کب ہوگا گاندھی و آزاد کے خوابوں کا ہندوستان تعمیر؟

کب ہوگا گاندھی و آزاد کے خوابوں کا ہندوستان تعمیر؟
(محمدقاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
صدیوں سے ہمارا یہ ملک ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ اور تکثیری سماج کا حامل رہا ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب اور کثرت میں وحدت کا نظارہ بےمثال و بےنظیر رہا ہے، یہاں گھاٹ کنارے بیٹھ کر وضو اور پرارتھنا دونوں ایک ہی وقت میں کرتے دیکھا گیا ہے، اس وسیع و عریض ملک کی مٹی میں ایک ہی وقت میں الگ الگ پھول ویسے ہی کھلتے دیکھے گئے ہیں، جیسے کہ دشمن کو زیر کرنے کےلئے فوج کا اتحاد و اتفاق ضروری ہوتا ہے؛ تاکہ ملک اور سماج کو اجتماعی شکست و ہزیمت سے بچایا جا سکے اور اسصوقت ایک ہی چمن میں کھلنے والے یہ پھول اور کلیاں اپنی مسکراہٹ بکھیر کر ہر ایک کا من جیت لیا کرتے تھے۔ مگر افسوس! ہمارا یہ پیارا ملک اور وطنِ عزیز ہندوستان آج تاریخ کے جن دلخراش مناظر اور درد و کرب کے جس دور سے گزر رہا ہے؛ اسے المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں مذہب کی بالادستی کو ملک اور آئین سے بالا تصور کیا جانے لگا ہے، جس کےلئے کہیں تو مذہب و مسلک کی آڑ لے کر ملک کو برباد کرنے کی کوششیں ہیں تو کبھی برادری اور علاقے کے نام پر لوگوں کو آپس میں لڑانے کی جستجو دامن گیر ہے، کہیں لوجہاد کا شوشہ چھوڑ کر ایک خاص طبقے کے نوجوانوں کو حراساں کیا جاتا ہے تو کہیں گھر واپسی کے عنوان سے اس ملک کی آب و ہوا کو مکدر کیا جاتا ہے، ہندو مسلم کے سہارے آپسی بھائی چارہ کو آگ لگائی جا رہی ہے، تعلیم کے نام پر تعلیم کا بھگوا کرن کیا جا رہا ہے، پردہ و حجاب کو بہانہ بنا کر مسلم طالبات پر اسکول و کالج کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں، ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا، کہ طالبات کو اسکول نہیں آنے دیا جا رہا ہے، حجاب و پردہ کے سہارے ملک کو فرقہ وارانہ فسادات کی طرف ڈھکیلا جا رہا ہے؛ یہ وہ سلگتے ایشوز ہیں جو آج کسی فردِ بشر سے مخفی نہیں ہیں۔ اور ان سب کی وجہ صرف یہی ہے کہ اکثریتی طبقے کو اقلیتی طبقے پر مکمل برتری حاصل ہو جائے ہے یا یہ کہہ لیں کہ یہاں کے مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کو دیش سے نکال کر اس ملک کو مکمل طور پر ہندو راشٹر میں تبدیل کر دیا جائے۔ اسی لئے وقفہ وقفہ سے ایسے مدعو کو ہوا دی جاتی ہے جس سے کہ ملک میں آباد اقلیتوں کو احساس کمتری میں مبتلا کیا جاسکے اور ان کے متحرک و فعال اداروں سے وابستہ افراد کو انہیں ایشوز میں الجھا کر دیگر مصروفیات کو انجام دینے سے باز رکھا جائے۔ چنانچہ کبھی تو ڈاڑھی ٹوپی کے مسائل کو لےکر اور کبھی اذان و نماز کے معاملے کو لےکر یہاں کی فرقہ پرست تنظیمیں سرگرم و اکھٹا ہوتی ہیں اور پورے ملک کے ہندؤں کے ذہن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد کا بیج بونے کی کوشش کرتی ہیں اور مسئلہ کو عدالت لے جاکر ان کو ان کے مذہبی امور کی پابندی و ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ کھلے میں نماز کی ادائیگی کیوں ہو رہی ہے، صبح سویرے مائک سے اذان کیوں دی جا رہی ہے، ٹوپی پہن کر ملازمت کا اختیار کہاں سے حاصل ہے اور ڈاڑھی رکھا کر ڈیوٹی کیوں انجام دی جا رہی ہے؟ یہ وہ بےتکی باتیں اور فضول اعتراضات ہیں، جن پر شدت پسند تنظیمیں آئے دن واویلا مچاتی رہتی ہیں اور ٹی وی چینلز پر بیٹھ دلال اینکرس پابندی کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نہ ملک کے آئین و دستور کا پتہ ہے اور نہ اس ملک کے تاریخ و ثقافت کا علم؟ انہیں تو چاپلوسی کرکے ایک تو اپنی روزی روٹی کا بند و بست کرنا ہے اور دوسرے اپنی باطنی خباثت کو ظاہر کرکے اپنی جہالت کا اظہار کرنا ہے، ملک چاہے ٹوٹے، قوم چاہے لڑے اور آئین و دستور کا جنازہ نکلے؛ انہیں اس سے کوئی مطلب و سروکار نہیں؟
واضح رہے کہ جس وقت ہمارے اس پیارے ملک کو آزادی نصیب ہوئی تھی اس وقت ملک میں دو غیر سیاسی تنظیمیں سرگرم تھیں، ایک جمعیۃ علماء ہند جس کا قیام (1919) یعنی آزادی سے تقریباً 28/سال قبل وجود میں آیا تھا اور دوسری آر ایس ایس (راشٹریہ سوئم سیوک) جو جمیعۃ علماء کے چھ سال بعد (1925) میں قائم تھی۔ گویا دونوں کا زمانۂ قیام قریب قریب ہی ہے؛ مگر دونوں کی سرگرمیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، دونوں کی راہیں جدا جدا اور فکر و نظر کا دائرہ مختلف ہے۔ اس لئے کہ اول الذکر جماعت کا تعلق تعمیری راستے پر چل کر ملک و ملت کو خود مختار بنانے اور بقائے باہمی کو فروغ دینا رہا ہے، جبکہ آخرالذکر جماعت کا تعلق ہمیشہ سے تخریبی ذہن افراد کو تیار کرکے اس ملک میں دنگا فساد کرانا، یہاں کے پُرامن و پُرسکون معاشرہ میں فرقہ واریت کو بڑھاوا دے کر نفرت و تشدد میں جھونکنا ہے۔ آج بھی ہر کارستانی اور تخریبی کارروائی کے پیچھے انہیں لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو پہلے تو جےشری رام کا نعرہ لگاتے ہیں اور بعد میں ارباب حکومت کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں، اس ذہنیت کے حامل لوگ اور اِداروں سے وابستہ افراد کی تمام تر کوشش یہی ہوتی ہے کہ ملک میں قائم امن و امان کو آگ لگا دی جائے اور آپسی میل جول کو منتشر کرکے ماحول میں مذہبی کشیدگی پیدا کر دی جائے۔
گذشتہ چھ سالوں میں اس کام میں مزید تیزی لائی گئی ہے یعنی جب سے مرکزی اِقتدار پر بی جے پی کا قبضہ ہوا ہے، تبھی سے ملک کا انتظام آر ایس ایس نے اپنے زیرِ بازو لے رکھا ہے، جس کی طرف سے ناپاک مقاصِد و عزائم کی تکمیل کےلئے ناہنجاروں کی ایک ایسی فوج کو میدان میں بےلگام چھوڑ دیا گیا ہے، جو دِل دوز اور اندوہناک حادثات انجام دے کر تاریخ کے صفحات پر ان کو رقم کر رہی ہے، اس بھگوا اور فِرقہ پرست ٹولے کے نزدیک قتل و غارت گری اور خونریزی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اس لئے وہ بےدریغ اپنے مشن کو انجام دے رہا ہے، جس کی بےشمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، مگر ان سب کا تذکرہ یہاں مضمون کے طویل ہونے کا سبب ہوگا؛ اس لئے ان سے احتراز کیا جاتا ہے۔ مگر فِرقہ واریت پر مبنی حادثات کا رونما ہونا اور ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوکر ملک کے آئین و دستور کی دھجیاں بکھیرنا یا کسی ایک کمیونٹی کے لوگوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنانا، ان تمام سے آپ کو یہ اندازہ ضرور ہو رہا ہوگا کہ کس طرح یہ بھگوا گروہ اس ملک کا سب سے بڑا دشمن اور خطرناک عناصر ٹولے کی شکل اختیار کئے گھوم رہا ہے اور ان کے اس مکر و فریب کو ملک کی یہ سرزمین آج سے نہیں؛ بلکہ اپنی آزادی کے بعد سے برداشت کرتی چلی آ رہی ہے، چنانچہ اسی پست خردہ ذہنیت نے باپو کو قتل کیا تھا اور اسی نے اندرا اور راجیو کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ لہذا آج بھی وہی ٹولہ اس ملک کے آئین و دستور سے چھیڑ چھاڑ کرکے اس ملک کی جمہوریت اور یہاں کے سیکولرازم سے کِھلواڑ کر رہا ہے۔
آج جب ہم ملک کے طول و عرض پر نگاہیں دوڑاتے ہیں اور پھر حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انتہائی رنج و غم اور دلی افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑتا ہے کہ کس بڑے پیمانے پر مذہب کے رنگ میں رنگ کر اس بھگوا گروہ کی طرف سے ملک کے حالات کو بد سے بدتر اور ناقابلِ اطمینان بنا دئے گئے ہیں، ملک کی تمام قدیم روایات کو آگ لگا کر گنگا جمنی تہذیب اور برسوں پرانے کلچر و ثقافت، تہذیب و تمدن اور باہمی اخوّت و محبت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے، اور تو اور ملک پر ایک خاص فرقے اور طبقے کی اجارہ داری قائم کرنے اور دیگر اقلیتوں کو دیش نکالا اور ان سب کو بےوطن کرنے کےلئے اس کے لیڈران کی زبانی مسلسل زہر افشانی اور سنگھ سے وابستہ لوگوں کی طرف سے نفرت و عداوت اور تشدد کے واقعات میں اِضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی مخدوش صورتحال اور نازک دور میں بااثر و باوقار اشخاص کا سامنے آنا، سیکولر اقدار و روایات کے حامل و محافظ سیاستدانوں کا میدان میں آنا نیز روز بروز بڑھتی فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو لگام دینے اور ملک کی برسوں پرانی گنگا جمنا تہذیب، قومی یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے والوں کا سامنے آنا انتہائی ضروری ہے؛ تاکہ ملک آزاد ہونے کے بعد ترقی و خوشحالی کی جو بنیاد رکھی گئی تھی، اس پر نئے سِرے سے تعمیر کا آغاز کیا جائے اور پہلے سے زیادہ منظم طریقے سے اس تعمیر جدید کو مستحکم و مضبوط کیاجائے اس کام میں برادران وطن کو شانہ بشانہ لے کر اس بات کو واضح کیا جائے کہ:
“اقلیت و اکثریت کی سلامتی اور عالمی سطح پر ملک کا گرتا وقار اسی صورت میں بحال ہوسکتا ہے جبکہ باہمی منافرت کو فی الفور لگام دی جائے، تخریبی سرگرمیاں انجام دینے والے عناصر کو قید سلاسل کیا جائے اور ہندو مسلم جو اس ملک کی دو خوبصورت آنکھیں ہیں؛ انہیں ملک کے وسائل سے منصفانہ طور پر بہرہ مند کیا جائے، تبھی ہمارا یہ ملک ترقیات کی منازل طے کرےگا اور اسی وقت گاندھی و آزاؔد اور کلام و اشفاؔق و بسمِلؔ کے دیکھے ہوئے خوابوں کا ہندوستان تعمیر ہوگا”۔
(mdqasimtandvi@gmail.com)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *