وطن عزیز ہندوستان:اور مسلم سماج کی ذمہ داریاں

وطن عزیز ہندوستان:اور مسلم سماج کی ذمہ داریاں

(عبید نظام(گروپ ایڈیٹر اڑان نیوز

عقلمند انسان جب کبھی بولتا ہےاور کوئی قدم اٹھاتا ہے تو ہزار بار سوچتا ہے کہ میرا یہ قدم میری یہ بات صحیح ہے یا نہیں اس کا انجام و نتیجہ کیا نکلے گا کیونکہ ذریں اصول ہے جیسا کریں گے ویساہی بھریں گے اور ایک بات آئینہ کہ سامنے جیسی شکل بنائیں گے عکس ویسا ہی نظر آئے گا۔خیر اب ہم بات کرتے ہیں دنیا کہ سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کے اندر اقلیت کے طور پر زندگی گزارنے والے مسلم سماج وقوم کی جو آج اپنے وجود کی بقاء کے لیئے در در بھٹک رہی ہے کوئی سننے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی دلاسہ دینے والا نہیں سبھی اس قوم کے دشمن بنے ہوئے ہیں عدالت نے ماب لنچنگ کے شکار مسلم مقتول کے تمام ملزمان کو باعزت بری کردی جب کہ کہ اس کی بہیمانہ قتل کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر افشاں ہوچکا تھا سبھی نے اس کو دیکھا تھا، ہندوستانی جمہوریت نے مسلم قوم کے عائلی قوانین جس پر عمل کرنے کی چھوٹ دی تھی اس پر بھی حکومت کے ایوان بالا نے تالا لگا دیا اور کتنے ہی واویلا کہ بعد طلاق ثلاثہ (طلاق بدعت) کو منسوخ اور قابل جرم عمل قرار دیا گیا جو کہ شریعت سے سیدھا ٹکراؤ ہے۔ اور بہت سارے مسائل ہیں جن کو شمار کرنا سوائے وقت بربادی کہ اور کچھ نہیں۔ اب ہم بات کرتے ہیں یہ سب مسائل کیسے پیدا ہو گئے کیا اچانک سے ایسا کچھ ہوا؟ نہیں یہ کچھ سالوں میں مسلم قوم کے کچھ شدت پسند اور نا عاقبت اندیش لوگوں کہ غلط رویہ اور غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ ملک عزیز ہندوستان جس کی آزادی کے لیئے تمام لوگوں نے مل کر انگریزی سامراج کو یہاں سے بھگایا لیکن بدقسمتی کہیے کہ ہمارا ملک ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جو لوگ پہلے مل کر لڑے تھے اب ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ہزاروں جانیں برباد ہو گئیں۔ اور مسلم سماج جسے آزادی تھی کہ وہ اپنے خود ساختہ مسلم ملک پاکستان چلے جاتے لیکن وہ نہیں گئے اور اپنی مرضی سے اس ملک ہندوستان کو اپنا وطن تسلیم کر لیا اس فیصلہ کو ہندوستان کا ایک طبقہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا نہ تب اور نہ اب۔ چلیے اب ہم بار کرتے ہیں مسلم قوم کی جنہوں نے اس ملک کو اپنا ملک تسلیم کر لیا تو اب ان کے لیئے سب کچھ یہی ہے جینا بھی یہاں ہے اور مرنا بھی یہاں کیونکہ ان ہوں نے خود چنا ہے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ اس ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیےسرگرداں رہیں اور پوری ایمانداری اور دیانت داری سے وطن کو سینچیں۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا مسلم اقلیتوں نے سوچنے کا دو اصول بنا لیا اچھا ہندو اور برا ہندو، جسے ذہن نے اچھا کہا اس سے دوستی اور جسے برا تصور کیا اسے دشمنی یہی سب سے بڑی امتیازی غلطی ہوئی مسلمانوں سے اور اس قوم نے خام خیالی میں یہ کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ جسے ہم دشمن تصور کر رہے ہیں کل کو اگر باگ ڈور اس کے ہاتھ میں چلی گئی تو انجام کیا ہوگا کچھ ایسے ہی غلطیوں کی سزا مل رہی ہے مسلم قوم کو۔میرا یہ نہیں کہنا ہے کہ حکومت جو ابھی مسلمانوں کے ساتھ سلوک کر رہی ہے وہ صحیح ہے بلکہ یہ غلط ہے ہم اس کی تنقید کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو ایسے نازک وقت میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے اور نہ تو کسی سے زیادہ دوستی کریں اور نہ ہی دشمنی اسی میں بھلائی ہے

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *