آہ حافظ صاحب نہیں رہے

آہ حافظ صاحب نہیں رہے
سالک ادیب بونتی عمری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی اور موت کی کہانی بہت پرانی ہے،یہ ہر گھر ہر شہر اور ہر شخص کی ذات سے کبھی نہ کبھی ہوکر گزرتی ہے.
جب سے ہم نے ہوش سنبھالا حافظ محمداکرام الدین صاحب سلفی علیہ الرحمہ سےمتعارف ہوئے،الف با کی تعلیم سےلےکر ناظرئہ قرآن اور اردو املا کی مشق تک پھر قرآنِ مجیدکاکچھ حصہ بھی حافظ صاحب مرحوم سے حفظ کیا.

حافظ صاحب بڑے زندہ دل انسان اور مشفق ومہربان مربی اور استاد تھے،ہم بڑے شریرمزاج ضرور ہیں اس کے باوجود استادِ محترم کی محبت کاایک بڑاحصّہ ہمارےسرپر ہمیشہ رہا.

بونت کی سرزمین کےلیےیوں توکہنےکوآپ ایک مہاجرتھے مگر اس سرزمین سے آپ کی اور آپ سے اہلِ بونت کی محبت لافانی ہے، یہاں کابچہ بچہ آپ کی ہستی سے آشناہے،اور آپ کی جدائی میں ہر شخص اشکبار ہے ،کیوں نہ ہو آپ نے اپنی پوری زندگی بونت کے نام کردی،آپ میں صلاحیتوں کی کمی نہ تھی آپ چاہتے توباہرنکل جاتے اور بہترین معاش کواپناسکتے تھے کہ مگرقربان جائیے کہ آپ نے بونت کی محبت کو مقدم رکھا،مجھے یادآتاہے جب میں عربی جماعتِ پنجم کاطالب علم تھا توکسی رسالےمیں ایک جامعہ کاایڈ دیکھا جس میں ایک باصلاحیت حافظ قرآن کی کھوج تھی اور تنخواہ بھی اچھی خاصی تھی میں گرمی کی چھٹیوں میں گھرآیاتوایک روز عشاکے بعد حافظ صاحب کو وہ رسالہ دِکھایا تو ہنسنے لگے اور کہا…. “اب بونت ہی ہماراسب کچھ ہے”

آپ کسی کو برسرِعام شرمندہ کرناکبھی پسندنہیں کرتے تھے،چھٹیوں میں اکثر جامع مسجد کی امامت عمرآبادکےطلبہ کیاکرتے تھے ،کبھی کوئی آیت چھوٹ جاتی توآپ جان بوجھ کر نظرانداز کرتے اور نماز کے بعد جب سب چلے جاتے یاپھر دوسرے دن اکیلےمیں بتاتے کہ فلاں آیت میں آپ نےکل غلطی کی تھی اصلاح کرلیں، میرے ساتھ ایساکئی بار ہواہے.

ایک باصلاحیت عالمِ دین اور نابغئہ روزگار حافظ قرآن کی حیثیت سے آپ کی شخصیت عوام اور اہلِ علم کےدرمیان یکساں مقبول تھی.

حافظ صاحب ایک منکسرالمزاج ہستی کے مالک تھے اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ مجھ جیسے شاگردسےآپ نے کبھی تُو اور تم سے خطاب نہیں کیا ہمیشہ احترام اور علمی اندازِتخاطب آپ کی شخصیت کاخوبصورت حصہ تھا.

ایک اور خوبی جو مجھےحافظ صاحب میں ملی میں نےاپنی اس مختصرسی زندگی میں اب تک کسی اور شخص میں کم ہی دیکھی وہ تھی جستجوئےشرحِ صدر،اپنے شاگردوں سے بھی اکثرگفتگوہوتی تو پوچھے مشتاق…. سالک… قرآن میں یہاں ھم یا ھو کااستعمال کیوں ہوا ہے یا پھر اس آیت میں بلاغت کاکونسانکتہ مضمر ہے! علامہ اقبال کےفلاں شعر میں فلاں لفظ کیامعنی رکھتاہےوغیرہ.

اپنے شاگردوں سےآپ کی محبت ایک ایسی داستان ہے جو شاید بونت کی سرزمین میں دوبارہ کبھی دوہرائی نہ جاسکے، جامعہ خالدیہ عربیہ میں ابتدائی تعلیم کےدوران شایدہم آپ کی محبت کوسمجھ نہ سکےتھے مگر جب عمرآبادحصولِ تعلیم کےلیےگئے توآپ کی محبتوں کومحسوس کیا،جب بھی گھرآتے آپ ہم سے گھنٹوں تعلیم سے متعلق گفتگو کرتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے.

ہم نے اپنےبچپن کاایک حصہ آپ کی نگرانی میں گزاراہے، اب نظرکےسامنے وہ ایام ہیں جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے چہل قدمی کرتے نظرآتے تھے… کبھی ڈانٹنے کی نوبت آتی تو ڈانٹتے پھرتلاوت میں مشغول ہوجاتےتھے جوقرآن سےآپ کی محبت کاثبوت ہے،پندرہ بیس سال بونت کی جامع مسجداہلحدیث میں آپ نےتراویح پڑھایا،قرآن کی تلاوت کا نرالا انداز مصلیوں کواسقدرپسندتھاکہ لمبی لمبی قرأت کےباوجود ہرشخص آپ کی امامت میں تراویح پڑھنےکامشتاق تھا،اس کے علاوہ آپ ایک لمبی مدت تک جامع مسجدکےامام بھی رہے اس دوران آپ نے ہمیشہ وقت کی پابندی کی بھرپور کوشش کی.

سرزمینِ بونت کےلیےآپ کی خدمات آبِ زر سے لکھےجانےکےقابل ہیں، میں دعوے کےساتھ کہہ سکتاہوں کہ آج بونت کی سرزمین میں قرآن پڑھنے کے قابل جو جوان بچے بچیاں نظر آتی ہیں وہ آپ ہی کی محنتوں کےرہینِ منت ہیں، علما کی ایک جماعت آپ کے حلقئہ شاگردی میں پروان چڑھی،بقولِ مربی محترم نورالامین صاحب عمری حفظہ اللہ”آپ سے بونت کی تین نسلوں نے کسبِ فیض کیا” ـ

آپ نہایت مخلص اورہمدرد انسان تھے،جس سے بھی ملتے خیرخیریت پوچھتے اور بعض دفعہ بہتر مشوروں سے بھی نوازتے تھے.

آپ اپنے شاگردوں کے لیے ایک باپ کی طرح تھے،جب بھی کسی شاگرد سے ملاقات ہوتی ڈھیروں سوالات کرتے.. کہاں ہیں… کیاکرتےہیں…وہاں کاماحول کیساہے…. الغرض ایک باپ کی طرح اطمینان ہونےتک ہر طرح کے سوالات کرتے.

صبح صبح چہل قدمی کرناآپ کو پسند تھا اور چہل قدمی کے دوران زیرِلب قرآن کی تلاوت آپ کی عادت تھی .

میں ان چند خوشنصیبوں میں سےایک ہوں جن سے حافظ صاحب بہت محبت کرتے تھے.
اگرحافظ صاحب سنتے کہ میں گھرآیاہوں اور دوچاردن گزرنے پر بھی ملاقات نہیں کی ہے تو کسی نہ کسی ساتھی سے بلوابھیجتے.
لاک ڈاؤن کےدوران ایک لمبےوقفے تک آپ سے ملاقات نہ ہوسکی توآپ نے عزیزم تمیم باسم سلمہ سےبرابر میری خیریت معلوم کرتے رہےکہاکہ سالک گھرپرنہیں ہیں کیا… اگرہیں تو ان سےملاقات کے لیے کہیں!

جنوری سن ۲۰۲۱ ء میں میری کتاب “حدیثِ دل” منظرِعام پر آئی جب کتاب کے لیے نام کےانتخاب کی باری آئی تو مربی مکرم محترم نورالامین صاحب عمری حفظہ اللہ کےعلاوہ میں نے حافظ صاحب سےبھی مشورہ کیا اور کہا کتاب کا نام حدیثِ دل رکھاہے… سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کتاب کا نام بھی “شاعرانہ” ہے یہی رکھ لیں پھر میں نے وہی نام فائنل کرلیا.

حدیثِ دل میں شمولیت کےلیےآپ سے مضمون لکھنےکی درخواست کی پر صحت کی ناسازی درمیان میں حائل ہوگئی، اس کادکھ رہاکہ ایک صفحہ ہی سہی حافظ صاحب کےقلم سے ہوجاتاتو میری خوشیوں اور کتاب کی رونق میں مزیداضافہ ہوجاتا مگر یہ خواب بھی ناتمام رہا پھر کوشش کی کہ کتاب کی رسمِ اجرا آپ کی صدارت میں ہو اور بینربھی پرنٹ کرلیامگرصحت نے حافظ صاحب کواجازت نہ دی مگر یہ میری خوشنصیبی ہےمیں نے اپنی کتاب کامسودہ سب سے پہلےحافظ صاحب کو دکھایا تھا جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے اور سب سےپہلےکتاب نذر بھی آپ کو کرنے کےلیےنکال کر رکھا.

کتاب شائع ہوجانےکےبعدپھرایک طویل وقفہ گزرگیا اور آپ سے ملاقات نہ ہوسکی تو پھرآپ نےملنےکےلیے تمیم باسم سے کہلوا بھیجا اور دوسرے دن حافظ صاحب سے ملاقات ہوئی، آپ اپنےگھرکےباہر کرسی پربیٹھے ہوئے تھے میں وہیں باادب کھڑا رہا… گفتگوکےدوران آپ نے کہا سالک… میں نےاپنےپڑھنےکی زمانےمیں ایک غزل لکھی تھی آپ وہ غزل لےلیں اور کچھ ردوبدل کرناہوتو کرکےاپنےپاس محفوظ رکھیں،چونکہ صحت ناساز تھی اس لیےآپ نے کہاکہ ابھی کچھ یادنہیں آرہا میں اپنےبیٹے(احسان الٰہی) سےاملاکرواکردوں گا( یہ آپ سےمیری آخری ملاقات تھی) پر یہ میری کم نصیبی تھی کہ یہ تحفہ بھی مجھے مل نہ سکا.

صرف راقم الحروف ہی نہیں بلکہ آپ اپنےہرشاگردسےمحبت کرتے تھے ایک سے ملاقات نہ ہوتی تو دوسرے سےخیریت معلوم کرلیتےتھے اور جوکچھ کہناہوتا کہلوا بھیجتے تھے.

مجھے اس موقع پرغالب کا یہ شعر یادآرہاہے

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

آپ ایک ایساچراغ تھے جس سے دسیوں چراغ روشن ہوئے جوآپ کےحق میں یقیناً صدقئہ جاریہ ہیں …ان شاءاللہ

گزشتہ ۳۱ جولائی کوآپ کی صحت بہت ناساز ہوگئی اور آپ ہسپتال لےجائے گئے،ICU پھرVentiletor میں لگ بھگ سات دن آپ رہے،شوگر کےعلاوہ دمّے کی شکایت نے آپ کو بڑی آزمائش میں مبتلاکیا،آپ کےاہلِ خانہ بڑےصبرآزماکراحل سےگزرے اور بہتر علاج کےلیےہسپتال بھی بدلاگیا یوں آپ کی صحت اورعلاج کے لیے آپ کےگھروالوںخصوصاً اکلوتےبیٹے حافظ احسان الٰہی سلمہ اور دامادوں کےعلاوہ آپ کے شاگردوں اورمحبین نے ہرممکن کوشش کی مگر قدرت کالکھاکون کاٹ سکتاہے اور آپ ۷ اگست ۲۰۲۱ء کو اپنےخالقِ حقیقی سے جاملے،وفات ہسپتال میں ہوئی اور تدفین بونت کےاہلحدیث قبرستان میں ہوئی، جنازےمیں اہلِ بونت کے علاوہ قرب وجوارسےچاہنےوالوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی،دور دراز سے آپ کےشاگردوں اورشناساؤں کی ایک بڑی تعدادبھی شریک جنازہ رہی.

اللہ حافظ صاحب کی خدمات کوشرفِ قبولیت سےنوازے،آپ کی قبر پر نور کی برکھابرسائے، آپ کےاہلِ خانہ،شاگردوں اور محبین کوصبرِجمیل عطاکرے ….آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *