتی۔ یہی کیفیت ہندوستان اور پاکستان کی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اب تک ملتی جلتی ہیں۔ دریائے جھیلم، اور ستلج کا پانی بلاشبہ دونوں ممالک کو سیراب کرتا ہے۔ یہ مختصر سی تمہید لکھنے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ یہ کتاب ”سید فخر الدین بلے، ایک آدرش، ایک انجمن“ ایک ای-بک ہے۔ اور عالمی اخبار نے اس کتاب کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 270 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، یو-ایس -اے اینڈ ساؤتھ ایشیا نے مرتب کیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر سید فخر الدین بلے کی خوبصورت تصویر ہے۔ جو مایہئ ناز شاعر، ادیب، محقق، ناقد، دانشور، خطیب، اسکالر، صوفی محقق، صحافی سید فخر الدین بلے کی شخصیت، فن ثقافتی اور ادبی خدمات کے حوالے سے ترتیب دی گئی۔ اور سید فخرالدین بلے  کی تصویر سے متصل 18 معزز شخصیات کی تصاویر ہیں۔ جن میں ایک محترمہ بھی ہیں۔ اور یہ وہ نامور شخصیات ہیں جنہوں نے فخرالدین بلے کے تعلق سے۔ ان کے فن، حیات اور خدمات کا بھر پور جائزہ لیا ہے۔ جن کا تعلق مشترکہ طور پر ہندوستان اور پاکستان سے ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے تعلق رکھنے والے بھی ہیں۔ اس کتاب میں نامور ادیبوں، شاعروں، نقادوں ا ور دانشوروں کی نگارشات ہیں جن میں بابائے اردو مولوی عبد الحق، ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ، آل احمد سرور، فراق گورکھپوری، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی وغیرہ ہیں۔  سید فخر الدین بلے کا تعلق ہندوستان کے ہاپوڑ (میرٹھ) سے تھا۔ ان کی تعلیم و تربیت ہندوستان میں اور خصوصاً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وہ دانش کدہ ہے جہاں کا ہر ذرہ مثل آفتاب عالم تاب ہے۔ اور اس کے روشنی سے دنیا اور جہاں درخشاں اور تابندہ رہتے ہیں۔ جو علی گڑھ کے ترانے سے ظاہر ہے۔

جو ابر یہاں سے اٹھے گا۔ وہ سارے جہاں پر برسے گا
خود اپنے چمن پر برسے گا۔ غیروں کے چمن پر برسے گا

ہر شہر طرف پر برسے گا۔ ہر قصرِ طرف پر کڑکے گا
یہ ابر ہمیشہ برسا ہے۔ یہ ابر ہمیشہ برسے گا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغین طلباء و طالبات کی کثیر تعداد ہے جو دنیا بھر میں مقیم ہیں اور جو جہاں جس علاقے میں ہیں۔ وہاں کی ادبی چمن زار میں خوبصورت اور خوشبودار پھول کی مانند ہیں۔ جس سے وہاں کی ادبی فضا معطر ہے۔ اسی گلدستے کے ایک پھول ہیں جناب سید فخر الدین بلے۔ جن کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی لیکن بعد میں وہ پاکستان ہجرت کرگئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شمار ایشیا کے عظیم یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ یہاں طلباء ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ  سے بھی حصول علم کے لئے آتے ہیں اور اپنی تشنگی علم کو بجھا کر پوری طرح سیراب ہوتے ہیں۔ فخر الدین بلے انہیں تشنگانِ علم میں سے ایک تھے

گائی ہے وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کے ساز یہاں
ہر شام ہے شامِ مصر یہاں ہر شب ہے شبِ شیراز یہاں

مختلف ادوار میں ہندوستان  سے شاٸع ہونے والے اخبارات و جراٸد اور کتب میں شاٸع شدہ ادبی اور تنقیدی جاٸزوں اور تبصروں میں  بھی موجود بہت سے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بابائے اردومولوی عبدالحق ، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، رام لعل جی  گوپی چند نارنگ ، آل احمد سرور، فراق گورکھپوری، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، ڈاکٹر قمر رٸیس ۔ پروفیسر ڈاکٹر عنوان چشتی ۔ پروفیسر فضیل جعفری ۔ اخترالایمان ۔ علی سردار جعفری ۔ پروفیسر ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی ۔ کمال امروہوی ۔ پروفیسر ڈاکٹر اسعد بدایونی ۔ خمار بارہ بنکوی ۔ جگرمراد آبادی ۔  حضرت مجروح سلطان پوری ۔  ہیرانند سوز۔  مولانا سید ابن حیدر۔ مدیر شاعر افتخار امام  ۔ مدیر ترجمان  ڈاکٹر فوق کریمی علیگ ۔ پروفیسر ڈاکٹر سید حامد (سابق واٸس چانسلر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ۔ شکیل بدایونی  اور  بے شمار عالمی شہرت کی حامل شخصیات کا شمار سید فخرالدین بلے عیگ کی شخصیت اور فن کے مداحوں میں ہوتا آرہا ہے  جبکہ ادھر سرحد پار پاکستان میں بھی اشفاق احمد ، بانوقدسیہ،  مدیر فنون احمدندیم قاسمی، مدیر اوراق ڈاکٹر وزیرآغا ،مدیر ادب لطیف  انتظار حسین ، مدیر نقوش محمد طفیل ۔ فیض احمد فیض، محسن بھوپالی،  صہبا لکھنوی ۔ ادا جعفری ۔ مسعود اشعر ۔ نصیر ترابی ۔ نشاط فاطمہ ۔ صدیقہ بیگم ۔ پروفیسر ڈاکٹر آغا سہیل ۔ ڈاکٹرسید عبداللہ۔ ڈاکٹر انور سدید۔ عطا شاد افتخارعارف، رئیس امروہوی، جون ایلیا ، جگر مراد آبادی ، غزالیءزماں رازیءدوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی،   خواجہ نصیرالدین نصیر آف گولڑہ شریف، علامہ طالب جوہری، علامہ غلام شبیر بخاری علیگ ، مدیر محفل طفیل ہوشیارپوری، کلیم عثمانی۔ حفیظ تاٸب ۔ یزدانی جالندھری ۔ قتیل شفاٸی ۔ احسان دانش ۔ پروفیسر منظر ایوبی ۔ پروفیسر جازب قریشی ۔ جمیل الدین عالی ۔ مدیر جنگ سید تقی ۔ مدیر اردو ڈاٸجسٹ الطاف حسن قریشی ۔ مدیر اقدار  شبنم رومانی ۔ مدیر بیاض خالد احمد ۔ مدیر معاصر عطا الحق قاسمی ۔ پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب ۔ مدیر  دبستان مرتضی برلاس ۔ جاوید احمد قریشی۔ سید تابش الوری۔ اصغر ندیم سید ۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد  اور ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ پروفیسر صلاح الدین حیدر ۔ پروفیسر عرش صدیقی جیسی علم و ادب کی عظیم المرتبت ہستیاں سید فخرالدین بلے علیگ کے حلقہ احباب میں شامل رہیں اور سب ہی کو جناب سید فخرالدین بلے علیگ کی علمی ۔ ادبی اور ثقافتی خدمات اور ان کے کمال فن کا معترف پایا گیا ہے ۔

مقام ہاپوڑ (میرٹھ) متحدہ ہندوستان میں ہوئی ان کی ۷۳ سال، ۹ ماہ، ۲۲ دن تھی۔والد کا نام سید غلام معین الدین چشتی اور والدہ کا نام امتہ اللطیف بیگم۔ دادا کا نام سید غلام محی الدین چشتی۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ۔ سلسلہ نسب ۳۴واسطوں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ سے ہوتا ہوا حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ سے جا ملتا ہے۔ علی گڑھ سے وابستہ تھے جن کے لئے شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے

اے علی گڑھ! روحِ سید علم و فن کی داستان

چل دیا ہے اس چمن سے اب خزاں کا کارواں

اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر وفا یزدان منش نے لکھا ہے جو شعبہ ئ اردو یونیورسٹی آف تہران سے ہیں۔ اس مقدمے کا عنوان ہے ”ہم سید فخر الدین بلے کے قرض دار ہیں“ موصوفہ یوں رقم طراز ہیں ”سید فخر الدین بلے ایک ایسی شخصیت ہیں۔ جو ادبی دنیا میں جانی پہچانی ہی نہیں جاتی بلکہ علمی، ادبی، ثقافتی اور صحافتی حلقوں میں معروف و مقبول بھی ہیں۔“ سید فخر الدین بلے کی ایک سو پچاس سے زائد تصنیفات ہیں۔ یہ کتاب ہندوپاک کے نامور ادیبوں، شاعروں، نقادوں، دانشوروں کی نگارشات اور اقتباسات سے آراستہ ہے۔ اب ذرا کتاب میں شامل مضامین کے عنوانات دیکھئے۔پاک و ہندکے معروف افسانہ نگار انتظار حسین نے” یہ سید کام کرتاہے”کے عنوان کےتحت بلے صاحب کو  ایک متحرک شخصیت قرار  دیاہے۔ افتخارعارف  نے ”سید فخرالدین بلے۔ایک فرد۔ ایک روایت ”کاعنوان اپنے مضمون کیلئے منتخب کرکے مختصر سی عبارت میں سید فخرالدین کا بھرپورتعارف کرادیا ہے۔ سیدآل احمد سرور نے انہیں” بلندپایہ کلام کاخالق ” ماناہے۔پرو فیسر منظرایوبی کےمضمون کاعنوان قاری کو سوچنے پر اکساتا ہے اور اس عنوان “دیکھئے ،اس شخص میں کتنے جہاں آباد ہیں ” میں جہان ِمعانی آباد نظرآتاہے ۔ڈاکٹرخواجہ زکریا نے” سیدفخرالدین بلے۔ بڑے حلم و آبرووالے ” کےعنوان کےتحت انہیں محبت اور عقیدت کانذرانہ پیش کیاہے اورمجیدامجد کی شاعری کاسہارا لے کر انہیں بڑے احترام کےساتھ یاد کیاہے۔”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے”،یہ عنوان ہے پروفیسر قیصرنجفی کے مضمون کا۔ ”سید فخرالدین بلے،تصوف پرایک اہم اتھارٹی ”کا عنوان دےکر ڈاکٹروزیرآغانے دریاکوکوزے میں بندکردیا ہے۔یہ عنوان ہی بتارہاہےکہ ان کی نظر میں تصوف کےحوالے سےسیدفخرالدین بلےکا مرتبہ اورمقام کیا ہے؟۔ڈاکٹرانورسدیدکےمضمون کاعنوان ہی سیدفخرالدین بلے کو”ایک قادرالکلام شاعر ”قراردےرہاہے۔ڈاکٹرفوق کریمی علیگ نے”فخرادب۔ علی گڑھ کابلے” کا عنوان دے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ سید فخرالدین بلے کی یادوں کو اپنے مخصوص انداز میں تازہ کیا ہے اور بتایاہے کہ یونیورسٹی کےتلامذہ ہی نہیں اساتذہ بھی ان کی علمیت،ذہانت اور فطانت کے معترف اور مداح تھے۔طفیل ہوشیارپوری نے” کئی دنیائوں کا ایک بڑا آدمی” کو موضوع بناکر اپنے تاثرات اور مشاہدات کو پینٹ کیاہے۔”فخرالدین بلے علی گڑھ سے ملتان تک”عنوان ہے پروفیسر جاذب قریشی کے فکرانگیز مقالے کا،ڈاکٹرعاصی کرنالی نے” فخرالدین بلے۔ ایک تہذیبی ادارہ، ایک یونیورسٹی”کوعنوان بناکرحرف ستائش بڑی محبت کے ساتھ پیش کیاہے۔اصغرندیم سید نے”سید فخرالدین بلے۔ایک تہذیب سازہستی”کےعنوان کی بنیادپران کی شخصیت اور خدمات کی تصویرکشی کی ہے۔”ایک داستان ۔ایک دبستان ”ہے پروفیسر افتخاراجمل شاہین کے مبسوط مقالے کا خوبصورت عنوان ۔ ظفرعلی راجہ نے” صوفی بلے اوران کی صوفیانہ شاعری”کےموضوع پر صرف لکھاہی نہیں ،اس موضوع سےخوب خوب انصاف بھی کیاہے ۔”قول اور رنگ ۔بلے بلے”کوموضوع بناکر سیدسعیداحمدجعفری علیگ نے سید فخرالدین بلے کی قوالی کےحوالے سے تاریخی اور تاریخ ساز خدمات کااحاطہ کرنے کی سعی ءمشکور کی ہے۔غزالی ء زماں، رازی ء دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی مرحوم نے امیرخسرو کے سات سو سال بعد سید فخرالدین بلے کےقول ترانے کوایک قابل قدرکارنامہ قراردیاہے ۔امیرخسرونے ساڑھے سات سوسال پہلے جنوبی ایشیامیں قوالی کی بنیادرکھی تھی ،ان کے بعد کسی نے قول کی تصریحی تہذیب کی جسارت نہیں کی،یہ سہرا بھی سید فخرالدین بلے کےسرہےکہ انہوں نے نیا رنگ تخلیق کیا اور نیاقول ترانہ بھی۔ اس کتاب میں ان کانیارنگ اور نیاقول ترانہ بھی شامل کرلیاگیاہے ۔سید فخرالدین بلے کی کثیرالوصف اور کثیرالجہت شخصیت درحقیقت ان گنت شخصیات کاخوبصورت گلستاں نظرآتی ہے۔کمال احمدرضوی جیسی باکمال شخصیت نے انہیں” علم و ادب کااثاثہ ”لکھا،پروفیسرخالد پرویز نے سید فخرالدین بلے کوبجاطور پر مین آف دا اسٹیج کی حیثیت سے محبت اور عقیدت کاخراج پیش کیا ۔اس لئے کہ سید فخرالدین بلےنے پچیس روزہ جشن تمثیل کااہتمام کرکے ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل کی حیثیت سے جو ثقافتی دھماکہ کیا تھا ،اس کی گونج سرحد پار بھی سنی گئی،اوراسٹیج کےجو فن کار سامنے آئے، وہ ٹی وی اسٹار بن گئے ۔اسی لئے ان کے ساتھ ایک خوبصورت شام کااہتمام کرکے انہیں محسن فن اور مین آف دا اسٹیج کےخطابات سے نوازا گیا۔شبنم رومانی نے”سید فخرالدین بلےکےادبی نقوش ”کواپنا موضوع بھی بنایا اورانہیں اختصار کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں اجاگربھی کیاہے ۔ڈاکٹرانورسدید نے ”لاہورمیں قافلے کاسفر” لکھا ،جوسید فخرالدین بلےکی ادبی ہنگامہ آرائیوں کی بڑی دلکش داستان ہے ،اسی طرح اسرارزیدی نے ”قافلے کےپڑائو ۔ایک مستحکم روایت ”میں بلے صاحب کی ادبی اورثقافتی تنظیم قافلہ کی عالمی بیٹھکوں کی تصویرکشی کی اور بھولی بسری یادوں کو نئی زندگی بخشی ہے ۔ یہ کتاب مرتب کرکے سید فخرالدین بلےکی تخلیقی جہتوں ،ان کے فکری آفاق کی وسعتوں، ان کے کارناموں ،اورقافلےکی سرگرمیوں کااحاطہ کرنے کےلئے قابلِ تحسین قدم اٹھایاگیا ہے۔مشہور زمانہ اوریگانہءروزگار شخصیات کےفکرانگیز مقالات اوربصیرت زا تاثرات اکٹھےکرنے سےیہ کتاب سید فخرالدین بلے کےفن ،سخن ،افکار،خیالات اورخدمات کےحوالے سے اہم مرقع اور ایک کلیدی ماخذ کی حیثیت سے سامنے آئی ہے ۔انٹرنیٹ پربھی لوگ اس سے مستفیض ہوئے ہیں ۔اور اب منتظمین  نے “سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک انجمن” کو سپردقرطاس و قلم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے لائبریریوں کی زینت بھی بنایا جاسکے”۔

اس کے علاوہ سید فخر الدین بلے کا سوانحی خاکہ ہے۔ کتاب کے آخری صفحات میں نعتیں، منقبت علی ، سلام بحضور امام عالی مقام کے ساتھ نظمیں اور غزلیں بھی شامل ہیں۔

سید فخر الدین بلے ایک عظیم شخصیت تھے۔ 150 سے زائد مطبوعات تالیف کرچکے ہیں۔ اس مقدمہ میں وفایزداں منش یوں رقمطراز ہیں۔ ”راقمہ کا یہ تجربہ بھی ہے۔ اور مشاہدہ بھی کہ وہ لوگ، جن کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوتا ہے یا رہا ہے۔ ان کی مضبوط علمی شخصیت بنتی ہے۔“ جیسا کہ علی گڑھ کے ترانے سے ظاہر ہے

ہر جوئے رواں پر برسے گا۔ ہر کوہ گراں پر برسے گا
ہر سر و سمن پر برسے گا۔ ہر دشت و دمن پر برسے گا
خود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گا

روزنامہ جنگ میں جمیل الدین عالی نے اپنے سلسلہ وار کالم ”نقار خانے میں“ بلے صاحب پر تین کالم لکھے ”سید فخر الدین بلے۔ ایک آدرش۔ ایک انجمن،ایک آدرش“اہل ادب اور مرتبین کو یہ عنوان اتنا پسند آیا کہ کتاب کا نام ہی رکھ دی۔

علامہ سید غلام شبیر بخاری نے بلے صاحب کے تعلق سے ایک جامع خاکہ قلم بند کیا۔ جس میں بلے صاحب کے نام کی وجہ تسمیہ، تعلیم، شجرہ نسب اور شخصیت کے ہر پہلو کو اجا گر کیا ہے۔ مختلف عناوین کے تحت۔ مضمون نگار نے شاندار مضامین کی ترتیب دی ہے جیسے زمرد کے تختے میں ہیرے جڑے ہوں۔ یا یوں کہئے کہ ایک خوبصورت گلدستے میں رنگ برنگ خوشبودار پھول سے گلدستے کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔ جن میں بیلا، چنبیلی، گلاب، رات کی رانی، سورج مکھی، چمپا، جوہی سب ہی شامل ہوں۔ انتظار حسین نے ”یہ سید کام کرتا ہے“ افتخار عارف نے ”سید فخر الدین بلے“ ایک فرد ایک روایت“ کا عنوان دے کر بلے صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ زکریا نے ”سید فخر الدین۔ بڑے حکم و آبرو والے“ پروفیسر قیصر نجفی کے مضمون کا عنوان ہے۔ ”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جیسے“۔ بلے صاحب کو فارسی زبان پر عبور تھا کہ وہ فارسی میں روانی کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے۔ اصغر ندیم سید کہتے ہیں

”ہم یہ کہہ  سکتے  ہیں کہ فخر الدین بلے صاحب کی علمی و ادبی شخصیت ایک چمن زار  ،گلزار ،  گلستان  ہے، جس میں طرح طرح اور رنگ برنگ کلیاں کھل گئی ہیں۔ چمن زار  ،گلزار ،  گلستان اور ان کی مہک سے اردو ادب کو مہکایا جائے گا، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں دنیا سے چلے بھی جائیں تو خوشبو چھوڑ جاتے ہیں اور ان کی شخصیت سے باغِ ادب ہمیشہ معطر رہتا ہے۔ شعر و سخن کی یہ شمعِ عندلیب آخر کار جنوری 2004ء کو 73 سال کی عمر میں شعلہ مرگ کے لپیٹ میں آگئی۔ لو تھرتھرائی اور خاموش ہوگئی۔ خفیف سا دھواں اٹھا اور فضا میں تحلیل ہوگیا۔ لیکن اس کی مہک آج بھی ہمارے ادبی چمن زاروں میں حسن و رنگ و لو فراہم کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔

فخر الدین بلے علیگ شعر و ادب کے حوالے سے محتاج تعارف نہیں۔ اس کا ثبوت اس کتاب ”سید فخر الدین بلے۔ ایک آدرش۔ ایک انجمن“ میں مشاہیر اہلِ قلم کی آراء اور ان کی گراں قدر تحریروں سے ہوتا ہے۔ ہندو پاک کے مایہ ناز شعراء کی شاہکار نگارشات نے بلے صاحب کے معتبر اور مشہور ہونے کی سند پر مہر لگاتا ہے۔ ان مشاہیر اہلِ قلم  نے نہایت دیدہ ریزی اور محنت کے ساتھ یہ کام انجام دیاہے۔ اردو ادب میں بلاشبہ یہ ایک خوشگوار اضافہ ثابت ہوگی اور فخر الدین بلے صاحب کی شخصیت کو سمجھنے میں اہم کردار کرے گی۔

اس کتاب کو پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتاہے جیسے اردو کے نامور فنکاروں کی نگارشات کو یکجا کرکے کتاب میں قوسِ قزح کے رنگ بھردئے ہیں۔ اس گراں قدر کتاب کے لئے وہ تمام مشاہیر اہلِ قلم قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے بڑی ہی محنت، عرق ریزی اور تلاش و جستجو کے بعد ”فخر الدین بلے ایک آدرش۔ ایک انجمن“ کے نام سے ایک دستاویزی کتاب مرتب کی ہے۔ یہ کتاب جاذبِ نظر ہے۔ ترتیب بھی بہت سلیقہ اور تہذیب سے کی گئی ہے۔ مذکورہ کتاب ”فخر الدین بلے ایک آدرش۔ ایک انجمن“ سے بلے صاحب کی عہد ساز شخصیت کو سمجھنے کے لئے مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب اردو میں کم یاب روشِ اعترافِ خدمات کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں فخرالدین بلے صاحب کے فن کا جائزہ، محاسبہ اور مخاطبہ مشاہیر قلم نے لیا ہے اور علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے مرتب کیا ہے۔ جو قابل صد ستائش ہے۔ کتاب کے مشمولات نے کافی متاثر کیا۔ سب نے حق ادا کیا ہے۔ اس کتاب میں بلے صاحب کی فن اور شخصیت پر ممتاز قلم کاروں کی تحریر منفرد انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ ان میں مشاہیر ادب کے نگارشات فخر الدین بلے صاحب سے بے پناہ خلوص اور عقیدت کا مظہر ہیں۔

وفا یزدان منش نے لکھا ہے

”کتاب میں چھپے موتیوں کی جھلکیاں دکھا کر قارئین کرام کے دلوں ں میں آتش شوق بھڑکانے کا سامان بہم پہنچایا ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر ایک انتہائی قد آور علمی اور ادبی شخصیت، حب الوطنی سے سرشار، سراپا، خلوص و ایثار اور مٹی کا قرض دار اور ہستی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اس کتاب کا عنوان بلے صاحب کی ہمہ گیریت کو زیب دیتا ہے۔“

ڈاکٹر فوق کریمی علیگ نے ”فخر ادب، علی گڑھ کا بلے“ عنوان دے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سید فخر الدین بلے علیگ کی یادوں کو اپنے مخصوص انداز میں تازہ کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ یونیورسٹی کے تلامذہ ہی نہیں اساتذہ بھی ان کی علمیت، ذہانت اور فطانت کے معترف اور مداح تھے۔
”قول اور رنگ بلے بلے“ کو موضوع  سعید احمد جعفری علیگ نے فخرالدین بلے  کی قوالی کے حوالے سے تاریخی اور تاریخ ساز خدمات کا احاطہ کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔
کمال احمد رضوی نے علم و ادب کا اثاثہ لکھا۔ شبنم رومانی ”سید فخر الدین بلے کے ادبی نقوش لکھا ہے۔

یہ شعر اس حوالے سے وفا یزداں منش نے لکھا ہے۔

میں بعد مرگ بھی بزم وفا میں زندہ ہوں
تلاش کر مری محفل، مرا مزار نہ پوچھو

آج  سید فخرالدین بلے علیگ ہمارے درمیان نہیں لیکن اپنے چاہنے والوں میں زندہ ہیں

طفیل ہشیارپوری کہتے ہیں بلے صاحب چَھپنے سے زیادہ چُھپنے کو زیادہ پسند کیا۔ بلے صاحب نے اپنا سرمایہ سخن، مجموعوں اور بیاضوں اور کلیات کی شکل میں منظرِ عام پر لانے کی سعی نہیں کی۔ اور جگہ جگہ ان کی تخلیقات بکھری پڑی ان کو یکجا کرنا سہل نہیں۔

دوسرا سبب بلے کا شمار ان لوگوں میں جو خود سے نیاز صرف دوسروں کیلئے زندہ رہتے ہیں جنہیں اپنی نیک نامی کا خیال نہ صلے کی پرواہ اور نہ  نام و نمود کا شوق تھا۔

جگن ناتھ آزاد یوں رقم طراز ہیں سید فخر الدین بلے علیگ  کی خوبصورت شعری تخلیقات پڑھنے یا سننے کے بعد برسوں تک ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری کہتے ہیں
سید فخرالدین بلے نے سات صدیوں کے بعد رنگ لکھ کر نہ صرف رنگ کی روایات کا تحفظ کیا بلکہ اسے آگے بھی بڑھایا ہے۔ قوالی میں قول اور رنگ دونوں امیر خسرو کے پیش ہوتے ہیں۔ انہوں نے سات صدیوں بعد قول ترانہ پیش کیا۔ جس کی دھنیں ریڈیو پاکستان ملتان نے ترتیب دی۔

ڈاکٹر آغا سہیل نے سید فخر الدین بلے صاحب کے تعلق سے کہا ہے”ایک شخصیت نہیں ایک قافلہ ہیں۔“

ڈاکٹر فوق کریمی علیگ کا مضمون علی گڑھ کا بلے“ کے عنوان سے ہیں۔ کہتے ہیں
سید فخر الدین بلے علیگ کمرہ نمبر 50 میں رہتا تھا۔ اگر صحیح یاد ہو تو 50 نمبر روم میں انجم اعظمی روم میٹ تھے۔ کہتے ہیں 5 کا ہندسہ بلے صاحب کو پسند تھا۔ نماز -5،  ”میرے ان سے تعلقات دوچار برس کا قصہ نہیں۔ نصف صدی سے زیادہ کی بات ہے۔ علی گڑھ میں جو رشتہ قائم ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر چلا گیا“ انہیں یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں یادوں کو سمیٹنے کے لئے ضخیم کتاب میں سمویا جاسکتا ہے۔جنہوں نے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کی اپنی شناخت ہوتی ہے اور اس دانش کدہ کا اثر اس کی کیرئیر پر ہوتا ہے جیسا کہ علی گڑ کے ترانے سے ظاہر ہے

مختلف ہندوپاک کے مایہ ناز ادباء اور شعراء نے مختلف اور دلکش عناوین دئے ہیں۔ پروفیسر جاذب قریشی کے مضمون کا عنوان ہے سید فخر الدین بلے۔ علی گڑھ سے ملتان تک کے مضمون کا عنوان ہے فخر الدین بلے۔ علم و ادب کا اثاثہ۔
اسرار زیدی نے اپنے مضمون کا عنوان رکھا ہے۔
”لاہور میں قافلے کا پڑاؤ۔ شبنم رومانی نے ”فخر الدین بلے کے ادبی نقوش کا عنوان دے کر سید فخر الدین بلے کی شخصیت کے مختلف پہلو اجاگر کیا ہے۔

”سید فخر الدین۔ بڑے حلم و آبرو والے“ کے عنوان سے خواجہ محمد زکریا نے سید فخرالدین بلے کی شخصیت کا جائزہ لیاہے۔

پروفیسر قیصر نجفی اپنے مضمون بعنوان ”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے“ کے عنوان سے سید فخرالدین بلے کی شخصیت، فن اور اردو کے تئیں ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں

جب کہ جوش ملیح آبادی کے بقول ”فخر الدین بلے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی فراوانی ہے۔“

فراق گورکھپوری کے بقول ”سید فخر الدین بلے رنگوں کے بجائے۔ الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔

عنوان چشتی یوں رقم طراز ہیں۔ ”سید فخر الدین بلے کے اندر ایک نامعلوم جہاں آباد ہے جو وقتاً فوقتاً ان کے کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ خواجہ غریب نوا ز کے یادگاری ہیں۔ ان کی زندگی اور شاعری میں چشتیہ مسلک اور تصوف کا رنگ اور بھی نکلتا اور دکھتا ہے۔”

ڈاکٹر وزیر آغا نے عنوان دیا ہے۔ ”سید فخر الدین بلے، تصوف پر ایک اہم اتھارٹی“ کا عنوان دیا ہے اور دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔  ”تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ بلا تکلف اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں۔“

جمیل الدین عالی کہتے ہیں . 150 سے زائد مطبوعات، تالیفات و تدوین کیں۔

فطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاں
خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں

ہر شام ہے شامِ مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاں
ذرات کا بوسہ دینے کو سو بار جھکا آکاش یہاں

بابائے اردو مولوی عبدالحق کہتے ہیں ”ان کی نظم ہو یا نثر، نقص نکالنا محال ہے۔
جوش ملیح آبادی نے بھری محفل میں اعتراف کیا ہے کہ ”سید فخرالدین بلے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی فراوانی ہے۔

عمر کے ابتدائی ادوار میں انہیں مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا حسرت موہانی، مولوی عبد الحق، تلوک چند محروم، سیماب اکبر آبادی، سر شاہنواز بھٹو، صادقین، حفیظ جالندھری سے خصوصی مراسم رہے۔ ان کی صحافتی زندگی کا جائزہ لیں تو بلے صاحب سے قریبی تعلق رکھنے والوں کے اندازہ کے مطابق .150. سے زیادہ کتابیں، سو وینر، یروشرز، کتابچے انہوں نے مرتب یا مدون کئے۔ ملک کے انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران، سرکاری اہلکاروں، چوٹی کے حکمرانوں جن میں صدور، وزراء، سکریٹرز بھی شامل ہیں۔ ان کے مختلف موضوعات پر تقریریں لکھی ہیں۔ انکے کلام کو صوفیائے کرام  نے سراہا بلکہ دریائے تصوف کے غواصوں نے بھی تحسین و آفرین سے نوازا۔ احباب نے ان کی شخصیت کے ہر پہلو کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کثیر الجہت شخصیت کے مالک تھے۔ بلے ایک شخص کا نہیں، ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارہ کا نام ہے۔ جس کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر نصب ہے۔ جن میں ان گنت و بے شمار علوم فیڈ کردئے ہیں۔جس کا ظہور حسب ضرورت ہوتا رہتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی کے چند اشعار

محبت تھا عمل ، ہر گام فخرالدین بلے کا
یہ ہے احسان اور انعام فخرالدین بلے کا

قلم سے اور زباں سے صرف تبلیغِ محبت کی
دلوں کو جوڑنا تھا کام فخرالدین بلے کا

زمیں کو سب بہشتِ امن میں تبدیل کر ڈالیں
تھا دنیا بھر کو یہ پیغام فخرالدین بلے کا

وہ مر کر بھی رہیں گے یاد کی صورت ہر اک دل میں
سدا زندہ رہے گا نام فخرالدین بلے کا

” سید فخرالدین بلے کاقول ترانہ ۔ ایک تخلیقی معجزہ” اس عنوان کے تحت ممتاز عالم دین ، منبر رسول اللہ ص کی حرمت کے امین ، عظیم المرتبت مذہبی اسکالر  ، محقق اور بے مثل و بے نظیر خطیب اور مقرر مولانا سید ابن ِ حیدر ، (لکھنئو)  کے
تاثرات :- محبوب ِ رب العالمین ،رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ احمد ِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الکمال سے و اپسی پر جس اہتمام کے ساتھ مولا علی علیہ السلام کی ولایت کااعلان فرمایا،وہ کسی بیان کامحتاج نہیں۔خُم ِ غدیر کی فضائیں من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کی صدائوں سے گونج اٹھیں اور پھر چہاردانگ ِعالم میں اس کی بازگشت سنائی دی ۔صوفیاء اور اولیاء اللہ کے حلقوں میں من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کاورد ہونے لگا بلکہ یہ ان کاوظیفہ بن گیا۔ مولائےکائنات حضرت علی المرتضی ٰعلیہ السلام کےخلفاء نےاپنے حلقوں میں جوروایت قائم کی تھی ، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ مولائےکائنات حضرت علی المرتضی علیہ السلام کی شہادت کے سات سو سال بعد سید گھرانے کی ایک عظیم الشان روحانی شخصیت خواجہ ء خواجگاں حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری نے متحدہ ہندوستان میں آکر دین ِ اسلام کاچراغ روشن کیا۔اس چراغ سے لاکھوں چراغ روشن ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا اجالا پھیلتاچلاگیا۔ یہیں سے قولِ رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یعنی من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کی بنیاد پر گائیکی اورموسیقی کی ایک نئی صنف قوالی سامنے آئی ۔محبوب ِ الہیٰ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کےایماء پر حضرت ِ امیر خسرو دہلوی نے من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کواساس بناکر قول ترانہ تخلیق کیا اور آج بھی قوالی کی محفلوں کاآغاز اسی قول ترانے سے ہوتاہے ۔قوالی کارنگ ڈھنگ بدل چکاہے لیکن جس محفل میں یہ قول ترانہ نہیں پڑھاجاتا،اسے قولی کی محفل نہیں سمجھاجاتااورنہ ہی وہ قوالی کی محفل ہوسکتی ہے ۔ سات سو سال سے امیرخسروکاقول ترانہ ہی قوالی کی محفلوں میں پیش کیاجاتاہے۔یہ روایت اتنی مستحکم ہوچکی ہے کہ سات سو برسوں کےدوران کسی بڑے سے بڑے شاعر نے نیاقول ترانہ تخلیق کرنے کاسوچاتک نہیں ۔سلام ہے چشتیہ خانوادے کے چشم و چراغ سید فخرالدین بلے صاحب کو ،جنہوں نے امیر خسرو دہلوی کے بعد نیا قول ترانہ تخلیق کیا۔ جسے بجاطور پر ایک تخلیقی معجزہ قراردیا جاسکتا ہے ۔بلے صاحب نے حمد ،نعت اور منقبتوں کے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیاہے۔پہلا بند ملاحظہ فرمائیں ۔
اللہ تو واللہ ، ھواللہ ُ احد ہے
وہ قادر ِمطلق ہے،وہ خالق ہے،صمدہے
احمد میں اِدھر میم، اُ دھر منی و منھہ
اِک پردہء ادراک ہے،اِک عقل کی حد ہے
غور فرمائیے۔کچھ نہ کہہ کر اور ایمائیت اور رمزیت کاحسن برقرار رکھتے ہوئے پردہ ء ادراک ہی اٹھادیا ہے۔ اس بند میں بھی ہمیں حمد،نعت اور منقبت کادلکش امتزاج دکھائی دیتاہے ۔تین دریا یکجاہوکر بہنے لگیں گے تو یہ خوبصورتی دیکھی جاسکتی ہے ۔
قرآن حکیم ، ارشادات ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مستند تاریخی روایات سے انہوں نے جو ثمرات سمیٹے،انہیں بڑی فنکارانہ مہارت کےساتھ اپنے قول ترانے کی زینت بنادیاہے۔ عربی ، فارسی اور اردو زبان کے خوبصورت الفاظ نایاب نگینوں کی طرح اس پریم مالا میں جڑےہوئے نظر آتے ہیں ۔مولائےکائنات حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام سے اپنی پہلی محبت و عقیدت کااظہار انہوں نے سیرت و شخصیت پر ایک تحقیقی کتاب “ولایت پناہ ” لکھ کرکیاتھا۔جو نثرنگاری کاشاہکار ہے جبکہ اس قول ترانے میں انہوں نے اپنی محبتوں کےرنگوں کو شعری زبان بخشی ہے ۔ میں اسے ایک تخلیقی معجزے کےسوااورکوئی نام نہیں دے سکتا۔اللہ تبارک و تعالی ٰ اس قابل ِ قدر کاوش کوشہرت ِ عام اور مقبولیت ِ دوام کی سند عطافرمائے۔”

ڈاکٹر قمر رئیس فخرالدین بلے علیگ کے قدردان ہیں۔ کہتے ہیں بلے ہندوستان سے پاکستان چلا گیا لیکن اس کے نصیب کی ہجرتیں ابھی باقی ہیں۔اسی لئے کبھی پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئٹہ میں ہے۔ کبھی سنتے ہیں اس نے قلات اور خضدار میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کبھی اطلاع آتی ہے کہ اس نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کو اپنا بسیرا بنارکھا ہے۔ کبھی لاہورسے اس کی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی ہیں۔ اس کے پاوں میں چکر ہے۔ ڈاکٹر قمر رئیس یہ بھی چاہتے ہیں کہ بلے کی شخصیت اور فن کے حوالے سے منظم انداز میں کوئی تحقیقی کام ہونا چاہئے۔ محض کچھ نظمیں اورغزلیں لے کر ان کی بنیاد پر مضامین لکھنے کافی نہیں۔ وہ جن لوگوں کے ساتھ رہا، جن کے ساتھ ہے۔جن سے علمی اورادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کرتا ہے۔ ان سے مضامین لکھوائے جائیں تو بلے کے کئی نئے رخ سامنے آئیں گے۔ آ پ کو یاد ہوگا کہ بلے کے پاکستان چلے جانے کے بعد بھی مولانا حسرت موہانی سے ملاقات ہوتی تو وہ بلے کی خیریت کے حوالے سے ضرور پوچھتے تھے۔ وہ بلے کے قدردان کیوں تھے؟ یہ کون بتائے گا؟ بابائے اردو مولوی عبدالحق کوبلے میں کیا نظر آیا؟ ہم نہیں جانتے۔ جو ہوچکا، اس پر پچھتاوا بے سود ہے۔ ہمیں بلے کے اندر جو جہان آباد ہیں، انہیں دریافت کرنا ہوں گے۔ پھر بلے کا ایک شعر سناتے ہوئے بھائی قمر رئیس نے  یہ بھی کہا کہ اسے شعر نہ سمجھنا بلکہ ایک سچائی ہے، جس سے بلے کی شخصیت اور فکر کی وسعتوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شعر آپ بھی سُن لیں۔

ہے ایک قطرئہ خود ناشناس کی طرح
یہ کائنات مری ذات کے سمندر میں

ملک کے گوشے گوشے اور کونوں کونوں میں معیاری ادب کے بیسوں تحقیق کاروں نے کسمپرسی کی زندگی گزاری اور دیوان یا مجموعہ کی اشاعت کی حسرت دل میں لئے دنیا سے سدھارتے دیکھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سید فخر الدین بلے صاحب نے فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کیلئے اپنی زندگی وقف کردی۔ سید فخر الدین بلے ایک قادر الکلام شاعر سید فخر الدین بلے ایک تہذیبی ادارہ ایک یونیورسٹی“ ڈاکٹر عاصی کرنالی۔ اصغر ندیم سید ایک تہذیب ساز ہستی عارف الاسلام صدیقی نے لکھا ”نیاز محمد ارباب نے سید فخر الدین بلے کو علم کی آبگینہ اور ثقافت کا نگینہ کہا۔“ شبنم رومانی اپنے مضمون بعنوان ”سید فخر الدین بلے کے ادبی نقوش میں کہتے ہیں۔ ”سید فخر الدین بلے کی شخصیت کثیر الجہت اور ان کی شاعری کئی ادوار پر محیط ہے۔ نظموں میں بلا کا زورِ بیان ہے۔“ اور آخری میں یوں رقم طراز ہیں۔
ادیبوں اور شاعروں کا قافلہ ان کے گھر پر ہر مہینے کی یکم تاریخ کو پڑاؤ ڈالتا ہے۔ بڑے بڑے ادبی ستاروں کی کہکشاں ان کے آنگن میں سجی نظر آتی ہے اور قافلے کے سفر اور پڑاؤکی باز گشت ہمیں ان کے مجلے آوازِ حرس میں سنائی دیتی ہے۔
میں نے اس کتاب ”سید فخر الدین بلے ایک آدرش ایک انجمن“ کے پہلے حصہ کا بغور مطالعہ کیا۔ اور یہاں ہندو پاک کے مایہئ ناز مشاہیر ادب کی شاہکار نگارشات کو پڑھ کر معلوم ہوا کہ واقعی بلے صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ اپنی ذات سے ایک انجمن تھے۔

وہی ہے فخرِ ادب اور شہنشاہ ِ سخن
کہ بَلّے نام سے یہ ساراشہرجانے جسے
(مجروح سلطان پوری)

میں آخر میں ان تمام مایہئ ناز ادباء اور شعراء کو تہہ دل سے پر خلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی مرتب کردہ یہ ای بک  بلاشبہ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ جو نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

سید فخر الدین بلے  , ایک آدرش, ایک انجمن
تحریر و تبصرہ: مظفر نازنین ، کولکاتا

ہندو پاک کے مایہ ناز شعراء،، ادباء کی شاہکار نگارشات کا مجموعہ۔
کتاب :۔ سید فخرالدین بلے ۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن
تبصرہ نگار:۔محترمہ ڈاکٹر مظفر نازنین ۔ کولکاتا۔ بھارت
دوسرا اور نظرثانی شدہ ایڈیشن
مرتّبہ :۔علیگڑھ مسلم یونیورسٹی۔اولڈبواٸزایسوسی ایشن
پبلشر :۔ عالمی اخبار ۔ انگلینڈ
صفحات :۔ 270 (سیکنڈ ایڈیشن )
(اہتمامِ تالیف :۔ مجلسِ مصنفین و مولفین۔
(A.M.U. Old Boys Association)۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ، اولڈ بواٸز ایسوسی ایشن

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *