اتر پردیش کا الیکشن اور ہم مسلمان

*اتر پردیش کا الیکشن اور ہم مسلمان!!!*
✒️ *عالم فیضی*
ملک کی پانچ ریاستوں میں الیکشن کا بِگُل بج چکا ہے،جس کی تیاریاں عروج پر ہیں،ان پانچ ریاستوں میں سب سے اہم اور بڑی ریاست اتر پردیش ہے،جس پر ملک بھر کے عوام کی نگاہیں گڑی ہوئی ہیں،اس لیے کہ یہ ریاست مرکزی حکومت کا راستہ طے کرتی ہے،یہی وجہ ہے کہ 2024 کے آنے والے پارلیمانی الیکشن  کا اسے سیمی فائنل قرار دیا جارہا ہے۔
الیکشن کے دن جوں جوں قریب آرہے ہیں سیاسی پارہ اسی قدر بڑھ رہا ہے،وبا کے مد نظر ابھی تلک پبلک میٹنگ کرنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں،اسی لیے لیڈران ریلیوں سے احتراز کرتے ہوئے جیت کے لیے ڈور ٹو ڈور اور ہر گھر کا چکر لگا رہے ہیں،یہاں تک کہ وہ گاؤں کے ہر فرد سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں،لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے گھروں میں کھانا کھا رہے ہیں اور انھیں پارٹی کی اہمیت اور کاز سے آگاہ کر رہے ہیں،یعنی جیتنے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں اور اس کے لیے پوری طاقت جھونک دے رہے ہیں۔
میڈیا میں اس الیکشن کے تعلق سے  روزانہ متعدد ٹی وی چینلز پر Debate اور ردو قدح ہورہی ہے،ملک کے مختلف چینلز ایکزٹ پول کے ذریعہ اپنی رائے پیش کر رہے ہیں،جب کہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ علماء دانش ور اور سیاسی مفکرین عوام کو ووٹ کے بکھراؤ سے بچنے کا مشورہ دے رہیں۔ہوٹلوں کے اندر بھی ان امور پر تبادلہ خیال ہورہا ہے،عوامی ہجوم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سیاسی پارٹیوں اور ان کے منتخب نمائندوں کی سابقہ کارکردگیوں پر خوب بحث و مباحثہ کر رہی ہے،وہاں جتنے منہ اتنی باتیں ہیں،
کوئی خاموش نظر نہیں آتا،ہر کوئی بڑی بے باکی سے اپنی رائے رکھ رہا ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ
بی ایس پی کو ووٹ مت دو کیوں کہ اس کے ارادے اچھے نہیں ہیں اور اس کی کوئی لہر بھی نہیں ہے۔تو کوئی کہتا ہے کہ کانگریس کو ووٹ دینا فضول ہے یہاں پر اس کی حکومت ابھی نہیں بن سکتی، تو کوئی کہتا ہے کہ سماج وادی پارٹی بھی کوئی دودھ کی دھولی نہیں ہے اس کا بھی دور اقتدار دنگے اور فسادات سے  بھرا پڑا ہے،پھر کوئی کہتا ہے کہ پیس پارٹی بھی پہلی جیسی نہیں رہ گئی اس میں اب وہ طاقت نہیں،اسے ووٹ دینے سے ووٹوں کا صرف بٹوارہ ہوگا،پھر ایک طرف سے بلند آواز نکلتی ہے کہ اویسی کی پارٹی مجلس بھی پورے دم خم کے ساتھ سو سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے،نوجوان اس کے ساتھ ہیں اس کو ایک مرتبہ لاکر دیکھیں گے،ادھر پھر کوئی بول پڑتا ہے کہ اس سے صرف ووٹ ہی برباد ہوگا،وہ ووٹ کٹوا پارٹی ہے،اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔وغیرہ وغیرہ

ٹکٹ پر حتمی فیصلے،دل بدلنے والے لیڈران،ذات برادری، ہندو مسلم اور مندر مسجد کے الاپ نے سیاسی پارہ اور ہی زیادہ گرما دیا ہے،سیاسی گلیاروں سے ابھی بھی ایسی خبریں آرہی ہیں کہ بہت سارے لیڈران ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مفاد کی خاطر دل بدل سکتے ہیں،وہ صرف موقع اور محل کی تلاش میں ہیں۔
حکومت سازی کے لیے پچھلے کئی ماہ سے گٹھ بندھن بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور اب تقریبا ہر پارٹیاں گٹھ بندھن بنا چکی ہیں ہاں اتنا ضرور ہے کہ سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر کہیں کہیں ناچاقیاں پیدا ہوگئی  ہیں،جس کی مفاہمت کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں۔
اتنا یاد رکھیں!!!
اس بار اتر پردیش میں مقابلہ صرف دو پارٹیوں کے درمیان ہے اور یہی دو پرٹیاں حکومت بنا بھی سکتی ہیں،چاہے بی جی پی یا سماج وادی پارٹی بقیہ پارٹیاں حکومت بنانے سے بہت دور نظر آرہی ہیں،ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ نتائج آنے کے بعد مذکورہ دونوں پارٹیوں کا جادوئی آنکڑا نہ چھو پانے کی بنا پر یہ پارٹیاں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ دعوی یہی دونوں پارٹیاں کر رہی ہیں،خیر دیکھنا اب یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور اتر پردیش کی عوام کس کے حق میں فیصلہ کرکے بھاری اکثریت سے کامیاب کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔
یہاں کے الیکشن میں مسلم اور دلت کافی اہمیت رکھتے ہیں،لیکن اس بار مسلم ووٹ متعدد پارٹیوں میں بٹتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے،اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس اور ڈاکٹر نوہیرا کی پارٹی میپ کی آمد نے ان ووٹوں میں مزید سیندھ لگا دیا ہے جس سے ووٹوں کا بکھراؤ اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے،اگر ایسے ہی اِدھر اُدھر ہمارا ووٹ بکھر گیا تو زعفرانی پارٹی کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ایک وقت تھا جب اترپردیش کی سیاست میں مسلم اور مسلم لیڈران کی طوطی بولتی تھی،ہر پارٹی میں ایک مسلم لیڈر کا نمایاں چہرہ ہوا کرتا تھا اور انھیں کے بل بوتے پارٹیاں اپنا سیاسی مستقبل طے کیا کرتی تھیں ،لیکن حالیہ الیکشن میں یہ سب حاشیے پر ہیں،ایسا لگ رہا ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں کو اب ایسے چہروں کی کوئی ضرورت نہیں،بس انھیں مسلم ووٹوں سے سروکار ہے،بی جی پی کا خوف دلاکر ووٹ مانگنے کی کوشش کی جارہی ہے،لیکن ان کے تحفظات اور مسائل سے کسی کو کچھ سرو کار نہیں،اس میں کچھ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ الیکشن ہندو مسلم کے مابین الجھ کر رہ جائے اور اصل مدعا پیچھے چلا جائے اگر یہی بات ہے تو بہت بہتر ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے لیکن اگر سیکولر پارٹیوں کا منشاء کچھ اور ہے تو اس کا خمیازہ آنے والے دنوں میں انھیں بھگتنا پڑے گا۔
حالیہ الیکشن میں مسلم پارٹیوں کی آمد اور ان کے مابین عدم اتفاق بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
افسوس ہوتا ہے!!!
ہر پارٹی ملت اور اتحاد کی بات کرتی ہے،اور انھیں باتوں کو لے کر مسلمانوں سے ہمدردی جتارہی ہے،لیکن ان کے اندر کہیں بھی اتحاد نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی ہے،اب دیکھنے اور سننے میں یہی آرہا ہے کہ پیس پارٹی کی مخالفت میں مجلس ہے تو مجلس کی مخالفت میں پیس پارٹی،وہ اس کی برائی اور یہ اس کی برائی کر رہے ہیں اب خبریں ایسی بھی سننے میں آرہی ہیں کہ میپ نامی پارٹی بھی یوپی کے الیکشن میں قسمت آزمانے کی تیاریوں میں مصروف ہے،اللہ کرے ایسا کبھی نہ ہو،  لیکن اگر اس کی آمد ہوتی ہے تو اس سے مزید ووٹ بکھر سکتے ہیں جس کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے،مگر سوال یہ بھی ہے کہ مسلمان کدھر جائیں، کس پارٹی کو ووٹ دیں اور کس کو اپنا ہمدرد اور غمگسار سمجھیں جب کہ سبھی مسلم پارٹیاں ایک جیسا دعوی کر رہی ہیں۔
اگر یہ سب پارٹیاں حقیقی معنوں میں مسلم کی بات کرتی ہیں اور اتحاد کی علمبردار ہیں تو اتحاد کے ساتھ الیکشن  لڑنے سے کیوں دور ہیں،آخر یہ باہم مل کر الیکشن کیوں نہیں لڑ رہی ہیں،کیا انھیں نہیں معلوم کہ ہمارے ووٹوں کے انتشار سے راست فائدہ برسر اقتدار پارٹی پی جی پی کو ہوگا،اگر معلوم ہے تو پھر یہ حماقت کیوں؟؟
آج جن کے پاس کم ووٹ بینک ہیں وہ اپنے تحفظ اور حصے داری کی بات کرتے ہیں، جب کہ ہمارے پاس سب سے زیادہ ووٹ بینک ہے تو پھر ہم حاشیے پر کیوں ہیں،ہمیں تو سب سے زیادہ تحفظات کی ضرورت ہے،لیکن ہمارے مسائل اور مصائب سے کسی کو سروکار نہیں،ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ اب ہماری صفوں میں انتشار ہوگیا ہے اتحاد کے فقدان نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا،اس لیے ہم حاشیے پر پہنچا دئے گئے ہیں۔
مسلمانوں!!
اپنی اہمیت کو سمجھو اور ہوش کے ناخن  لو!!!
آپ کسی پارٹی اور فرد کے بہکاوے میں نہ آئیں،بلکہ دانش مندی کا مظاہرہ کریں اور اتحاد کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے کسی ایسے سیکولر لیڈر یا سیکولر پارٹی کا انتخاب کریں جو ہمارے لیے اور ہماری قوم کے لیے بھی مفید ہو تو ایسی صورت میں سب مل جل کر اسی کو ووٹ دے دیں۔اس وقت پورے صوبے میں سماج وادی پارٹی مضبوط دکھائی دے رہی ہے لہذا اس پارٹی کا منتخب نمائندہ جہاں مضبوط دکھائی دے اسے ووٹ دے دیں اور جہاں کمزور دکھائی دے وہاں دوسری سیکولر پارٹیوں کے نمائندے مضبوط ہوں تو ایسی صورت میں مضبوط امیدوار کو ووٹ دے کر فتح سے ہمکنار کردیں،کوئی بھی پارٹی ہو چاہے پیس پارٹی ہو یا مجلس یا کانگریس یا کوئی اور سیکولر پارٹی ہو گر ہمیں یقین ہو کہ ہمارے یکطرفہ ووٹ سے یہ پارٹیاں اور نمائندے فتح کا جھنڈا لہرا سکتے ہیں تو متحد ہوکر اسے اپنا ووٹ ضرور دیں،تاکہ ہمارے ووٹوں کا بکھراؤ نہ ہو اور ہماری اہمیت بھی مسلم رہے،اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو آنے والے 2024 کے الیکشن میں ہماری اہمیت بہت حد تک بڑھ جائے گی جس کا خاطر خواہ فائدہ ہمیں ضرور ملے گا۔ان شاءاللہ
30/01/2022

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *