دفعہ ۳۷۰:آئینی اور قانونی مضمرات

دفعہ ۳۷۰:آئینی اور قانونی مضمرات

عبید نظام

گروپ ایڈیٹر اڑان نیوز

ملک ہندوستان قومی،معاشی،سماجی،دینی، اخلاقی،نسلی، تہذیبی،لسانی اور نہ جانے کتنے انگنت مسائل سے دوچار ہے اس کہ باوجود یہاں کے باشندے کثرت میں وحدت کے فارمولے پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں بہت حد تک باشندگان ہند کو کا میابی بھی ملی ہے ہم روز مرہ کی زندگی میں انیک لوگوں سے ملتے ہیں کسی بھی ذات برادری کا ہو کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا لیکن ان لوگوں کے بیچ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے ذھن ودماغ پر شیطانیت کا غلبہ ہوتا ہے اور ووہ ہمہ وقت تخریب کاری میں ہی لگے رہتےہیں اوروہ نہیں چاہتے کہ سب لوگ مل جل کر امن وسکون سے زندگی بسر کریں ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے دفعہ ۳۷۰کا خاتمہ کر دیا گیا اور کشمیر کو پورے طور پر ہندوستان کا حصہ بنا دیا گیا تمام لوگوں نے اپنے اپنے طور پر حکومت کے اس تاریخی قدم کو غلط اور صحیح قرار دیا سبھوں نے اپنے حق میں دلیلیں دیں باوجود اس کہ حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا اور حالات دھیرے دھیرے معمول پر آرہے ہیں ۔ آئیے اب ہم بات کرتے ہیں کہ سرکار نے اس دفعہ کو کیوں ہٹایا اس کے پیچھے سرکار نے جو وجہ بتائے ہیں وہ بہت حد تک معقول اورعقل سے لگتی ہے حکومت نے جو سب سے بڑی بات کہی وہ یہ تھی کہ کشمیر میں امن قائم ہوگا دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا اور آئے دن ہونے والے خونی جھڑپ اور تشدد میں کمی واقع ہوگی حکومت بہت حد تک کامیاب ہو چکی ہے دفعہ ۳۷۰کہ خاتمہ کے بعد ایسے کسی ناخوشگوار واقعہ کی جانکاری سامنے نہیں آئی ہےیہ بات صد فیصد درست نہ بھی ہو کیونکہ وہاں کہ عوام کی حالات کا صحیح علم ابھی ہم صرف حکومتی ذرائع سے ہی جان پائیں گے۔اب ایک نظر ڈالتے ہیں کہ اس دفعہ ۳۷۰کے خاتمہ سے کیا کیا بدلاؤ ہوگایہ ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں و کشمیر کو ایک الگ قسم کاخصوصی درجہ فراہم کرتی تھی یہ دفعہ ریاست کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی تھی زیادہ تر امور میں وفاقی آئین کے نفاذ کو ممنوع کرتی تھی ۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں ہو سکتا تھا۔ اس ریاست کے اندر جائداد نہیں خرید سکتاتھا یی صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتاتھا۔ خیر حکومت نے مذکورہ بالا تمام مراعات ختم کردیے اور اس پر عمل کرنا بھی شروع کر دیا اس کے بارے میں کو حتمی بات کہ کہ نا قبل از وقت ہوگا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *