خوبصورت سماں تھا بچپن میں

خوبصورت سماں تھا بچپن میں

عبد العلیم برکت اللہ

جامعہ دارالسلام عمرآباد

بچپن ہمارے زندگی کا سنہرا دور تھا اس کی حسین یادیں تا عمر ہمارے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں جگمگاتی رہتی ہیں جب بھی ہم اپنے بچپن کے بارے میں سوچتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کاش ہم ایک بار پھر چھوٹے سے بچے بن جائیں ہم سب کے دلارے تھے۔ شاعر انہیں یاد کر کے بے اختیار پکار اٹھتا ہے

۔ ”یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا’

‘بچپن میں والدین کی محبت و شفقت یاد آتی ہے نانا، نانی، دادا، دادی کا دلار ان کا ہمارے لئے فکر مند رہنا ہماری تعلیم و تربیت کھانے پینے کی دیکھ بھال کرنا اور قصے کہانیاں سنانابھائی بہنوں کو ستانا، بچپن کے وہ دوست جن کے ساتھ گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ بچپن کے کھیل اس قدر دلچسپ ہوا کرتے تھے کہ کھیلتے کھیلتے اس قدر مگن ہو جاتے کہ کھانا پینا اور گھر جانا بھول جاتے بچپن ہر قسم کی فکر، کینہ اورکپٹ سے پاک ہوا کرتا ہے اس لئے بچوں کو فرشتہ کہا گیا ہے۔مجھے یاد ہے جب ہم رات میں سوتے تو جھگڑا کرتے ہم دادی کے پاس لیٹیں گے کیونکہ دادی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ جب جگہ نہیں ملتی تو امی کو پریشان کرنا شروع کر دیتے۔ تب وہ جگہ دلاتی تھیں۔میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ بن جاؤںماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ بن جاؤںعید کا دن آتا بہت خوش رہتے تھے نیا نیا کپڑا خریدتے سب کو اپنا کپڑا دکھاتے تھے۔ صبح کو عید ہو گی اس خوشی کے مارے رات کو نیند نہ آتی تھی دوستوں کے ساتھ گلیوں میں گھومتے رہتے۔ ہمارے گھر کے بگل میں ایک نیم کا پیڑ تھا ہم سب ساتھی اس کے نیچے پورے دن کھیلتے رہتے۔ دل کہتا تو منصوبہ کرکے گاؤں کے پچھم ایک نالا تھا اسی میں نہانے چل دیتے۔ جب گھر آتے تو ابو مارنا شروع کر دیتے پھر دادی بچاتی تھیں۔ شام میں ”لکا چھپی” کھیلتے کھیلتے رات ہو جاتی ابو ڈھونڈ کے لاتے تھے۔ ہم بکریاں چراتے اور بیر توڑنے کے لئے دور نکل جاتے پھر شام کو واپس آتے۔خود کھاتے دوسروں کو دیتے تھے۔جمعہ کے دن بہت خوشی ہوتی کہ پڑھنے نہیں جانا ہے۔ صبح اٹھتے ہی کھیلنے کے لئے نکل جاتے گولی کھیلتے،ٹائر چلاتے، کوت کتہ کھیلتے، گھروندا کھیلتے، ہاکی کھیلتے رہتے تھے۔بچپن میں دوستوں کے ساتھ ہونے والی لڑائیاں بھی ہم کبھی نہ بھول پائیں گے۔ اسکول میں دوست بناتے ان سے کہتے۔

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی

آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

پھر دوستی انگلیوں سے کٹی کرکے توڑتے تھے۔اب بھی دادی یاد آتی ہیں۔ بچپن کے دوست یاد آتے ہیں۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے یاد آتے ہیں۔ ان کے چھین جانے کا افسوس ہوتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سے ہمارا بچپن نہیں کوئی قیمتی سرمایہ چھین گیا ہے۔کاش پھر سے لوٹ آئیں بچپن کے سہانے دن

خوبصورت سماں تھا بچپن میں

دوست سارا جہاں تھا بچپن میں

عبد العلیم برکت اللہ

جامعہ دارالسلام عمرآباد

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *