اب کی بار فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے

اب کی بار فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے!

(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
ہفتے کی سہ پہر (ساڑھے تین بجے) الیکشن کمیشن نے یوپی اور دیگر چار ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی مرحلے وار تاریخوں کا اعلان کرکے ٹھٹھرتی سردی اور ہلکی پھلکی بوندا باندی کے درمیان سیاسی حرارت میں اضافہ کر دیا ہے۔
پنجاب، اتراکھنڈ اور ریاست اترپردیش (شمالی ہند) کے بیشتر علاقوں میں اس وقت موسم سرما میں پڑنے والی کڑاکے کی ٹھنڈ اور بےموسم ہونے والی بارش نے ماحول کو ایک طرح سے خاموشی کی چادر میں ڈھانپ رکھا ہے، جس سے کہ چوک چوراہوں اور عام شاہراہوں پر لوگوں کی آمد و رفت میں بےحد کمی بھی ہے، اور کاروبار زندگی بھی ٹھپ اور مندی کا شکار ہے، ایسے میں عوام زیادہ تر یا تو گھروں میں رہائش پذیر ہیں یا پھر جن کے کام دھندے کسی حد تک چل رہے ہیں؛ اس میں مگن ہیں۔ باقی کے جو حالات ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں ہی کہ پورے ملک میں کورونا اور اس کے دوسرے وارئنٹ اومیکرون نے دہشت مچا رکھی ہے، جس سے بچاؤ کےلیے حکومتوں کی طرف سے نئی نئی ہدایات اور مختلف اصولوں کی پابندی کرنے کو دہرایا جا رہا ہے، تمام عوامی مقامات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، مذہبی امور و سماجی رسوم کی ادائیگی میں احتیاط برتنے اور کم سے کم تعداد میں شریک ہونے کی تاکید نیز تعلیمی اداروں کو بھی وائرس کے پھیلاؤ اور بیماری کے متعدی ہونے کے اندیشے میں فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔
الغرض! کورونا وائرس اور اس کے نئے ورژن اومیکرون کو لےکر ہمارے اپنے ملک اور جہاں جہاں ان دونوں بیماریوں کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو صورتحال ایک دم وہی سال/2020 کی منظر کشی کرا رہی ہے، جس کو دنیا نے دو سال قبل اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے۔ یعنی بیماری کی روک تھام اور لوگوں کو اس کے شکار ہونے سے بچانے کےلیے کہیں تو رات کے لاک ڈاؤن کا اعلان و نفاذ کیا جا رہا ہے تو کہیں رات و دن دونوں کا اور کہیں ہفتے وار بازار اور مارکیٹ کو کھولنے بند کرنے کا تجزیہ اور تجربہ دوہریا جارہا ہے۔ حالات کو بھانپتے ہوئے کچھ ممالک نے تو اپنے یہاں انٹرنیشنل ٹریولنگ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے؛ تاکہ ان کا یہ اہم اقدام جہاں وائرس کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہو وہیں وائرس کے پھیلاؤ کا دائرہ مختصر ہو کر کم سے کم لوگ اس کے شکار ہوں اور انسانی آبادیاں زیادہ سے زیادہ محفوظ و مامون رہیں۔ باقی خدا بہتر جانتا ہے کہ: “اس سلسلے میں ہماری حکومت سمیت دیگر متأثرہ ممالک کی کیا حکمت و مصلحت پوشیدہ ہے یا گذشتہ دو سال سے عالمی پیمانے پر جسے مہلک و جان لیوا اور متعدی بیماری کو عوام کے مابین متعارف کرایا جا رہا ہے؛ اس کی آڑ میں کونسے کھیل کھیلے جانے کی پلاننگ و تیاری ہے؟ وہی اللہ بہتر جانتا ہے، جو علیم و خبیر اور علِیمٌ بِذاتِ الصُّدُور ہے”۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ پورے سال لوگ ہنسی خوشی کے ساتھ رہیں اور اپنے اپنے مشاغل میں مصروف و منہمک رہیں، برادران وطن کا کوئی تہوار اور خوشی کا موقع آئے تو مکمل آزادی کے ساتھ اسے منائیں اور پوری دھوم دھام سے اپنی عقیدت و آستھا کا اظہار کرنے کےلئے انہیں چھوٹ دے دی جاتی ہے؛ مگر جب ہم مسلمانوں کا کوئی مذہبی تہوار یا اجتماعی عبادت کا موقع اور تقاضہ قریب آتا ہے تو حالات ناسازگار اور غیرمناسب بنا دئے جاتے ہیں اور مذہبی امور کی پابندی و ادائیگی پر بندش و رکاوٹ کی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ تو کیا ساری پابندیاں اور تمام تر احتیاطی تدابیر و ہدایات ہمارے لئے اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ گائڈ لائن کو فالو کرنے کی ذمہ داری ہمیں نبھانے کو رہ گئے ہیں؟ باقی طبقات کی خوشنودی اور دل جوئی کا تو اتنا پاس و لحاظ کہ عین بیماری کی حالت میں بھی ریاستی حکومتوں کی طرف سے ڈھیل اور نرمی برتنے کی اجازت دے دی جاتی ہے اور ہمارے لئے وقت سے پہلے لام بندی اور گھیراؤ شروع کر دیا جاتا ہے؛ آخر کچھ تو دال میں کالا ضرور ہے، جس کی پردہ پوشی برابر کی جا رہی ہے؟
خیر! آج کی تحریر کا آغاز و مدعی یوپی سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کو لےکر تھا، جس کا انتخابی کمیشن نے بگل بجا کر یکا یک موسم میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، اور ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی الیکشن کمیشن نے اصول و ضوابط کا اعلان اور پارٹی لیڈران کو ان کی پاسداری کرنے کی تاکید کی ہے، گرچہ کورونا وبا کے چلتے اور خاص کر ریاست یوپی کے موجودہ حالات کے پیش نظر اب کی بار کچھ زیادہ سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں اور پوری ریاست کو ضلع سطح پر مہمیز کرکے (10/فروری، 14/فروری، 20/فروری، 23/فروری، 27/فروی، 03/مارچ اور 07/مارچ) میں ووٹنگ کے عمل کو کل سات مرحلوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ نتائج کےلئے 10/مارچ کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کس کے سر پر اگلے پانچ سالوں کےلئے تاج سجتا ہے؟
اس تاج کو اچکنے اور اپنے سر سجانے کےلئے حکمراں جماعت کے ساتھ دیگر چار اور جماعتیں بھرپور دم خم کے ساتھ میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں، جس میں سرفہرست ریاست کی سب سے دم دام اور حکومت سازی کا دعوی کرنے والی سماج وادی پارٹی، ملک پر سب سے زیادہ عرصے تک راج کرنے اور سب سے قدیم پارٹی کانگریس، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اور حیدرآباد (تلنگانہ) سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر جناب اسدالدین صاحب کی مجلس اتحاد المسلمین میدان میں ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا الگ نظریہ اور اپنا علیحدہ منشور ہے، جس کی بنیاد اور تشہیر پر ریاست کے رائے دہندگان کے ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اپنے حق میں ووٹ اوٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکمراں جماعت جس کے کام کاز کے طریقے اور جاری کردہ اسکیموں کا ریاست کے عوام پچھلے پانچ سالوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں؛ اس تعلق سے کچھ زیادہ کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ اقتدار کے آخری چھ ماہ کو اگر چھوڑ دیا جائے تو اس کا بقیہ دورِ اقتدار مذہبی شدت پسندی اور برادرانہ تعصب بندی کے لحاظ سے زیادہ آپ کو نظر آئےگا، جس میں کبھی تو مسلم مقامات کی نام تبدیلی کا نشہ اور کبھی مسلم نام والوں سے خدا واسطہ کا بیر جگ ظاہر ہوتا نظر آئےگا، اس کے علاوہ پوری ریاست میں ہندو انتہا پسند تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کی غنڈہ گردی کو کھلی آزادی فراہم کرنا، اقلیتی علاقوں میں لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا جو سلسلہ اس حکومت میں رائج و قائم ہوا اور گاؤ رکشا کے نام پر جس طرح ریاست کے غریب عوام کو وقتا فوقتا مارنے پیٹنے کی جو دلخراش خبریں سامنے آتی رہیں؛ کون ان سے واقف نہیں؟ اور کون ایسے حالات میں موجودہ حکومت کی واپسی کی خواہش وتمنا کر سکتا ہے؟ ایسے ظلم و سفاک حالات میں تو حکومت کے اقتدار کے خیمے کو اجاڑنا اور سیاسی کمر توڑنا پورے سماج کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ تاکہ انہیں اپنی شکست و ہزیمت سے کچھ سبق حاصل کرنے کی توفیق ہو اور ظلم و زیادتی پر مبنی اقتدار یا تفریق و تقسیم پر شامل اپنی سیاسی ذہنیت کو ٹھکانے لگانے کا موقع ملے۔ باقی رہی انتخابی میدان میں سماج وادی پارٹی، تو اس کے نظریات گرچہ بہت حد تک فرقہ پرستوں کے خلاف تادیبی کارروائی کر ان کو لگام لگانا یا ہندو مسلم میں بڑھتی تفریق کو کم کرنا اور سیکولر اقدار و روایات کی حفاظت کرنا ہے؛ مگر خالص مسلمانوں کے حق میں کوئی مثبت اور ٹھوس نظریہ اس کی طرف سے بھی ہمارے سامنے نہیں ہے۔ اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کا اونٹ کس راہ پر گامزن ہوگا اکثریت ملنے پر؛ گذشتہ الیکشن کے تناظر میں اس کے بارے میں بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، اس لئے کہ اس کی فرقہ پرست سوچ کئی مواقع پر عیاں ہو چکی ہے۔ لہذا جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ عوام ہی کو کرنا ہے اور اب کی بار یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ مسئلہ صرف ریاست یوپی ہی کا نہیں؛ بلکہ پورے ملک کا ہے، جمہوریت کی بقا اور تحفظ کا ہے، مستقبل میں ملک کو کس آئین و دستور کے مطابق چلانا ہے؟ اس کا ہے۔ کیوں کہ ریاست یوپی کے نتائج کا اثر پورے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یوپی ہی وہ ریاست ہے جہاں سے پارلیمنٹ کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
آخری بات! عوام کو یہ بات ذہن نشیں کرنا ہوگی کہ مستقبل میں اگر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنا ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ دے کر حالات کو اپنی ڈگر پر لانا ہے تو پھر ملک کی زمام اقتدار ایک مرتبہ پھر سے میدان سیاست کے منجھے ہوئے اور تجربہ کار اشخاص کے ہاتھوں میں دینا ہوگی اور پارلیمنٹ و اسمبلی میں اسی پارٹی کے لیڈران کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی کرنے کا موقع دینا ہوگا جس کے آباؤ اجداد نے ملک کی آزادی میں خون بہا کر نہ صرف اس ملک کو آزاد کرایا ہوگا بلکہ ملک کی آن بان شان سے کھلواڑ کرنے اور کسی بھی موقع پر ملک کی پالیسیوں پر سمجھوتہ کرنے سے گریز کیا ہوگا۔
(mdqasimtandvi@gmail.com)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *