یوکرین:اسلامی اور تاریخی تناظر میں

یوکرین:  اسلامی اور تاریخی تناظر میں

سہیل لقمان تیمی

یوکرین گزشتہ کچھ مہینوں سے عالمی میڈیا کا موضوع بحث بنا ہوا ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ بروقت روس اس پر حملہ کر کے  قابض ہونے کے لیے بیتاب ہے، اس نے ایک لاکھ سے زائد افواج کو تمام آلات حرب و ضرب کے ساتھ اس سے متصل سرحدوں پر تعینات کر دیا ہے،جن میں ٹینک سے لے کر ایٹمی بمبار طیارے تک شامل ہیں.

بلا شبہ اس پر دیگر لوگوں کی طرح آپ بھی اپنے توجہات مرکوز کئے ہوئے ہیں اور اس سے متعلق خبروں سے روشناس ہو رہے ہیں، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ بحیثیت مسلمان یوکرین کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اگر آپ کے پاس اس کا جواب نفی میں ہے تو آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ زمانہ ماضی میں یوکرین ایک اسلامی سرزمین تھا، جس میں مساجد اور اسلامی ادارے کے جال بچھے ہوئے تھے.

1833ء میں روسی افواج نے اس پر حملہ کر دیا، اسلامی کتب خانوں پر قبضہ کر کے انہیں مسمار کر دیا اور لاکھوں اسلامی کتب اور قرآن کے ہزاروں نسخوں کو جلا کر خاکستر بھی کر دیا.

خیال رہے کہ یہاں ہزاروں مساجد تھیں، جن میں سے 900 سے زائد مساجد روسی افواج کے ناپاک ہاتھوں مسمار کر دی گئیں اور سینکڑوں کی اصلیت تبدیل کر دی گئی جو وہاں اب بھی مختلف شعبوں کے لیے زیر استعمال ہیں.

1876ء میں روسی حکام نے مسلمانوں کو مقدس گھر کی زیارت سے منع کر دیا اور کریمیا کے مسلمانوں کی نسلی اور مذہبی صفائی کی مہم شروع کر دی، 1890ء میں انہوں نے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے اسکول اور تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے.

قابل افسوس یہ ہے کہ روسی حکام نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ مسلمانوں کے قبرستانوں تک بھی پہنچ گئے، مسلم لاشیں نکالی گئیں، ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی،اور وہ ان میں منصوب پتھر اکھاڑ کر لے گئے تاکہ انہیں تعمیراتی سامان کے طور پر استعمال کیا جا سکے.

اکتوبر 1917ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب کا آغاز ہوا تو یوکرین میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا.

پچھلی صدی کے بیس اور تیس کی دہائیوں میں مسلمانوں کو ایک بار پھر  بڑے پیمانے پر انتھک جنگ کا نشانہ بنایا گیا، بالخصوص یوکرین اور کریمیا کے مسلمانوں اور اسلام پسند مبلغین کو عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا اور انہیں کربناک سزائیں دی گئیں،  اس وقت کی میڈیا نے یہ پروپیگنڈہ کر کے روسی حکومت اور اس کے گرگوں کو جواز فراہم کر دیا کہ اسلام سوشلسٹ انقلاب کا زبردست متصادم ہے.

چالیس کی دہائی میں تبدیلی مذہب اور اسلامی تعلیمات پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، مسلمانوں کے نام سے منسوب شہروں کے نام بدل دئیے گئے اور اسلامی ثقافت کی خصوصیات یکسر ختم کر دی گئیں.

سوویت یونین کے زوال اور کمیونسٹ دور کے خاتمے کے بعد یوکرین نے جب اپنی آزادی کا اعلان کیا تو مسلمانوں نے اپنی صفیں جمع کرنا اور مذہبی رسومات پر عمل کرنا آزادانہ طریقے سے شروع کر دیا، کریمیا سے بے گھر ہوئے مسلمان اس میں واپس چلے آئے ، اور ان سے چھینے گئے تمام حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کیا.

روس نے 2014ء میں ایک بار پھر کریمیا پر قبضہ کر لیا اور نہتے مسلمانوں پر  مظالم ایک سلسلے کا آغاز کر دیا، ایک لمبے عرصے کے بعد اس نے ایک مرتبہ پھر سے طاقت کے نشے میں چور ہو کر یوکرین کی سرحدوں پر اپنی فوج کو تعینات کر دیا ہے، اور اسے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے روس کو اپنی پالیسی پر وفاداری کی ضمانت نہ دی تو وہ اس پر حملہ کر کے شہر خموشاں میں تبدیل کر  دے گا

روس زمانہ قدیم سے ہی ایسی ظالمانہ اور غاصبانہ حرکتیں اس لیے کرتا آ رہا ہے کہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ وہ عسکری اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا عیسائی ملک ہے،جب کہ عددی اعتبار سے دنیا کا چوتھا بڑا عیسائی ملک ہے،حالاں کہ اسے اپنی اس افرادی اور عسکری قوت پر زیادہ نازاں اور مغرور نہیں ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو طاق نسیاں پر بھی نہیں رکھنا چاہیے کہ اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے ہی رہے گا چاہے کافر اس سے برا ہی کیوں نہ لگے ، اسی میں روس سمیت پوری دنیا کی سالمیت کا راز مضمر ہے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *