حیات ابراہیم علیہ السلام کا تربیتی پہلو

قسط :۲

تحریر ✍✍✍:عبدالمالک رحمانی

متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ

کلیۃ الحدیث والدراسات الاسلامیہ20

اگست 2019م 19 ذی الحجہ 1440هـ_____________________________ *قارئین کرام!* أبو الانبیا امام الموحدين سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا تعارف، مقام و مرتبہ اور شخصیت کے حوالے سے گذشتہ سطور کے اندر آپ نے ملاحظہ کیا اب ہم اپنے اصل موضوع پر داخل ہوتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا تربیتی پہلوسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جس ماحول میں اپنی آنکھ کھولی وہ جہاں شیطانی وساوس کا شکار تھا وہیں بادشاہ کے جبر کا بھی یعنی ایک تو خوشی خوشی شرک و بت پرستی میں ملوث تھا اور کچھ جبرا لیکن ابھی مقام نبوت پر فائز بھی نہیں ہوئے اس کے باوجود قدرتی مناظر کا مطالعہ کرکے ان پر غور و فکر کیا اور رب العالمین کی معرفت حاصل کر لی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام کے اندر کیا ہے فرمایا “فلما جن عليه الليل رأى كوكبا قال هذا ربي فلما أفل قال لا أحب الآفلين، فلما رأى القمر بازغا قال هذا ربي فلما أفل قال لئن لم يهدني ربي لأكونن من الضالين، فلما رأى الشمس بازغة قال هذا ربي هذا أكبر فلما أفلت قال يٰقوم إني بريئ مما تشركون، إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا و ما أنا من المشركين. “گویا غور و فکر کیا اور رب العالمین کی معرفت حاصل کر لی اس طرح اس سے ایک بات کی تعلیم ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا زندگی میں سب سے اہم کام ہے جیسا کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے “”إنك تأتي قوماً أهل كتاب فليكن أول ما تدعوهم إليه شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمداً رسول الله”(صحيح مسلم :19)فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ(صحيح البخاري :1458)ان دونوں روایتوں کے اندر واضح طور پر موجود ہے کہ ایک بندے پر پہلا واجب یا سب سے پہلے جو چیز سیکھنے سکھانے کے لیے اہم توحید ہے اور اگر غور کریں تو مزید واضح ہوگا کہ آیت کا مفہوم بتا رہا ہے کہ یہ معاملہ قوم کے سامنے پیش آیا تھا اور قوم کی رہنمائی کی چاہت لیے ہوئے انہوں نے قوم سے کہا کہ “اني بريئ مما تشركون” کہ میں ان سے بری ہوں جنہیں تم شریک کرتے ہو بلکہ میں تو اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی اور اس کے ساتھ میں شرک نہیں کرتا،لوگوں نے حجت کی، مخالفت کی لیکن کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ برملا کہا کہ تم اس رب کے بارے میں مجھ حجت بازی کرتے ہو جس نے مجھے ہدایت دی، رہی بات تمہارے ان شرکا کی تو مجھے ان سے کوئی خوف نہیں، اور میں کیوں خوف کھاؤں جبکہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے ہو جبکہ اس پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، گویا یہاں جو تربیتی وہ یہ کہ جب ایک داعی الی اللہ دعوت کا کام کرے تو ڈرانے اور دھمکانے والوں کی تعداد سے گھبراہٹ کا شکار نہ ہو بلکہ اپنے مشن پر مطمئن ہو اور متانت و سنجیدگی سے اور ہوش میں رہ کر مخالف کو اسی کی دلیل سے اس کے خلاف دلیل جمع کرے اور حاضر جواب اور بیدار مغز رہنا ایک داعی الی اللہ کے لیے ضروری ہے نیز معاملہ کی سنگینی و سنجیدگی سے واقف بھی ہو اور مقابل کی ذہنی قابلیت کا بھی علم ہو تب جا کر بات اس کے ذہن سے اترے گی اور قبولیت کی طرف توجہ ہوگا ایک آخری بات کہ جو بھی بات کریں وہ دلائل سے مزین ہوں جیساکہ یہاں ابراہیم علیہ السلام نے قوم کے سامنے ان کے باطل خیالات و عقائد کا رد دلائل سے کیا. یہ تو دعاۃ الی اللہ کے لیے تربیتی پہلو تھے لیکن ایک عام آدمی کے لیے جو پیغام و تربیت یہاں موجود ہے وہ یہ کہ اولین ترجیح عقیدہ توحید سیکھنے اور اس کی اصلاح کی فکر ہونا ایک مسلم کے لیے ضروری ہے اس لیے اولا عقیدہ توحید سیکھیں اس کی فہم حاصل کریں اور اس کی اصلاح کی فکر کریں.اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور عقیدہ کی سلامتی عطا فرمائے آمین*______جاری ______**_____فی امان اللہ _____*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *