وقت گزاری اور مسلم نوجوان وسماج

      *وقت گزاری اور مسلم نوجوان و سماج*

از قلم : ذبیح اللہ اویس انور ضمیری
حسن پور بر ہر وا،سیتامڑھی،بہار
موبائل نمبر:٨٠٥١٤٧١٤١١

کسی فلسسفی کا قول ہے:”میں کسی بھی قوم کے نوجوانوں کی اداؤں کو دیکھ کر انکی آنکھوں میں مچلتے خوابوں کو دیکھ کر اور انکے لبوں پر رواں نغموں کو سن کر بتا سکتا ہوں کہ اس قوم کا مستقبل کیا ہوگا؟نوجوان نام ھے نئ نسل کے معمار ،تعمیر وترقی کے علمبردار اور مردان کارزار کا،نوجوان کو کسی نے شاہین کہا ھے  تو کسی ‌‌‌‌‌‌‌نے عقاب، لیکن در حقیقت یہ ان سب سے بلند وبالا شۓ کا نام ھے “_
شاعر نے کہا 
   
*نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر*
    *توشاہیں ہےبسیراکر پہاڑوں کی چٹانوں میں*

مولانا مودودی نے اسے دودھاری تلوار کہا ھے۔اگر خیر کی طرف لے جایا جائے تو بہترین نتائج اور اگر شر کی طرف لے جایا جائے تو غلط نتائج سامنے آئیں گے،دور حاضر میں مسلم نوجوانوں کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہو تاہے کہ یہ نہ تو مستقبل کے معمار ہیں اور نہ ہی میدان کارزار کے شہسوار،
وہ مسلم نوجوان جو ذرا امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے انہیں آپ ہوٹل،فلم ہال، نائٹ کلب،کرکٹ کے اسٹیڈیم،مال،شوروم،شراب خانہ ،جواخانہ میں ستم بالاۓستم اپنے گرل فرینڈ کے ساتھ پائینگے۔جبکہ اوسط طبقہ سےتعلق رکھنے والے نوجوانوں کو کم وبیش آپ ان تمام جگہوں پر پائنگے،
غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا کیا کہنا وہ اپنے بچے اور گھر تک محدود ہیں،اور اگر ہفتہ دو ہزار روپے کما رہے ہیں تو ایک ہزار شراب نوشی ،سگریٹ اور جوا میں خرچ کر کے فخر محسوس کر تے ہیں اگر چہ بچے کاپیٹ بھوک کی شدت محسوس کر رہا ہواور جسم کپڑے کا متلاشی ہو ،
جبکہ سماج اندھی، گونگی،اور مکمل طور پر بہری ہوچکی ہے،دین کا نام آتے ہی وہ اس طرح بھاگتے ہیں جیسے چوہا بلی کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کرتا ہے،سماج کے ٩٧فیصد آبادی نماز اور دوسرے دینی احکام سے دور ہے،

مجموعی طور پر دونوں طبقہ کا وہی حال ہے،حد تویہ ہے کہ قوم کوآپس میں جتنا لڑوا لیجیۓ  خاندان ،مسلک ،ذات ،اپنے برائی ،امامت ،عہدو منصب ،کےنام پرکم ہے،لیکن ماتم کرنے سے کیا فائدہ ہےعلماء وعقلاءکی ذمہ داری ہیکہ وہ نوجونان ملت اسلامیہ اور مسلم سماج کو راہ حق سے روشناس کراۓ،انھیں بتایا جائے کہ جوانی اور وقت کیاھے،انھیں بتایا جائے کہ تم ہی قوم کے مستقبل ھو،تمھارے اوپر خاص فیضان باری تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے،انکے سامنے انبیاء وصحابہ کرام کے واقعات پیش کیۓ جائیں،انکو بتایا جائے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلامی انقلاب تمہاری ہی جد وجہد کا ثمرہ تھا.

اخیرمیں اللہ سے سب سے پہلے اپنےاصلاح کی توفیق مانگتے ہیں،اور پھر مسلم نوجوان و سماج کی اصلاح کی توفیق مانگتے ہیں،اللہ ہمیں وقت گزاری سے بچاۓ۔آمین

ذبیح اللہ اویس انور ضمیری
حسن پور بر ہر وا،سیتامڑھی،بہار
موبائل نمبر:٨٠٥١٤٧١٤١١
ت�

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *