سال گزشتہ: کچھ یادیں کچھ باتیں


*سال گذشتہ :کچھ یادیں کچھ باتیں*

عبد المبین بن محمد جمیل

آج جب یہ حروف رقم کررہا ہوں سال ٢٠٢١ اپنے آخری مرحلہ میں ہے کچھ ہی لمحوں میں اس سال کا کلینڈر بھی در و دیوار سے اتر کے تاریخ کے اوراق کا ایک ایسا حصہ ہوجاٸیگا جو مورخ کے قلم کا محتاج ہوگا یا مورخ کا قلم اس کا محتاج ہوگا جہاں یہ سال افسردگی اور غموں کا ایک لامتناہی سلسلہ چھوڑ کر جارہا ہے تو وہیں تاریخ کے صفحات پر کچھ انمٹ نقوش بھی چھوڑ رہا ہے آخر یہ تاریخ کا حصہ نہیں تو اور کیا ہے کہ اس سال دنیا کا ایک ایسا شخص تخت حکومت سے معزول ہوا جسکی موجودگی فرقہ پرستوں کے حوصلوں کو مہمیز کرتی رہی جسکی شرپسندی سے دنیا کے لوگ پریشان تھے بالآخر تازیانہ قدرت نے اسکے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر بتا دیا کہ یہاں ہر عروج را زوالِ کے مصداق بڑے بول کا سرنیچا ہوتا ہے
دوسری طرف اسی سال لوگوں نے دیکھا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے سربراہ اعظم کو خلیج بنگال کے طوفان نے اپنی زد میں لیا جب وزیر اعظم بشمول سیکڑوں وزرإ اپنے ہم نواٶں کا لشکر جرار اور کیل کانٹوں سے مسلح ایک کثیر فوج لیکر ممتا کے گھر اور بنگال کے پایہٕ تخت پر قابض ہونے کے لٸے دلی سے روانہ ہوۓ تھے ابھی اس طوفان کی زد سے باہر بھی نہیں آپاۓ اور نہ ہی اس شکست کا زخم ہرا ہوا تھا کہ اپنے ہی ہاتھوں کھڑی کیل کانٹوں سے لیس دیوار {کسانوں کو بے دست و پا کردینے والے زرعی قوانین کی واپسی}کو منہدم کرنا پڑا اور اس پر انکی جو سبکی ہوٸ وہ جگ ظاہر ہے

ہاتھ اسکے بھی ہوۓ ہونگے یقینا زخمی
جس نے کانٹے مری راہوں میں بچھاۓ ہونگے

یہ سال اس واسطے بھی یا رکھا جاٸیگا کہ کورونا واٸرس کی دوسری لہر نے بے شمار لوگوں کو اپنوں سے ناگہاں جدا کردیا اور سیکڑوں قسمت کے ماروں کو بے گوروکفن درندوں اور پرندوں کی خوراک بنادیا ۔اسی سال چشم فلک نے گنگا کے کنارے حکومت کی بے حسی بیاں کرتی بے گورو کفن نعشوں کی تصویرں بھی دیکھیں اور بروقت مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے اپنوں کو کھودنیے والوں کی چیخ وپکار بھی سنیں قانون قدرت کے سامنے وقت کے مسیحاٶں اور سورماٶں کی آنکھوں میں بے بسی کاوہ منظر ابھی تک نگاہوں میں گردش کررہا جب دنیا کی ساری اساٸشیں جمع کرنے والے ایک مہلک واٸرس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے تھے

بہرحال : ایام کی یہ گردش اور ماہ وسال کی آمد ورفت نے سن ٢٠٢١ کو کٸ لحاظ سے افسردہ کردیا کسان جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں سال گذشتہ نے انکی قربانی کو تاریخ کے سنہرے ابواب میں جگہ دی کیونکہ ماہ اکتوبر میں لکھیم پور کھیری کے افسوسناک سانحہ اور اس پر حکومت کی سردمہری اوپر سے مہنگاٸ اور بے روزگاری نے عوام الناس میں ایک طرح کا غم وغصہ بھر دیا ہے جو اقتدار کی تبدیلی پر ہی ختم ہوا چاہتا ہے

اسی سال کے اختتام پر سی ڈی یس وپن راوت کی حادثاتی موت بھی ہوٸ یہ حادثہ 8 دسمبر کو پیش آیا جس میں سی ڈی یس سمیت ١٤ افراد لقمہ اجل بن گٸے یہ ایسی نہایت افسوسناک اور عبرت خیز حادثاتی موت تھی جس نے ہر کس وناکس کو یہ سبق لینے پر مجبور کردیا کہ قدرت کی گرفت اور موت کے آہنی چنگل سے کوٸ راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا گرچہ وہ محفوظ پناہ گاہ میں ہو
ہاں اگر سقوط کابل کا معجزاتی واقعہ ذکر نہ کیاجاۓ تو اس سال کے ساتھ ناانصافی ہوگی ہوا یوں کہ سال گذشتہ کی جس خبر نے افغانستان سے باہر رہنے والوں کو چونکایا وہ افغانستان میں خون خرابے کے بغیر اقتدار کی منتقلی اور دو دہاٸ بعد طالبان کی اقتدار میں واپسی
خیر واقعات ، حادثات اور سانحات کے وزن سے بھاری ہوجانے کے باوجود یہ سال رخصت ہوا چاہتا ہے کہ ہرسال کا یہی انجام ہوتا ہے اس تحریر کا بین السطور اب سال کے جانے پر ہم سب کو اپنے محاسبہ پر ابھار رہا ہے کہ کتنا وقت تعمیری سرگرمیوں میں صرف ہوا اور کتنا غیر تعمیری مشاغل کی نذر ہوا
درحقیقت ماہ و سال کا گزر جانا اہم نہیں ہےاہم ہے زندگی کے بیش قیمتی ایام کا یونہی لایعنی و بے مقصد خواہشات کے پیچھے پڑ کر گنوا دینا
صحافی شاہد لطیف لکھتے ہیں “نہ تو سال اہم ہے اور نہ ہی کلنڈر کی تبدیلی. اہم وقت ہے جو سال، مہینہ، ہفتہ، دن ،رات، گھنٹہ، منٹ اور سکینڈ کے قالب میں ڈھل کر مستقبل کے خزانے سے وارد ہوتا ہے ،حال کی زنبیل میں قدم رنجہ ہوتا ہے اور پھر ماضی کے تابوت میں دفن ہوجاتا ہے مستقبل سے حال اور حال سے ماضی ہوجانے کا یہ عمل اتنی پابندی اور سرعت کے ساتھ جاری رہتا ہے کہ انسان مستقبل وحال وماضی سے بے خبر ہوجاۓ تب بھی یہ عمل نہیں رکتا وقت کی سرشت میں گزر جاناہے وہ گزر کر رہتا ہے البتہ گزرنے کے عمل کو کارآمد اور غیر کارآمد بنانے کا اختیار انسان کے پاس ہوتا ہے جو اس اختیار کے ذریعہ اپنی زندگی کو جنت یا جہنم بناتا ہے یا خود ‘ اعراف ‘کے قریب پاتا ہے

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *