خوشحال زندگی گزارنے کے چند اسبابِ

خوشحال زندگی گذارنے کے چند اسباب

از قلم :محمد محب الله بن محمد سيف الدين محمدي ،
سپول ،بہار ،

مصیبت وپریشانی ، دکھ والم ، غم وقلق ، انسان کی سرشت ہے، اور بالخصوص مؤمن کی آزمائش وابتلا کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے،

الم ۝ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۝ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ۝ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَاء مَا يَحْكُمُونَ [سورة العنكبوت:1-4]،
کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔ حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیںیا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ﴾.سورة البقرة (214)
کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب ہوگی! سنو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے،

بندہ مومن کے لئے مصائب وبلیات کا نزول ہونا خیر کاباعث ہوا کرتا ہے،ارشاد نبوی ہے،”عجبا لأمر المؤمن ،ان امره كله خير ،ولیس ذالك لأحد إلا للمومن ، ان اصابته سراء فشكر فكان خيرا له ،وإن اصابته ضراء صبر فكان خيرا له، (رواه مسلم )
مؤمن کا معاملہ عجیب ہے،اس کا ہر معاملہ اس کے لئے بھلائی کا ہے،اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں اسے خوشحالی ملے تو شکرگزاری کرتا ہے،اور یہ اس کے لئے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے مصیبت لاحق ہو تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لئے بھلائی ہوتی ہے،

مذکورہ حدیث سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مصائب وآلام بندۂ مؤمن کے لئے خاص طور سے خیر کا باعث ہوا کرتے ہیں، پس جو اللہ ربّ العالمین کے قضاء وقدر سے راضی و خوش رہا ،اس کے لئے خیر ہی خیر ہےاور جس نے واویلا مچایا،اور جزع فزع کیا وہ خائب وخاسر ہوگا اور محرومی ومایوسی کے علاوہ کوئی چیز حاصل نہ ہوگی،

عن أبى هريرة وأبى سعيد أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : مايصيب المؤمن من وصب ولا نصب ولا سقم ولا حزن حتى الهم يهمه إلا كفر به من سئياته (رواه البخارى ٥٦٤١، ٥٦٤٢)
سیدنا ابوہریرہ و سیدنا ابوسعید خدری
رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو جو بھی دکھ، گھٹن، حزن، ملال اور تکلیف و غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کانٹا ہی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ضرور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے۔

الإفصاح عن معانى الصحاح میں اس حدیث کی تشریح یوں ہے ،” في هذا الحديث من الفقه إعلام النبى صلى الله عليه وسلم أمته أن نصبها ووصبها وسقمها وحزنها وهمها يكفر الله به من خطاياها ، وذالك لأنه لما كانت الدنياء عندالله ليست رضا منه لعباده المؤمنين مقرا دائما ، وكانت حكمته أن يخرجهم عن هذا المقر الأدنى الى مقر أعلى ،فأحل بهم سبحانه من المزعجات ما ينفرهم عنه ويزعجهم منه ،وكان من لطفه بهم أن لا يعرض لهم الألم إلا بثواب وثمن هو تكفير السيئات عنهم ،فجمع لهم بين تكفير الخطايا،والإزعاج عن هذا المقر الأدنى والارتياح للخروج منه ،
بحواله : الافصاح عن معانى الصحاح الجزء الخامس ،صفحه نمبر ٢١٢، بتحقيق محمد على سلوم ،
یعنی، اس حدیث میں اس بات کی خبر دی گئی ہے امت محمدیہ کو کہ انھیں جو بھی پریشانی دکھ وجع الم غم وحزن لا حق ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے بندے کے گنا ہوں کو معاف کردے گا،اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک چونکہ دنیا مومنوں کے لئےدائمی خوشی والی جگہ نہیں ہے،لہذا اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی حکمت سے مؤمنوں کو اس حقیرو کمتر جگہ سے (دنیا سے) نکال کر جنت میں بلند مقام دینا چاہتا ہے،اسلئے مؤمنوں پر پریشانیاں ،تکالیف آتی ہیں امراض واسقام اور منون الدھر سے دوچار ہوتاہے ، تاکہ وہ دنیا سے نفرت کریں ،اور ابدی سکون جنت کو سمجھے ، یعنی مصیبت مومنوں کے لئے ثواب وثمن کا باعث ہے ،اور جنت میں داخلے اور وہاں کی آساییش کی فراہمی کا سبب ہے ،

محترم قارئین: آج دنیا پریشان ہے ،افراد پریشان ہے،مجتمع سراسیماں ، وہ چین وسکون اطمینان وخوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں، بڑا سا محل ہے پھر بھی سکون نہیں ،‌ مال ودولت جاہ وحشم خویش وتبار کی کمی نہیں، بنگلے ہیں محلات ہیں گاڑیاں ہیں ،خاندان ہیں کھیت کھلیان باغ وبہشت کاروبار،کمپنیاں اچھی سروس ،وروزگار ہیں، پھر بھی ان کی زندگی میں خوشحالی نہیں ، نیند کی گولیاں کھانے پڑتے ہیں، ہمیشہ پریشان، بے چین رہتا ہے ، دنیا کے مصنوعی ومادی طبیبوں نے علاج بتارکھا ہے کہ مال ودولت کی فراوانی سبب ہے خوشحالی کا، اور فقر وفاقہ کا خاتمہ ہی اس زہر کا تریاق ہے، ارض واقع میں اگر ان کے اس فلسفہ کو دیکھا جائے تو ان کی یہ تشخیص کردہ علاج بالکل ہی ناکام ہے ، ہمارے خیال میں خوشحال زندگی گزارنے کے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کے ہر مسئلے میں آپ نا رکے ، دنیا میں بہت سارے مسائل ایسے بھی ہوتے جن سے ایسے گزرجانا ہے کہ گویا وہ واقع ہی نہیں ہوا ، ہر مسئلے پر ،ہر اعتراض وتنقید پر اگر آپ رکتے ہیں تو صرف مسئلے ہی مسئلے ہوں گے، حاسدین و حاقدین جلتے، کڑھتے رہیں ، آپ اسے خیال میں نہ لائیے پریشان نہ ہو ، آپ اپنے مشن میں لگے رہئیے ،
اسی طرح “لا شيي إلا البطن والمعدة “یعنی ہمیشہ پیٹ پیٹ۔
حرص و ہوس ، مادی جشع ،اور تہافت علی حطام الدنیا و “اور چاہیئے ،اور چاہیئے ” کی بھوک کو ختم کیجئے ، قناعت پسند اور کفایت شعاری کو اپنائیے ، خوددار بنئیے ، خودی کاسودا نہ کیجئے ، بے نفسی وبے ضمیری کا شکار نہ ہوئیے ،وغیرہ وغیرہ ،
بہر کیف ہر کس وناکس خوشحالی، وطیب خاطری کی جستجو میں ہے، چاہے مؤمن ہو یا کافر لیکن یہ ایک بنیادی نقطہ ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ حقیقی سکون تو مؤمنوں ہی کو حاصل ہوسکتی ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ
(الأنعام – 82)
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم (شرک،گناہ ،کفر‌ ونفاق معصیت وغیرہ ) کو نہیں ملایا ان ہی کے لیے بےخوفی ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ( سورة النحل ٩٧)
ترجمہ: جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کے بہترین اعمال کا اجر دیں گے جو وہ کرتے تھے۔
وقال شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله”الإيمان بالله ورسوله هو جماع السعادة وأصلها “(مجموع فتاوى شيخ الاسلام ٢٠/١٩٣)
ابن تيمية رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے یعنی مؤمن کامل بننا ہی اصل سعادت اور خوشبختی ہے،یعنی سعادت اسے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو مومن ہو ،

قال ابن كثير “الحياة الطيبة تشمل وجوه الراحة من أى جهة كانت (تفسير ابن كثير ٢/٩٠٨،)
اسی طرح ابن کثیر رحمہ اللہ (فلنحيينه حياة طيبة ) کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ خوشگوار زندگی یعنی اس میں ہر قسم کے راحت و آسائش شامل ہیں،

وقال ابن القيم الجوزية ” التوحيد يفتح للعبد باب الخير والسرور واللذة ،والفرح والابتهاح (زاد المعاد ٤/٢٠٢)
اسی طرح ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر انسان کا عقیدہ پکا ہو اس کا توحید مضبوط ہو تو اس کے لئے ہر طرح کی خیر سعادت کامیابی لذت وبہجت فرح وسرور اور شادمانی کا دروازہ واں ہوجائے گا، اور وہ ہر اعتبار سے خوش وخرم زندگی گزارے گا،

خلاصۂ تحریر یہ کہ ہر انسان کی پہلی اور آخری کوشش یہ ہوتی ہے اس کی زندگی میں خوشحالی ہو ، پریشانی ،وبے اطمینانی اسکی زندگی کا حصہ نا بنے ،
شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ نے فرحت بخش زندگی گزارنے کے چند اسباب بتائے ہیں ان کو ذیل کی صفحات میں پیش کرتے ہیں ،

1۔۔ ایمان اور عمل صالح ، اگر انسان کے اندر یہ دوصفات ہوں یعنی مؤمن بھی ہو اور نیک اعمال بھی کرتا ہوں تو اس کی زندگی میں چین سکون اطمینان وراحت ہوگا ،وہ خوش و خرم‌ زندگی گزارۓ گا اللہ تعالیٰ نے اس كا وعده فرمایا “: مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ”(سورة النحل ٩٧)

2۔۔۔۔ مخلوق پر احسان کرنا قول وفعل اور خیر و بھلائی و معروف کے ذریعہ،یعنی خدمت خلق کرنا ، انسانوں کا بلاتمیز مذہب وملت کے مدد کرنا ، غریبوں پر رحم کھانا ،خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا وغیرہ وغیرہ،
3۔۔۔ اپنے آپ کو مشغول رکھنا خیر و بھلائی کے کاموں میں ، عبادات میں ، حصول علم میں ، مطالعۃ ،مذاکرۃ ومدارسۃ القرآن،یا کسی نفع بخش ،سودمند کام میں ہمہ وقت مصروف ومشغول رہنا ، منہمک رہنا ، اس لئے کہ جب آپ اپنے آپ کو مصروف کر لیں گے تو آپ کا دل ودماغ اسی میں کام کرۓ گا ،اور افسوس اور قلق وغم والی چیز آپ سے دور رہے گی ،

4۔۔۔۔۔ اپنا پورا فکر وسوچ حال وحاضر، ابھی کے، اور آج کے کاموں میں جٹا دینا ، اور مستقبل و کل کی فکر سے اپنے آپ کو فارغ کرلینا یا ماضی کے غمناک واندوہناک خسارہ وحادثہ کو یکسر بھول جانا ، انہیں حاشیۃ ذہن تک بھی نا لانا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”المؤمن القوي خيرٌ وأحبُّ إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كلٍّ خير، احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء فلا تقل لو أنِّي فعلت كان كذا وكذا، ولكن قل قدَّر الله وما شاء فعل، فإنَّ لو تفتح عمل الشيطان “(رواه مسلم 2665)

5۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنا ، اللہ کے ذکر وفکر میں رطب اللسان رہنا ،مسنون ومأثور دعاؤں کا اہتمام کرنا ،اسلئے کر رب تعالیٰ کے ذکر اطمینان قلب وانشراح صدر ہوتا ہے ، اور ھم وغم قلق واضطراب کا خاتمہ ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا”ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ ٱللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ”(سورة الرعد ٢٨)

6 ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن ظاہری وباطنی نعمتوں وعنایتوں سے نوازا ہے ان کو بیان کرنا اسلئے کہ ان کے ذکر ومعرفت سے اللہ تعالیٰ غموں کو دور کرتا ہے،اور بندے کو شکر ورضا پر ابھارتا ہے،
7 ۔۔۔۔ آپ کو کتنی ہی بڑی مصیبت پہنچی ہوں آپ اسے سب سے چھوٹا حقیر وتافہہ سمجھئیے ،اور اگر آپ کو غم ہو تو غم دور کرتے رہے ،

8 ۔۔۔۔۔ اطمینان قلب وراحت خاطر کے لئے ایک بڑا سبب اپنے دل کو مضبوط رکھنا ، اور برے خیالات، گندۓ افکار، اوہام وسوسہ ،شش وپنج، کیا ہوگا، نہیں ہوگا ،اگر مگر وغیرہ میں مبتلا نہ ہونا ،
9۔۔۔ توکل علی اللہ ، بھروسہ اعتماد ، اللہ تعالیٰ ہی كو کافی شافی وافی منعم معطی واہب وغیرہ جاننا ،”وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ(سورة الطلاق ٣)

10 ۔۔۔۔۔۔ مقارنہ ومقابلہ کرنا ، ناپنا تولنا ، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن نعمتوں سے نوازا ہیں اس کا مقارنہ آپ کو لاحق ضرر ومکروہ ومصیبت سے کیجئے، آپ دونوں کے درمیان مقارنہ کیجئے ،
11 ۔۔۔ ۔ اگر آپ کو لوگوں سے تکلیف پہنچ رہی ہے ان کی بری باتوں کے ذریعے (مثلاً،استہزا ،مذاق ،ہمز ولمز وغیرہ) ،تو حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے نفس کو اس میں مشغول ہی نہ کیجئے،آپ اپنے مشاعر واحساسات پر قابو پائیے ،آپ دیکھیں گے کہ ان کی یہ حرکتیں انھیں کے اذیت کے باعث ہوں گے ،آپ کو کسی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا،
12۔۔۔۔۔ حزن وملال اور غم وفکر کو دور کرنے کا ایک نفع بخش طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ صرف اللہ سے ہی شکر کی توفیق طلب کیجئے ،آپ اپنے نفس کو اللہ کے شکر ادا کرنے کا متعود بنائے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص لوگوں کے سلسلے میں فرمایا ” إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا”سورة الانسان ٩)

13… آپ کے ذمہ جو بھی کام ہو ،آپ کی جو بھی مشغولیت ہوکوشش کرۓ کہ اس کام سے جلد ہی فارغ ہوجاۓ یا مکمل کرلے ،اور مستقبل کو فارغ کر لیں ،اور اپنے آپ کو مضرت رساں چیزوں کی طرف ہرکز ملتفت نہ کریں ،اسی طرح اہم کاموں کو ترجیح دۓ ،سب سے پہلے سب سے ضروری اور کام کو کریں پھر دوسرے اس سے کم تر اہم اشغال کی طرف متوجہ ہوں ، یعنی الاھم فالاھم کا فارمولہ اپناۓ ،
(ترجمانی من کتاب، تفسير الجزء الأخيرمن القرآن الكريم ومعه تفسير الفاتحة وآية الكرسي ويليه ٣٧ موضوعا من أهم مايحتاج إلى المسلم في دينه ودنياه ،صفحه نمبر ٧تا ٨، )

مصیبت وپریشانی کے وقت مذکورہ دعاؤں کا اہتمام کریں،

﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87]
{الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں ہو گیا}
”سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں یہ دعاء پڑھتے تھے اور یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“ [ سنن الترمذی رقم 3505 واسنادہ صحیح]

﴿حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴾ [التوبة: 129]
{میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے}
”ابوالدرداء رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح وشام سات مرتبہ یہ کلمات کہے اللہ تعالی اس کی دنیا وآخرت کی پریشانیوں کے لئے کافی ہوجائے گا“ [عمل اليوم والليلة لابن السني ص: 67 ورجالہ ثقات]
یہ روایت موقوفا اور مرسلا بھی مروی ہے اکثر محققین نے اسے حسن کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قراردیاہے[ الضعیفہ 5286]
علامہ البانی رحمہ اللہ کی بات ہی اقرب الی الصواب ہے۔ لیکن یہی الفاظ قرآن میں دعاء کے سیاق میں وارد ہیں اس لئے انہیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔

﴿ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ﴾ [الأنبياء: 83]
{مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے}
”ایوب علیہ السلام مصیبت کے وقت ان الفاظ میں دعاء کرتے تھے جیساکہ قرآن میں ہے“

﴿لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ الكَرِيمِ﴾
{اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے}
”ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ پریشانی کی حالت میں یہ دعاپڑھتے تھے“ [صحيح البخاري:ج 8ص75 رقم 6346]

﴿اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ، وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ﴾
{اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے}
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ کثرت سے یہ دعاپڑھا کرتے تھے“ [صحيح البخاري:ج8ص 78 رقم 6363]

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا﴾
{ہم سب اللہ کے لئے ہیں، اور ہم سب اسی کی طرف جانے والے ہیں، یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا ثواب دے اور اس کے بدلہ میں اس سے اچھی عنایت فرما}
”ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو بھی کوئی مصیبت لاحق ہوئی اور اس نے یہ کلمات پڑھے تو اللہ تعالی اسے نعم البدل عطاء فرمائے گا“ [صحيح مسلم: ج 2ص 631 رقم 918]

﴿يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ﴾
{اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں}
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب سخت تکلیف و پریشانی کا معاملہ درپیش ہوتا تو آپ یہ دعاء پڑھتے تھے“ [سنن الترمذي :ج 5ص 539 رقم 3524 حسن بالشواهد وحسنه الألبانی]

﴿اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ﴾
{اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے}
”ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: پریشان حال شخص کے لئے یہ دعاء ہے“ [سنن ابي داؤد :ج 4ص805 رقم 5090 وإسناده حسن وحسنه الألباني ، جعفر بن ميمون حسن الحديث علي الراجح]

﴿أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا﴾
{اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا}
”اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے مجھے دکھ اور پریشانی کی حالت میں یہ دعاء پڑھنے کے لئے کہا“ [سنن أبي داود:ج2ص87 رقم 1525 وإسناده صحيح وصححه الألباني]

﴿اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي﴾
“اۓاللہ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے اور باندی کا بیٹا ہوں ،میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میری ذات پر تیرا ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق تیرا فیصلہ سراپا عدل و انصاف ہے، میں تجھے تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو توں نے اپنے لیے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ تو قرآن کریم کومیرے دل کی بہار، سینے کا نور،غموں کیلئے باعث کشادگی اور پریشانیوں کیلئے دوری کا ذریعہ بنا دے۔
”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جس شخص کو جب بھی کوئی مصیبت اور غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات پڑھ لے تو اللہ تعالی اس کی مصیبت وغم کو دور فرمادے گا اوراس کی جگہ خوشی عطاء فرمائے گا“ [مسند أحمد: ج 6ص 246 رقم 3712 وإسناده صحيح وصححه الألباني]

✿﴿اللَّهُمَّ لاَ سَهْلَ إلاَّ مَا جَعَلْتَة سَهْلاً، وَأَنْتَ تَجْعَل الْحَزْنَ إذَا شِئْتَ سَهْلاً﴾
{اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں مگروہی جسے تو آسان کردے ، اور تومشکل کام جب چاہے آسان کردیتاہے}
”الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ پریشانی کی حالت کی دعاء ہے“ [صحيح ابن حبان(احسان) 3/ 255 رقم 974 وإسنادہ صحیح علی شرط مسلم وابن السنی رقم 351 واللفظ له)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سبھی کو فرحت بخش زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے ظاہر وباطن درست فرماۓ ، مصیبت ٹینشن ڈپریشن وغیرہ سے دور رکھے ، آمین،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *