دارالقضاء کا نظام مستحکم کرنا دور حاضر کی اہم ترین ضرورت۔ مفتی ریاض احمد قاسمی

دارالقضاء کا نظام مستحکم کرنا دور حاضر کی اہم ترین ضرورت۔ مفتی ریاض احمد قاسمی


موتیہاری: ذیشان الہی
دارالقضاء امارت شرعیہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات سلام نگر، موتی ہاری کے زیر اہتمام دارالقضاء کی آفس میں 16 دسمبر2021 کو منعقدہ افتتاحی واستقبالیہ پروگرام کی کامیابی کے تناظر میں ایک تشکرانہ نشست بعد نماز ظہر زیر صدارت مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی، قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات سلام نگر موتی ہاری منعقد ہوئی۔ قاری محمد نورعالم سگولی کی تلاوت اور مولانا علی اکبر مظاہری کی کی نعت النبی کے ذریعہ پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس نشست کی نظامت مولانا محمد ارشد قاسمی نے انجام دی۔ دور حاضر میں دارالقضاء کا نظام نہایت ہی عمدہ قدم ہے۔ پورے انڈیا میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر نظام دارالقضاء کو چلایا جا رہا ہے۔ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ پوری کوشش ہے کہ دارالقضاء کی توسیع کی جائے۔ دارالقضاء کا نظام مستحکم کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر کوشش کرنی ہوگی۔ اور عوام الناس کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے تمام تر عائلی، ملی، سماجی اور دینی مسائل میں دارالقضاء سے رجوع کریں۔ اس کے ذریعہ بہت ہی کم وقت اور بغیر کسی لاگت کے مسایل کا حل کیا جاتا ہے۔ موتی ہاری جیسے قدیم شہر میں دارالقضاء کا افتتاح ایک مستحسن عمل ہے جس کے لئے باشندگان موتی ہاری حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر مجلس حضرت مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ موتیہاری نے کہا نے مزید کہا کہا کہ ہماری شناخت شریعت مطہرہ پر عمل کرنے میں ہے۔ اس کے بغیر کامیابی وکامرانی ممکن نہیں ہے۔ نامور صحافی جناب عزیر انجم نے کہا کہ دارالقضاء کا قیام ملت اسلامیہ کو متحد کرنے اور آپسی نزاع، تکرار اور فساد کو دور کرنے کا بہت اہم وسیلہ ہے۔ دارالقضاء سے عوام الناس کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے ذریعہ پورے بہار و جھارکھنڈ میں70 سے زیادہ پورے آب و تاب کے ساتھ کام کررہا ہے۔ ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس نشست میں شرکاء مجلس سے مخاطب ہونے والوں میں مولانا ثناء اللہ، مولانا برکت اللہ مظاہری، مولانا سعید اللہ، مولانا احسان اللہ مظاہری، مولانا سلام الدین قاسمی، مولانا ابوالکلام، ساجد حسین، ڈاکٹر منت اللہ، اقبال مکھیا سسونیا وغیرہم قابل ذکر ہیں۔
موتی ہاری اور اس کے مضافات سے بڑی تعداد میں علماء، ائمہ، سرکردہ حضرات ودانشوران قوم ملت نے شرکت کی۔ ان میں سے محمد نعیم الحق ندوی، مولانا ذاکر حسین، مولوی آفتاب عالم ہرمنی، حاجی رفیع احمد، قاری ذاکر حسین، حاجی عبد القیوم، وصی اختر، مولانا محمد جیلانی قاسمی، ارشد مکھیا سندرپور، ارشد مکھیا ھرمنی، نورالہدی سگولی اور نوشاد عالم سرپنچ ہرمنی وغیرہم قابل ذکر ہیں۔
مولانا بدیع الزماں مظاہری امام وخطیب جان پل مسجد موتی ہاری کی رقت آمیز دعاء پر نشست کا اختتام ہوا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *