أستاذ الجيل مولانا نعيم الدين صاحب مدني رحمه اللہ

أستاذ الجيل مولانا نعيم الدين صاحب مدني رحمه الله

از : محمد أفضل محي الدين

مولانا نعیم الدین صاحب مدنی ہم سے رخصت ہوگئے۔ مولانا کی صحت کے متعلق مسلسل تشویش ناک خبروں نے بے چین کر رکھا تھا۔ بہر حال ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ ہم تو بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ رب کریم انہیں اپنے دامن عفو میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!
مولانا بنیادی طور پر ایک مدرس تھے اور منجھے ہوئے تجربہ کار مدرس تھے۔ مولانا نے اپنے تدریس سے ایک عہد کی بنیاد رکھی ہے۔ ایک نسل کو سنوارا ہے۔ بلا شبہ مولانا استاذ الجیل کہلانے کے مستحق ہیں۔ مولانا کی طرز تدریس کا تو مجھے کچھ زیادہ معلومات نہیں۔ اس لیے کہ جامعہ میں ان سے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ تو ان کے مستفیدین اور تلامذہ ہی بتا سکتے ہیں۔ مشکل امر یہ کہ ہمیشہ میرے حق میں رجعت قہقری ہی آئی۔ مجھے نزھۃ کی سلفی تعلیقات سے روشناس ہونے کا موقع ملا، نہ سراجی کی مدنی تشریح میرے حصے میں آئی۔ مولانا نے کتابیں لکھنے کا بکھیڑا نہیں پالا، بلکہ یکسو ہو کر رجال کی تصنیف میں لگ گئے۔ یکسوئی مولانا کی طبیعت کا حصہ تھی۔ بڑا بننے کا خبط سوار تھا نہ بڑا بننے کی کوشش کی۔ جو بھی ذمہ داری لی خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ ہمارے یہاں معیار بھی عجیب ہے۔ جس نے جس قدر کتابیں لکھیں، اسی کے بقدر اس کا درجہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ رہے وہ جنہوں نے تصنیفِ رجال میں پوری عمر کھپا دی، انہیں معمولی مدرس سے زیادہ کوئی ویلیو ہی نہیں دی جاتی ہے۔ اگر چہ مولانا نے کتابیں تصنیف نہیں کیں، لیکن ہزاروں کتابیں لکھنے والوں کو ضرور پیدا کیا۔ ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے مولانا کے کئی شاگردان نے ادارے اور تنظیموں کی بنیاد ڈالی ہے۔ آج کے دور میں کون بھلا ایک جگہ ٹک کے کام کرتا ہے؟؟ اب تو ایسا کرنے والے بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالی نے مولانا کو بے شمار صبر و استقلال سے نوازا تھا۔ جہاں کی خاک سے کندن بنے، وہیں خود کو فنا کر ڈالا۔
مولانا صاف ستھری طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے یہاں چمچہ گری اور جی حضوری بالکل نہیں تھی اور نہ کبھی جامعہ کے ذمہ داروں سے الجھے۔ ہمیشہ اپنا دامن ان سب چیزوں سے پاک صاف رکھا۔ ذمہ داران نے بھی ایک مدرس سے زیادہ انہیں کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں تھا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے بددل ہوکر جامعہ کو ترک کرنے کا عزم کیا لیکن دیگرے اساتذہ کے سمجھانے پر اس ارادہ سے باز رہے۔
مولانا قناعت پسند انسان تھے۔ ان کی پوری زندگی صبر و شکر سے عبارت ہے۔ میں نے بہتوں کو اشراف و امراء سے شرف نیاز کا توقع لیے ان کے آگے پیچھے پھرتے دیکھا ہے، مگر مولانا کی طبیعت ان سب سے پاک تھی۔ مولانا ایسے لوگوں کے پاس پھٹکتے ہی نہیں تھے نہ ان کا یہ مزاج تھا۔ مولانا جب کبھی بھی بھدوہی آتے ان کا قیام و طعام بڑے ابا (حاجی وکیل صاحب) کے یہاں ہوا کرتا تھا۔
مولانا بہت خوش مزاج انسان تھے۔ جس بھی ماحول میں جاتے، اس میں ڈھل جاتے تھے۔ سب کا احترام کرتے اور سامنے والے کے مقام و مرتبہ کا خاص خیال رکھتے تھے۔مولانا شہرت سے دور تھے۔ گم نامی ان کے طرز حیات میں شامل تھی اور سادگی ان کی پہچان تھی۔ ان کی زندگی کے ہر زاویہ سے نفاست کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ مولانا طلبہ کے نزدیک مقبول بھی تھے اور محبوب بھی۔ ان کے ہم درد بھی تھے اور غم خوار بھی۔ مولانا جامعہ کی پہچان تھے اور جامعہ کے وقار بھی۔
مولانا کی زندگی مختلف مراحل اور تطورات سے گزری ہے۔ طالب علمی کا دور، تدریس کے ایام، شیخ الجامعہ کے منصب پر، پھر جامعہ کے شعبۂ افتاء سے بھی وابستہ رہے۔ مولانا کے زندگی کی ہر ایک کڑی جامعہ سے اس قدر مربوط اور مستحکم ہے کہ دونوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا کی شخصیت ہر دل عزیز تھی۔ ہر ایک سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔ ہر کوئی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ طلبہ کے لیے تو سراپا رحمت تھے۔ ہمیشہ طلبہ کے حق کی بات کی۔ مولانا طلبہ کے مابین جانب داری نہیں برتتے تھے جیسا کہ بعض اساتذہ کو دیکھا گیا۔ مولانا طلبہ سے بلا تفریق محبت کرتے تھے۔ مولانا کی طبیعت میں نرمی تھی۔ طلبہ پر بے جا سختی کرنے کے قائل نہیں تھے۔ عموماً یہ بھی دیکھا گیا کہ جامعہ کے گیٹ پر اساتذہ عصر کے بعد آنے جانے والے طلبہ کی وضع قطع پر نکیر کرتے تھے اور کبھی کبھار سخت سست بھی کہہ جاتے تھے، لیکن مولانا ایسا کرنے سے گریز کرتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ طلبہ کو کبھی ان سے کسی قسم کی شکایت رہی ہو۔
مولانا جامعہ سلفیہ کے ان ابناء میں سے ہیں، جن پر جامعہ کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ مولانا بے ضرر انسان تھے۔ مولانا کے یہاں تکلف تھی نہ علمی آؤ بھاؤ تھا۔ مولانا جامعہ اسلامیہ کے فضلاء میں سے تھے۔ انہیں رابطہ کا اسٹیج بھی ملا۔ مختلف اداروں سے وقتا فوقتاً تدریس کے لیے دعوت نامے بھی موصول ہوئے، مگر مولانا نے جامعہ سلفیہ کو سب پر ترجیح دی۔ یہ مولانا کی جامعہ سے بے پناہ محبت کی دلیل ہے۔
مولانا سادگی پسند انسان تھے۔ تواضع ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مولانا کی پہچان تدریس کے بعد خطابت بھی ہے۔ مولانا نے جامعہ میں قیام کے دوران بنارس اور اس کے قرب و جوار کے اضلاع میں خطبے بھی دیے اور بعض جلسوں میں بھی شریک ہوئے۔ مولانا کی خطابت بہت سادہ ہوتی تھی۔ عموماً مولانا عوامی موضوعات پر خطاب کرتے تھے۔ ان کی طرز خطابت عوامی ذہن سے میچ کرتی تھی۔ انتہائی عام فہم اور سادہ زبان میں گفتگو فرماتے تھے۔ مولانا کے روابط علماء و عوام دونوں سے تھے۔ بہت سی سماجی شخصیات مولانا کی عقیدت کا دم بھرتی تھیں، مگر مولانا نے پیری ومریدی یا فین فالوونگ میں وقت ضائع نہیں کیا نہ کبھی ذاتی مفاد کے لیے کسی کو استعمال کیا۔ مولانا متحمل انسان تھے۔ کبھی کسی کے سامنے رونا نہیں رویا، بلکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرنا جانتے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا مولانا کے متعلق کیا لکھا جائے کیا نا لکھا جائے۔ بس یہی دعا کرتے ہیں کہ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھی مرنے والے میں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون. آمين

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *