عيد قرباں غریبوں کیلیے ایک بہترین تحفہ

*عيد قرباں غریبوں کیلیے ایک بہترین تحفہ*
* مذہب اسلام ایک کامل و مکمل اور زندگی گزارنے کے تمام احکام و مسائل کو محیط ایک متوازن مذہب ہے۔
* مذہب اسلام ایک نیچورل اور فطری مذہب ہے۔
* مذہب اسلام دل کو چھونے اور بھانے والا مذہب ہے ۔
* مذہب اسلام جہاں ہر اچھی چیزوں کی بجا آواری پر ابھارتا ہے وہیں ہر بری چیزوں سے اجتناب کا حکم دیتا ہے۔
* خوشی و مسرت ایک طبعی شیء ہے، جس کے اظہار کے لیے مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دو عظیم خوشیوں کی بہار سے نوازا ہے۔
* ہر قوم و ملت کا تہوار ہوتا ہے، ہر مذہب میں قربانی کا تصور ہے، مذہب اسلام نے بھی اہل اسلام کو دو عیدوں سے نوازا ہے:
1۔ عید الفطر ۔
2۔ عید قرباں۔
* عید الفطر ہر سال ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے، جبکہ عید قرباں دس ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔
* خوشی اور مسرت کے اظہار کے لیے مذہب اسلام نے ان خوشیوں کی بہار پر بھی ہر غلط و ناجائز چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔
* ان دونوں تہواروں کے موقع پر تمام مسلمان ایگ جگہ جمع ہوتے ہیں اور مالک حقیقی کی ان گنت نعمتوں پر دوگانہ ادائیگی کے ذریعہ اس کا شکر بجا لاتے ہوئے خوشی و مسرت کا بھر پور اظہار کرتے ہیں۔
* یہ دونوں عید اجتماعیت کا بہترین مظہر ہے۔
* مذہب اسلام نے ان دونوں عیدوں کے موقع پر غریبوں کو خوشی و مسرت میں شریک کرنے کیلیے صدقہ و خیرات کو واجب وضروری قرار دیا ہے۔
* عید الفطر میں نماز عید سے پہلے رائج الوقت کھانے میں سے ایک صاع( تقریبا پونے تین کیلو) غریب و محتاج تک پہنچانے کو ہر چھوٹے بڑے شخص پر واجب وضروری قرار دیا۔
* اسی طرح عید قرباں کے موقع پر غریبوں اور مسکینوں کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
* عید قرباں میں ہر طاقت رکھنے والے ذمہ دار و سرپرست کو اپنے اور اپنے اہل و عیال کی جانب سے کم از کم ایک قربانی کا حکم دیا ہے، اور طاقت رکھتے ہوئے قربانی نہ کرنے والوں کو عید گاہ سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔
* قربانی کا گوشت جہاں خود کھانا ہے وہیں ہر مذہب و ملت کے غریب و نادار تک قربانی کا گوشت پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔
* قرآن و حدیث کے متعدد آیات و احادیث میں قربانی کا گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ غریبوں کو کھلانے کا حکم دیا گیا ہے:
– اللہ تعالی کا فرمان ہے: “فکلوا منها و أطعموا البائس الفقير”( الحج 28) .
– اللہ تعالی مزید فرماتا ہے: “فکلوا منہا و أطعموا القانع والمعتر”( الحج 36).
– رسول الله صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: کلوا و أطعموا وادخروا” ( بخارى).
* ان تمام واضح نصوص میں جہاں قربانی کا گوشت کھانے کا حکم ہے وہیں ہر طرح کے غریب، مسکین، اور محتاج تک قربانی کا گوشت پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔
* انہیں نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے اہل علم کا اجماع ہیکہ قربانی کے گوشت میں سے کچھ تقسیم کرنا ضروری ہے۔
* شریعت اسلامیہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ حقیقت میں عید قرباں ہر مذہب و ملت کے غریب و نادار کیلیے ایک بہترین تحفہ ہے۔
*مسلمانوں سے گزارش*
* عید قرباں کے مبارک موقع پر میں اپنے مسلمان بھائیوں سے چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں:
1۔ عید قرباں صحیح اسلامی تعلیمات کے مطابق منانے کی کوشش کریں۔
2۔ عید قرباں کے اس مبارک موقع پر غریب و محتاج لوگوں کو ضرور یاد رکھیں۔
3۔ مسلمان بھائیوں کی طرح اپنے غیر مسلم بھائیوں کو ہرگز نہ بھولیں۔
4۔ قربانی کرتے وقت صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں، اور یاد رکھیں! مذہب اسلام میں صفائی ستھرائی آدھا ایمان ہے۔
5۔جائز و درست طریقے سے ہی خوشی و مسرت کا اظہار کریں۔
6- خوشی و مسرت کے اظہار میں کسی بھی شخص پر ادنی ظلم و زیادتی نہ ہو۔
7۔ کورونا وائرس سے بچ بچاو کیلیے ہر ممکن تدبیر اختیار کریں۔
8۔ حکومتی ارشادات و ہدایات پر مکمل عمل کی کوشش کریں۔
9۔ بھیڑ بھاڑ سے کما حقہ اجتناب کریں۔
*اپنے غیر مسلم بھائیوں سے التماس*: اپنے غیر مسلم بھائیوں سے التماس ہے کہ اس قربانی کے بارے میں اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ یہ ہر مذہب کی قربانی کی طرح ایک قربانی ہے، اسے جیو ہتھیا نہ سمجھ کر غریبوں کیلیے ایک بہترین تحفہ سمجھیں۔
* اللہ تعالی ہمیں ہر اچھے کاموں کو کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔
ڈاکٹر امان اللہ محمد اسماعیل مدنی ۔
رئیس معہد حفصہ رضی اللہ عنہا للبنات زہرا باغ بسمتیہ ارریہ بہار۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *