جہاں دولت چمکتی ہے وہیں کردار بکتے ہیں

*جہاں دولت چمکتی ہے وہیں کردار بکتے ہیں*
عبد المبین محمد جمیل

محترم قارئين : عسرت وتنگ دستی ،معاشی زبوں حالی اور فقر و فاقہ کے شکار افراد وخاندان ہر حال اور ہر جگہ لاٸق امداد ہیں دراصل سرکاری مراعات کے اصلی وحقیقی مستحق مذکورہ پریشانیوں سے دوچار وہی لوگ ہیں جو شکم سیری کی خاطر سردی کی برودت اور باد صر صر کے خنک جھونکے برداشت کرتے ہیں اعلی اخلاقی قدروں کا حصول اگر دیکھا جاۓ تو سب کے لٸے لازم و ناگزیر ہے کیونکہ انسان کی اصل شناخت اسکے کردار وعمل سے ہی ہوتی ہے نہ کہ زر و جواہرات سے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ادنی ہو یا اعلی مذکر ہو یا مونث شاہ ہو یا گدا سب کا اپنا اپنا میدان عمل ہے جہاں سب اپنے کردار وعمل کی عظمت سے اپنی شناخت قاٸم کرتے ہیں لیکن
نان شبینہ اور اولاد کی ادنی خوشیوں کے حصول میں باد سموم کی روح فرسا تمازت جنکے چہروں کا رنگ بدل دیتی ہو ،قطاروں میں پورا دن کھڑا ہونے کے بعد جنہیں دو وقت کی روٹی ملتی ہو ان سے اعلی اخلاقی قدروں کی توقع عبث ہے کیونکہ فقر و فاقہ ،تنگ دستی اور آتش شکم انسان کے اخلاق وکردار ،شکل و شماٸل کو ضروریات کا ایندھن بناکر مجبوریوں کی بھٹی میں جلا کر ختم کردیتی ہیں
اعلی اخلاقی قدروں کا وجود تو ان لوگوں میں ہونا لازمی ہے جو ہر طرح سے فارغ البال، مرفہ الحال اور خوشحال ہیں روزی جنکے دروازے پر دوڑی دوڑی آتی ہے ہو دولت وثروت جنکے گھر کی دیوی ہو جنکے در و دیوار خوشحالی کے گواہ اور چہروں پر بشاشت ہو
وہ جو نوع بنوع نعمتوں سے متمتع اور بہرہ ور ہوں ان میں کردار کی بلندی اخلاق کی رفعت عادات واطوار و طرزبودوباش میں میانہ روی اور توازن و اعتدال کا فقدان ایک لمحہ فکریہ و قابل مذمتی امر ہے

محترم قارئين: مادیت کے تغلب نے انسانی عقل وخرد کو ماٶف کرکے ناکارہ کردیاہے مفاد پرستی، خود غرضی، منافقت، دھوکہ، اناپرستی، عجب اور تعلی کے عقب میں کردار کی عظمت کو جس طرح مکدر کیا جارہا ہے اس پر ارباب حل وعقد اور اثر و رسوخ والے افراد کو سر جوڑ کے بیٹھنا چاہیٸے اور مکدر فضا کو صاف وشفاف کرنے میں موثر کردار نبھانا چاہٸیے
دولت وثروت کا حصول معیوب نہیں معیوب و ناپسندیدہ اس وقت ہے جب اخلاق و کردار کی قربانی دیکر دولت اکٹھا کی جاۓ اور نوبت بایں جا رسید کہ ظلم وستم بغاوت و شرکشی خصوم وجدال اور باہمی اختلاف وانتشار سے اتحاد کا شیرازہ پارہ پارہ ہوجاۓ
دراصل جب دولت ہی کو انسان ترقی کا معراج، بلندی کی انتہا ٕ اور کامیابی کی شاہ کلید سمجھ بیٹھتا ہے تب وہ ایسا عمل کرتا ہے جس سے اخلاق وکردار کی عظمت مادیت کی بھٹی میں جل کر بھسم و خاکستر ہوجاتی ہے پھر مروت و پاسداری ، اخلاق وآداب ،شفقت ومحبت، حیا و شرم ،عفت و پاکدامنی، عزت وغیرت وغیرہ کا جنازہ نکل جاتا ہے مگر جب انسان اخلاق و کردار کو عارضی دولت وثروت پر فوقیت دیتا ہے تو اسکی نگاہوں میں دولت کوٸ معنی نہیں رکھتی جیسا کہ پیارے نبی مُحَمَّد ﷺ، صحابہ کرام، خلفاۓ راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین ،تابعین اورمحدثین عظام کی سیرتوں اور زندگیوں سے یہ بات مترشح ہوتی ہے
تاریخ کے اوراق ان باتوں کے گواہ ہیں خلیفہ راشد عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں شہر مداٸن فتح ہوتا ہے ایوان کسری جو شاہی محل تھا جس میں ایک فرش ساٹھ گز لمبا اور اسی قدر چوڑا تھا {دیگر جواہرات کے ساتھ حاصل ہوا }اس میں بہاریہ نقش ونگار بنے ہوۓ تھے قسم قسم کے درخت اور گل بوٹے زر و جواہرات کے تھے بعض صحابہ کی راۓ ہوٸ کہ یہ محفوظ رکھا جاۓ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسکی مخالفت کی آخر اس کے پرزے پرزے کرکے تقسیم کردٸے گٸے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقدس زمانے میں زخارف دنیوی کس قدر لغو و فضول خیال کٸے جاتے تھے
بحوالہ: تاریخ الامت حصہ دوم صفحہ ٦٣ مولانا اسلم جیراجپوری علیہ الرحمہ

اگر دولت کی چمک دمک کے آگے کردار کی عظمت کا رنگ پھیکا پر جاۓ تو جان لیں ہم نے ان لوگوں کے نقش قدم کو منتخب کرلیا جن پراللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ رحمتوں سے دور کردٸے گٸے یعنی اقوام گزشتہ جنکی بربادی کے داستان تاریخ کے اوراق کی زینت بنی ہوٸ ہے جیسا کہ نبی مُحَمَّد ﷺ کا ارشاد ہے *سیصیب امتی دا ٕ الامم قالوا وما دا ٕ الامم قال ۔ الاشر والبطر والتکاثر والتنافس فی الدنیا والتباغض والتحاسد حتی یکون البغیُ*
عنقریب میری امت کو پہلی امتوں کی بیماری لگ جاۓ گی صحابہ نے کہا پہلی امتوں کی بیماری کون سی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ناشکری ،سرکشی،زیادہ سے زیادہ مال ودولت جمع کرنی کی ہوڑ ،دنیا کے حصول کیلٸے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی پیہم ،ایک دوسرے سے بغض و حسد یہاں تک کی نوبت ظلم و طغیان کو پہونچ جاۓ

مستدرک حاکم بحوالہ السلسة الصحیحة رقم الحدیث ٦٨٠

عزیز القدر قارئين :آج پورے عالم میں جو ہنگامہ برپا اور محشر بپا ہے اس کی بنیادی وجہ حدیث میں موجود اخلاقی کمیوں کا لوگوں میں بدرجہ اتم پایا جانا ہے
اگر اسکی اصلاح اور درستگی پر دھیان دیا جاۓ اور لوگوں کے درمیان سے ان کمیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ و قابل ستاٸش جد وجہد کی جاۓ تو ان شا ٕ اللہ بہت حد تک کامیابی مل سکتی ہے بصورت دیگر ہم صرف اخلاق و کردار کی معدومیت کا رونا روتے ہوۓ کہیں گے

شرافت ،ظرف،ہمدردی دلوں سے ہوگٸ رخصت

جہاں دولت چمکتی ہے وہیں کردار بکتے ہیں

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *