حسد کی آگ میں جھلستا ہوا سماج

حسد کی آگ میں جھلستا ہوا سماج ،
ازقلم ۔۔ ابو الطیب محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین محمدی ،
حسد کیا ہے؟ حسد یہ کہ کینہ پرور کسی سے نعمت خداوندی کے ختم ہونے کی آرزو کرۓ ۔ خواہ وہ نعمت محسود (جسے حسد لگ جائے) سے چھنکر حاسد کے پاس پہنچے یا نہ پہنچے ، امام ماوردی رحمہ اللہ کہتے ہیں ادب الدنیا والدین میں ، حسد کی حقیقت یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس نعمتیں اور ان کی اچھی حالت دیکھکر تڑپ جاۓ اور انتہائی حزن وملال میں مبتلا ہو جائے ،
محترم قارئین : آج سماج و سوسائیٹی میں حسد کی آگ لگی ہوئی ہے ، پورا معاشرہ حسد کی آگ میں جھلس رہا ہے ، حسد وحقد یہ معاشرہ کی عام سی بیماری ہوگئی ہے ، حسد کی یہ گندگی ، حقدوضغن کی یہ سنڈاسیت وغلاظت عوام تو عوام خواص اور علماء تک میں پائی جاتی ہے ، ایک دوسرے کی ترقی دیکھی نہیں جاتی ، کسی کو اچھی سروس مل گئی دوسرا جل بھن کر کباب ہوگیا ، کوئی اچھا کھا پی رہا ہے تو دوسرا حسد کررہا ہے، ایک شخص اچھا مکان تعمیر کرلیتا ہے تو دوسرا جلنے کڑھنے لگتا ہے ، ایک شخص دعوتِ دین کا کام کررہا ہے تو حسد وبغض کی حدوں کو پار کرتے ہوئے اسکی نیتوں پر شک کیا جارہا ہے ، کوئی منتظم ومدبر ہے اور اس کے ذریعہ امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو دوسرا اس کے نقائص ومعائب کی تلاش میں لگا ہے ، حسد وحقد کے زہر سے پورا معاشرہ نیم جان ہے، حسد وبغض انتہائی خطرناک بیماری ہے، اسکے نتائج حددرجہ بھیانک والمناک ہے ، حسد سے تشتت طبع ہوتا ہے اور اجتماعیت میں دراڑ پیدا ہوتا ہے،اس سے رشتے دار کٹتے وٹوٹتے ہیں ، روابط کا انقطاع ، باہمی محبت وبھائی چارگی کا انہدام بھی حسد کی وجہ سے ہوتا ہے ، سرپھٹول لڑائی دنگا وفساد کاباعث ہے بغض وشحناء ،حسد وجلن ، میرے خیال سےنفرت کی آگ جو لگی ہوئی ہے سماج میں وہ رہین منت ہے حسد و حقد کا ،
جس دل کے اندر حسد وبغض ہو اس دل میں نفرت ،دشمنی ،کمینہ پنی ،کینہ وکپٹ ، بدگمانی ، چغلخوری ،لن ترانی ،تبرابازی ، جاسوسی خودپسندی تعلی انا وغیرہ پلتا ہیں، حسد یہ ایسا زہریلا کیڑا اور فتاک مرض ہے جو سماج کو کھوکھلا کئیے جارہا ہے ، طالب طالب سے جل رہا ہے ، عالم عالم سے جل رہا ہے، کوئی کسی کودیکھ نہیں پاتا ، کوئی کسی کی نہیں سنتا ،کوئی کسی کی نہیں مانتا ، قریہ قریہ ،قصبہ قصبہ شہر شہر ،گاؤن دیہات وجھوپڑا ہر جگہ ہر سمت ، نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ، حسد کی چنگاریاں پورۓ معاشرے کے جسم کو شعلہ زن کر رکھا ہے، آئیے ذیل کے سطور میں ہم نصوص شرعیہ سے ثابت کریں گے اسکی قباحت وشناعت کو ،پھر اسکے علاج بھی پیش کریں گے ،

مؤمن حاسد نہیں ہوسکتا : کیا دلیل ؟ اللہ کا فرمان ہے ، لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (8) وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورة الحشر ٨۔٩)علامه ابن كثير رحمه الله ںے تفسیر القرآن العظیم میں اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ “ولا يجدون في أنفسهم حسداً للمهاجرين فيما فضلهم الله به من المنزلة والشرف والتقديم في الذكر والرتبة “یعنی انصار اپنے مہاجرین بھائی کے سلسلے میں اپنے دل میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے،

حسد دل سے ایمان کو بھگاتا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “لا يجتمعان في قلب عبد : الايمان والحسد،(أخرجه النسائى ٣١١١) یعنی حسد اور ایمان کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد وبغض کی مذمت بیان کرتے ہوئے اسے سابقہ امتوں کی بیماری بیان فرمایا ، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دب إليكم داء الامم قبلكم :الحسد والبغضاء هى الحالقة لا أقول تحلق الشعر ولكن تحلق الدين (جامع الترمذي ، صفة القيامة، باب في فضل صلاح ذات البين ) تمہارے اندر پہلی امتوں والی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئ ہے ، آپس میں بغض رکھنا مونڈنے والی بیماری ہے ،بالوں کو مونڈنے والی نہیں بلکہ دین کو مونڈنے والی یعنی ختم کر دینے والی ہے ،
جو شخص اپنا دل صاف رکھے اور کسی سے حسد نہ کرۓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے افضل الناس (سب سے افضل) قرار دیا ہے ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،” عن عبد الله بن عمرو قال: قيل لرسول الله ﷺ: أي الناس أفضل؟ قال: كل مخموم القلب، صدوق اللسان قالوا: صدوق اللسان نعرفه، فما مخموم القلب؟ قال: هو التقي النقي، لا إثم فيه ولا بغي، ولا غل، ولاا حسد(سنن ابن ماجه ،الزهد ، باب الورع والتقوي ،ح ٤٢١٦:وينظر الصحيحة للألبانى ح:٩٤٨) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ،سب سے افضل کون ہے ؟آپ نے فرمایا “ہر وہ شخص جو مخموم القلب اور صدوق اللسان ہو ، صحابہ کرام نے کہا ہم صدوق اللسان کا مفہوم تو جانتے ہیں مخموم القلب کون ہوتا ہے ؟ آت نے فرمایا ، وہ شخص جسکا دل خوب صاف ہو ، اس میں گناہ بالکل نہ ہو ،نہ سرکشی کا مادہ ہو ،نہ خیانت ہو اور نہ حسد ،
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں “وسورة الفلق فيها الاستعاذة من شر المخلوقات عموما وخصوصا، ولهذا قيل فيها برب الفلق، وقيل في هذه برب الناس فان فالق الاصباح بالنور يزيل بما في نوره من الخير ما في الظلمة من الشر ، وفالق الحب والنوى بعد انعقادهما يزيل ما في عقد النفاثات ، وکذالك الحسد هو من ضيق الانسان وشحه لا ينشرح صدره لانعام الله عليه فرب الفلق يزيل ما يحصل بضيق الحاسد وشحه ، وهو سبحانه لا يفلق شيئا إلا بخير فهو فالق الاصباح بالنور الهادى والسراح الوهاج الذي به صلاح العباد ، وفالق الحب والنوى بأنواع الفواكه والاقوات التى هي رزق الناس ودوابهم ،والانسان محتاج الى جلب المنفعة من الهدى والرزق وهذا حاصل بالفلق ،والرب الذي فلق للناس ماتحصل به منافعهم يستعاذ به مما يضر الناس فيطلب منه تمام نعمته بصرف المؤذيات عن عبده الذي ابتداء بانعامه عليه، وفلق الشئ عن الشئ ،هو دليل على تمام القدرة ،واخراج الشئ من ضده كما يخرج الحي من الميت ، والميت من الحي ،وهذا من نوع الفلق ، فهو سبحانه قادر على دفع الضد المؤذي بالضد النافع ،
بحواله ،دقائق التفسير الجامع لنفسير الامام ابن تيمية ٦/٤٩٨( اس لمبی کا مختصرمفہوم یہ ہے :
سورۂ فلق میں تمام مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ، اسلئے اس میں۔ رب فلق ۔ کہا گیا، اس لیے کہ فلق کا معنی ہے پھاڑنا ، جسطرح اللہ تعالیٰ کا نور خیر ظلمت شر کو پھاڑتا اور مٹاتا ہے ، جسطرح اس کے حکم سے دانہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتا ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ پھونگ مار کر سحر وجادو کے عملیات کرنے والوں کے عمل کو باطل کردینے اور مٹادینے پر قادر ہے ، اسی طرح حاسد کے حسد کے شر کو محسود سے دور کرنا اس ذات پاک کے لئے انتہائی آسان ہے، تو حسد بھی انسان کے دل کی سنگینی اور سینے کے بخل کی وجہ سے ہوتا ہے کہ حاسد اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں سے نوازے تو ۔ رب فلق ۔ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے حاسد کے دل کی تنگی کو دور فرمائے اور اس کے سینے کو کشادہ فرماے ،اللہ تعالیٰ خیر کے ذریعہ سے ہی شر کو دور فرماتا ہے)
قاضی شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوقات کے شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے ،پھر کچھ شرور یعنی اندھیرا ،پھونکنے والیاں اور حاسد کو بطور خاص ذکر فرمایا اگرچہ یہ بھی عام شرور کے تحت داخل تھے ، کیونکہ ان شرور کا ضرر اور نقصان بہت زیادہ ہے ، اسلئے ان کو مستقل شر شمار کرکے ان سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا،
ماوردی رحمہ اللہ نے ادب الدنیا والدین کے صفحہ ٤٣١ میں فرمایا کہ ” الحسد أول ذنب عصى الله تعالى به في السماء يعنى حسد ابليس لآدم ،وأول ذنب عصى الله به في الأرض يعنى حسد قابيل ابن آدم لأخيه حتى قتله ،(بعض سلف فرماتے ہیں کہ حسد وہ گناہ ہے جسکی وجہ سے آسمان میں سب سے پہلے اللہ کی نافرمانی کی گئ اور زمین میں سب سے پہلے اس گناہ کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کی گئ کہ آسمان پر ابلیس نے حضرت آدم کو فرشتوں کے ذریعہ سجدہ کراکر جو عزت واکرام سے نوازا گیا اس سے حسد کی آگ میں جل بھن گیا اور زمین پر حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد قی وجہ سے قتل کیا ،
عوف بن ابی جمیلہ کہتے ہیں کہ میں نے وہب بن منبہ کی کتاب میں لکھا ہوا دیکھا کہ حاسد کی تین علامات ہیں ، سامنے ہوتو خوشامد کرۓ گا ، پیٹ پیچھے غیبت کرۓ گا اور آپ کی مصیبت پر وہ خوش ہو جائے گا ،
ابن ابی عائیشہ فرماتے ہیں کہ حسد کا کم ازکم نقصان یہ ہے کہ حاسد کا دل ہمیشہ جلتا رہتا ہے ، مگر اس جلن سے اس کے دشمن یعنی محسود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ، ہم نے حاسد سے بڑا مظلوم قسم کا ظالم کبھی نہیں دیکھا کہ حسد کرکے خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ، تو ظالم بھی خود ہے اور مظلوم بھی خود ہے،
ابو حازم المدینی کا قول ہے کہ ” ليس للملوك صديق ولا لحسود راحة ،والنظر في العواقب يفتح العقول “بادشاہ کا کوئی دوست نہیں ہوتا ، حاسدوں کو راحت اور چین نصیب نہیں ہوتا اور انجام پر نظر کرنا عقلوں کو کھول دیتا ہے ،
مستفاد از کتاب ادب الدنیا والدین للماوردی صفحہ ٤٣١ تا ٤٣٥،
ابن الجوزی فرماتے ہیں : اعلم أن الحسد يوجب طول السهر وقلة الغذاء ورداءة اللون وفساد المزاج ودوام الكمد ،حسد کا حاسد کو نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ، اور وہ کھانا پینا کم کردیتا ہے اس کا رنگ متغیر اور مزاج بگڑ جاتا ہے وہ جیتے جی ہمیشہ کڑھتا رہتا ہے ،

حسد کے اسباب : ۱۔ اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمتیں خاص کر علم اور مال ،
۲۔ مقاصد ومطالب میں اشتراک ،
۳۔ بعض امراض نفسانیہ بھی حسد کا باعث بنتے ہیں، جیسے بغض وعداوت ،تکبر وتعلی اور خودپسندی،
۴۔ مقصود کے فوت ہونے کا خوف ،

علاج :
۱۔ صبح کے اذکار اور اللہ کا ذکر ،
۲۔ حسد کے دین ودنیا کے لئے مضر ہونے کا علم ،
۳۔ تقوی اور صبر ،
۴۔ حسد کے مقتضا کے برخلاف عمل کرنا ،
۵۔ محسود کو ملنے والی نعمتوں سے صرف نظر کرنا ،
وغیرہ وغیرہ ،
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کوپاک وصاف کردے ، آمین ،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *