اے مسلمانوں! اب تو جاگو

اے چشم اشق بار ذرا دیکھ تو لیں

یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو

اے مسلمانو ں! اب تو جاگو!

ریاض فردوسی۔9968012976

تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔
وطن کو جو ماہتاب کر دے۔
اُداس چہرے گُلاب کر دے۔
جو ظُلمتوں کا نظام بدلے۔
جو روشنی بے حساب کر دے۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔

سیاست کی اصطلاح پانچویں صدی قبل مسیح کی ہے جب ارسطو نے ایک ایسا کام تیار کیا جس کو انہوں نے “سیاست” کہا تھا۔ارسطو نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politicion کہلائے۔

سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔

سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر!

اقتدار کے حصول کے لیے،حقوق کے حصول کے لیے،مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے،جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے،ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے۔سیاسی ہونے کا مطلب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے جس کا مقصد مقاصد کی تکمیل کے لئے کئی فیصلوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سیاست ، طاقت کا استعمال اور پارٹیوں کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات کو ، خاص معاشرتی مفادات کے حوالے سے ثالثی کا انتظام کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ پوری تاریخ میں ، سیاست نظاموں کے زیر اہتمام منظم سرگرمیوں کا ایک سلسلہ تشکیل دیتی ہے ، ان میں سے بہت سے افراد میں مطلق العنان کردار ہیں ، جہاں ایک رہنما یا چھوٹے گروپ نے اپنا معیار عائد کیا اور معاشرے کا کنٹرول حاصل کیاہے۔سیاسی جماعتیں ایسی تنظیمیں ہوتی ہیں جن کی بنیادی خصوصیات یکسانیت ، آئینی وابستگی اور ذاتی بنیاد ہیں ، جو قومی سیاست میں جمہوری انداز میں حصہ ڈالنے ، شہری کی خواہش کا رخ اور تشکیل کے مقصد کے ساتھ بنی ہیں۔ وہ حمایتی پروگراموں کی تشکیل اور انتخابات میں امیدواروں کی پیش کش کے ذریعے نمائندوں کے اداروں میں افراد کی شرکت کو بھی فروغ دیتے ہیں ۔ اس کا بنیادی مقصد بیلٹ باکس پر شہریوں کے ذریعہ عوامی تعاون کے ذریعے جائز اور طاقت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مستحکم کرناہوتا ہے۔کسی بھی قوم کے لیے اس کی شناخت کو بچانا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ہمارا ملک بھارت امن و امان، آپسی پیار و محبت، اخوت، دوستی اور یکجہتی کا گہوارہ رہا ہے۔یہاں ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی،آپس میں بھائی بھائی کا نعرہ تھا لیکن گزشتہ کئ سالوں یہاں کا اقلیتی طبقہ خاص طور پر مسلمان فرقہ واریت، ظلم و تشدد، عدم رواداری، خوف و دہشت کے سائے میں جی رہا ہے۔ ہر طرف انتشار، دہشت گردی، بے چینی اور بے قراری کی مغموم فضا چھائی ہوئی ہے۔مسلمانوں کی ترقی کے بڑے بڑے دعوے اور وعدوں کے ساتھ این ڈی اے کی نئی حکومت سامنے آئی تھی۔ لیکن سارے دعوے اور وعدے کھوکھلے نکلے۔مسلمانوں کی بنیادی ضرورتوں اور مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ حکومت اپنے خاص مشن میں پوری طرح مشغول رہی۔

پی کر لہو عوام کا ہوتے ہیں سرخ رو
بے جان ساری قوم ہے لیڈر میں جان ہے

آساں ہے پتہ رہبرانِ ملک و قوم کا
بستی میں صرف ایک ہی پختہ مکان ہے

دور حاضر کا سیاسی نظام نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دے رہا ہے اور اقلیتی طبقہ خاص کر مسلمان، عیسائی اور دوسرے طبقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اقلیتوں کو لو جہاد اور ‘گؤ رکشکوں’ نے اپنا نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے اقلیتوں میں حساس عدم تحفظ پیدا ہو گیا ہے۔

ہمارے ملک بھارت میں مسلمانوں کا خیال ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی میں وہ اپنے آپ کو بہت پیچھے پاتے ہیں اور جو بھی حکومت آئی، اس نے ان کے اصل بنیادی مسائل کے حل کا صرف ’وعدہ‘ کیا لیکن اس کو کبھی پورا نہیں کیا۔

مسلمان اس تلاش میں رہے کہ کوئی مذہبی تنظیم، یا کوئی مسلم لیڈر ان کی نمائندگی کر سکے تو وہ ایسے رہنما کی تلاش میں ہے جو سیکیولر ہو اور جو سبھی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ملک کی ترقی کا حصہ بنائے۔

آزادی کے بعد سے بھارت میں کانگریس اقتدار پر قابض رہی ہے اور گزشتہ ستر سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک، آئینی حقوق سے محروم رکھنا، سرکاری اداروں، تعلیمی، سیاسی میدان میں کمزور اور تنزلی میں دھکیلنے میں اگر سب سے زیادہ کسی کا کردار ہے تو وہ کانگریس پارٹی ہے۔ جس نے مسلمانوں کے ساتھ ستر سالوں تک نا انصافی کی ہے اور صرف جھوٹے وعدوں کے ذریعے مسلمانوں کے ووٹوں کو حاصل کیا۔ بھگوا سنگھی فرقہ پرستوں سے خوفزدہ کرکے مسلمانوں کو ووٹ بینک بناکر اپنی کرسیوں کو بچاتے رہے۔ اس میں ان خود سوختہ دلال مسلم لیڈران بھی  ذمہ دار ہے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلیے قوم کا سودا کرکے ظالموں کا ساتھ دیا ہے۔مسلمانوں کو آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں جمہوریت اور آئین کے قاتل کون لوگ ہے اور سب سے پہلے جمہوریت کو قتل کرنے کا کام کس نے کیا ہے؟ اور کیوں کیا ہے؟ صرف اس لیے مسلمانوں کو ہمیشہ پسماندہ اور غربت میں رکھا جائے، وہ تعلیمی اور سیاسی محاذ پر ہمیشہ بے وزنی کا شکار رہے اور وہ اپنے حقوق کو حاصل نا کرسکے۔

یہ لوگ پاؤں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ھے

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ان پر خطر حالات میں بھی مسلمانوں کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔جو لوگ ملت کے چودھری بنے ہوئے ہیں،بڑی بڑی تنظیمیں چلا رہے ہیں، روز اپنے کارناموں کی پریس ریلیز نکالتے ہیں اور اردو اخبارات،اور ہندی اخبارات میں محنت کرکے چھپواتے ہیں،ملت کے لیے کام کرنے کے نام پر بڑے بڑے چندے جمع کرتے ہیں، یہ سب  لوگ خاموش ہیں جیسے ان

مسئلوں کا ان سے  کوئی تعلق نہیں۔اور مسلمانوں کو بھی بنا استنجاء (بنا پاک اور صاف ہوئے) کے لوگوں کی اتباع کی عادت ہو چکی ہے۔اپنا کوئ بھائی اگر کسی کام کا ہے تو اس کی ترقی اور کامیابی سے مسلمان خوش نہیں ہوتا،الٹے ایمان فروش،ضمیر فروش اور اسی طرح کے کئ ناموں سے اسے بلایا جاتاہے۔اس کے علاوہ کوئ اگر مسلمانوں کی ترقی کے لئے کچھ کرتا یا سونچتا ہے تو مسلمان اس کے ساتھ بھی،چند نام و نہاد جاہل لیڈران کے بہکاوے میں آکر اس مسلمانوں کے ہمدرد کے ساتھ غداری کر جاتے ہیں۔

مسلمانوں حقوق کے لیے لڑنا ضروری ہے، لڑنے کے لیے پہلے قدم پر احتجاج کرنا ناگزیر ہے۔ بچہ جب تک روتا نہیں، شور مچاتا نہیں، ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔مسلمان صرف واٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے ہی احتجاج کرتے ہیں،جو زیادہ پڑھے لکھے ہیں وہ ٹیوٹر یا انسٹاگرام پر شور مچا کر سمجھتے ہیں کہ فرض پورا ہو گیا ہے۔جو قوم سڑکوں پر آنے کی ہمت نہیں رکھتی اسے حقوق کبھی نہیں ملتے۔جو قوم حق کے لۓ آواز باطل کے خلاف جنگ نہیں کرتی،وہ اپنے اور اپنے کنبے کے لۓ قبریں تیار کرتی ہے۔

 تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوموں نے احتجاج اور دفاع کا راستہ اختیار کیا، وہ بالآخر جیتے۔اگر مسلمانوں کو ریاست اور قومی سطح سے ملنے والے امور میں شرکت کرناہے اپنی اور باقی دوسرے شہریوں کو مشترکہ بھلائی کے حصول کی ترغیب دیناہے اور بات چیت کے ذریعہ کچھ مفادات حاصل کرناہے تو سیاست میں اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث رہنا ہوگا۔ظلم کے خلاف ضرور آواز اٹھائی جانی چاہئے ‘ ہمارے ملک کا دستور بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔

گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میںو

ہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

انبیاء علیہم السلام دین اور سیاست دونوں کے حامل ہوتے ہیں اورخود بھی سیاسی امور میں شریک اور عامل رہتے ہیں، اسلام اس معاملہ میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے، اس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیاسی زندگی کے ہرپہلو پر حاوی اور کفیل ہے، قرآن پاک میں جنگ و صلح کے قوانین و احکام موجود ہیں، کتب احادیث و فقہ میں عبادات و معاملات کے پہلو بہ پہلو ملکی سیاست کے مستقل ابواب موجود ہیں، دین کے ماہر شرعی سیاست کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔

موجودہ دور کی گندی سیاست نے الیکشن اور ووٹ کے لفظوں کو اتنا بدنام کردیا ہے کہ ان کے ساتھ مکر و فریب، جھوٹ رشوت اور دغابازی کا تصور لازم ذات ہوکر رہ گیا ہے، اسی لیے اکثر شریف لوگ اس جھنجھٹ میں پڑنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اور یہ غلط فہمی تو بے حد عام ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی واسطہ نہیں، یہ غلط فہمی سیدھے سادے لوگوں میں اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، اس کا منشاء اتنا برا نہیں ہے لیکن نتائج بہت برے ہیں، یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ دور کی سیاست بلاشبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے، لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا، اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کی جائے جو مسلسل اسے گندا کررہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے،کہ اگر لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام نازل فرمائیں، اگر آپ کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے اور انتخابات میں حصہ لے کر اس ظلم کو کسی نہ کسی درجہ میں مٹانا آپ کی قدرت میں ہے تو اس حدیث کی رو سے یہ آپ کا فرض ہے کہ خاموش بیٹھنے کے بجائے ظالم کا ہاتھ پکڑکر اس ظلم کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کریں(أبوداوٴد شریف۔2/594 )

اس لئے ہمیں ضرورت ہے سیاست میں دلچسپی لینے کی اور اپنا بہترین قائد چننے کی۔اگر اب بھی نہ جاگے تو۔

نہ سمجھوگے تو مِٹ جاؤگے اے ہندی مسلمانوں

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *