وطن عزیز بھیانک تقسیم کے دہانے پر

وطن عزیز بھیانک تقسیم کے دھانے پر

!!!========= =======سہیل لقمان تیمی

آج آپ ہمارا یہ مضمون پڑھ کر حیران ضرور ہو سکتے ہیں، حیران ہونا بھی چائیے! کیونکہ ہمارا ملک ہندوستان ایک بار پھر تقسیم ہونے جا رہا ہے، یا یوں کہیں کہ تقسیم ہو ہی چکا ہے، بس رسمی اعلان ہونا باقی رہ گیا ہے، حالاں کہ اب بھی اس کو تقسیم در تقسیم سے بچانے کا زریں موقع ہمارے پاس ہے. تو آئیے ! ہم آپ کو بتا تے ہیں کہ, کیا ہے پورا معاملہ اور اس تقسیم کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے اسباب وعلل ‫کیا ہیں؟آپ سے عاجزانہ التماس ہے کہ آپ اس چبھتے ہوئے مضمون کو ضرور پورا پڑھیں اور زیادہ سےزیادہ شیئر بھی کریں، کیوں کہ آپ جتنا زیادہ شیئر کریں گے، جتنازیادہ لوگ پڑھیں گے، اورجتنا زیادہ لوگ بیدار ہوں گے،اتنا ہی زیادہ ملک کو تقسیم سے بچانےکا زریں موقع ہمیں ملے گا. ہم جس تقسیم کی بات کر رہے ہیں، وہ کوئی زمینی تقسیم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگو ں کے دلوں کی تقسیم ہے، جو مرور زمان کے ساتھ برق رفتار سے لگاتار بڑہتی ہی جا رہی ہے،یقینا اس کا ایک ہی انجام ہونے والا ہے اور وہ انجام ہے ملک کی تقسیم در تقسیم!!! شاید آپ کو یہ بات چھوٹی لگ رہی ہوگی، لیکن جب آپ انگریزوں کے ہندوستان پر اپنا حق جمانے اور ہم ہندوستانیوں کو غلام بنانے کے اسباب کو جانیں گے تو آپ کو یہ بات چھوٹی نہیں لگے گی. کیا ہیں تقسیم کے اسباب؟آئیے ہم آپ کو ان سے متعارف کراتے ہیں، تاریخ ہند کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم غلامی سے ابھی تک آزاد نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی اس سے پہلے بھی ہم آزاد تھے، جن غلطیوں کی وجہ سے ہم غلام ہوئے تھے ،پھر ملک عظیم ہندوستان , پاکستان اور بنگلہ دیش کی شکل میں الگ الگ ہو گیا, وہی غلطیاں ہم پھر کر رہیں ، آج ہم نے تعاطف و تراحم کی دبیز ردا تار تار کر دی ہے اور ہم پھر سے تقسیم کے سابقہ راستے تنافر پر آ گئے ہیں، ماتم کناں امر یہ ہے کہ اس کو ہمارے لیڈران اور سیاست دان لوگ خوب ہوا بھی دے رہیں،سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے, مذہب, ذات , علاقائیت اور لسانیت شبابیت پر ہیں، ہندو اورمسلم، مراٹھی اور پنجابی، اور براہمن اور ھریجن کی امتیازی سوچ صرف عام ہی نہیں ہوئی ہے , بلکہ گردش ایام کے ساتھ بہت ہی خطرناک بھی بن چکی ہے. غور طلب بات یہ ہے کہ ملک کی متوقع تقسیم کا ذمہ دار کون ہے؟ جب ہم ملک کے موجودہ بھیانک صورت حال کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو ہماری نگاہوں کے سامنے یہ طشت ازبام ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا ذمہ دار تو ہم اور آپ خود ہیں، آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہم اپنی سطحیت کے خول سے باہر نکلنے کا نام تک نہیں لے رہے ہیں، پتا نہیں اس میں ہم کون سی مرتبت و عظمت کا مسئلہ ڈھونڈ بیٹھے ہیں،اور ہم شب و روز خود کو یہی باور کرانے میں کوشاں ہو گئے ہیں کہ، میں ہندو ہوں، میں مسلمان ہوں، میں دلت ہوں، میں ٹھاکر ہوں، میں براہمن ہوں، میں مراٹھی ہوں ، میں بھییا ہوں اور میں پنجابی ہوں، حالاں کہ اگر ہم ان سب کے برعکس خود کو ہندوستانی باور کراتے تو کیا ہی خوب ہوتا، لیکن میں یقین کامل کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ ہم ذاتیات، لسانیات، علاقائیات اور مذہبیات کی قبا چاک کرنے والے ہیں اور نہ ہی ہم خود کو ہندوستانی کہلوانے والے ہیں. کیوں کہ ہم نے اپنے سیاسی لیڈران سے خود کو ہندوستانی کہلوانے کا سبق سیکھا ہی نہیں! ہمارے ملک کے اکثر سیاسی لیڈران تو ایسے انتہا پسند ہیں جو ملک میں انتہا پسندی کو ہوا دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ہیں، ان کی اشتعال انگیزیوں نے ملک کو متزلزل کر کے رکھ دیا ہے، بلکہ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ملک عبرت ناک تقسیم کے دھانے پر کھڑا ہے،جس کی پیش قیاسیاں ملکی و غیر ملکی مبصرین نے بھی کر دی ہیں اور تقسیم کی ہلاکت خیزیوں کو بھی آشکار کر دیا ہے. میں یہاں ہمارے ملک کے کچھ سیاسی لیڈران کا نام لینا چاہتا تھا جو ذاتیت اور مذہبیت کے نام کا افیون عوام کو کھلانے میں محو ہیں اور ہمیں آپس میں لڑانےکا کام کرتے ہیں، لیکن حالات کی سنگینی کا مشاہدہ کر کے میں ایسا کرنے سے گریزاں رہتا ہوں. ملک کے مذکورہ خونچکاں حالات کا عینی مشاہدہ کر کے میرا دل مرغ بسمل سا تڑپ رہا ہے,اور مجھ نادان سے بار بار یہ دریافت کر رہا ہے کہ ان سب کا بہتر حل کیا ہو سکتا ہے,اور وہ کون سے طریق ہائے کار ہیں جن کو اختیار کر کے وطن عزیز کی سالمیت کو زندہ و تابندہ رکھا جا سکتا ہے؟؟ تو آئیے !! ہم وطن عزیز کو بھیانک تقسیم سے بچانے کے لئے کچھ دیر کے لئے غور و فکر کرتے ہیں، تاکہ ہمارے اذہان میں ملک کی سالمیت کے لئے چند تجاویز آ جائیں جنہیں عملی جامہ پہنا کر ہم اپنے عزیز وطن کو بھیانک تقسیم سے ہمیشہ کے لئے بچا لیں،ملک کو تقسیم سے بچانے والی چند تجاویز پیش خدمت ہیں. 1: ہمیں سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ اشتعال انگیز پوسٹ ملتے رہتے ہیں، لیکن ہم انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں, ایسا نہ کر کے ہمیں فیس بک یا متعلق ویب سائٹ کو وہ پوسٹ رپورٹ کرنا چائیے, جس سے فیس بک پوسٹ کرنے والے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کر سکے، 2: انتخابات میں اپنی تشہیر کےلئے ریلی والے نظام پر پابندی عائد کی جانی چائیے، اب ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، سیاسی پارٹیاں اپنی تشہیر پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی مدد سے کر سکتی ہیں، اس سے ملک کا پیسہ اور نوجوانوں کا وقت بچے گا,تشہیر کرنے والا امیدوار میڈیا کی زیر نگرانی ہونے کی وجہ سے اس طرح مشتعل نہیں ہوگا، جیسا کہ وہ عام ریلیوں میں ہوا کرتا ہے، 3: اگر انتخابی ریلیوں پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے تو ہمیں عزم مصمم کر لینا چائیے کہ ہم کسی بھی ریلی کا حصہ نہیں بنیں گے، 4: ہمیں ایک دوسرے کے مذہب اور ذات کو اہمیت دینا چائیے، 5: ایک دوسرے کے رسم وراج کی تعظیم کرنا چائیے، 6: ایک دوسرےکی برائیوں کو دیکھنے کی بجائے، ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھنا چائیے، 7: ہمارے ملک کے سبھی قدرتی اور سماجی چیز یا جگہ پر یہاں کے ہر ایک شہری کا حق ہے، کوئی بھی کسی کو کسی بھی جگہ پر جانے سے روک نہیں سکتا ہے، 8: کوئی کہتا ہے , ہندو دہشت گردی کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے مسلم دہشت گردی کرتے ہیں، کوئی براہمن کو مجرم بتا رہا ہے، تو کوئی دلت کو، اس سے ہم سب کو بچنا چاہیےاگر ہم نے مذکورہ تجاویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا تو یقین جانیں کہ ملک مخالف طاقتیں اس کا فائدہ ضرور اٹھائیں گی اور وطن عزیز ہندوستان ایک مرتبہ پھر سے بھیانک تقسیم کا شکار ہوگا ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ وطن عزیز کی سالمیت بر قرار رہے تو آپ کو ہر حال میں خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا اور آپ کو نفرت کے سوداگروں کا گلا ہمیشہ کے لئے گھونٹا پڑے گا ،کیوں کہ اگر آپ نے ایسا کرنے میں تھوڑی سی بھی تاخیر کر دی، تو آپ کو اس کا خمیازہ ملک کی تقسیم کی شکل میں ہمیشہ ہمیش کے لئے بھگتنا ہوگا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *