اردو صحافت کو عروج عطا کرنے میں اسلاف کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: پروفیسر محمد آفتاب اشرف

اردو صحافت کو عروج عطا کرنے میں اسلاف کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: پروفیسر محمد آفتاب اشرف

 المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”اردو صحافت کے دو سو سال کا محاسبہ “کے موضوع پر دربھنگہ میں مذاکرے کا انعقاد

دربھنگہ(نمائندہ) 27 مارچ 2022ءآج کا دن اردو صحافت کی تاریخ کا نہایت اہم دن ہے کیونکہ آج اردو صحافت کے آغاز کو دو سو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ ان دو سو برسوں میں اردو صحافت نے بہت سارے نشیب و فراا کا سامنا کیا ہے اور آج صحافت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ اردو صحافت کو عروج عطا کرنے میں ہمارے اسلاف کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے اور ہم ان کی قربانیوں و کوششوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ باتیں للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے صدر شعبہ ¿ اردو پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ پرانی منصفی دربھنگہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک مذاکرہ بعنوان ”اردو صحافت کے دو سو سال کا محاسبہ“ کی صدارت کرتے ہوئے کہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح اردو صحافت کو بامقصد بنا سکتے ہیں ۔ ہمارے اسلاف کے پاس صحافت کا ایک واضح مقصد تھا اور ایک نظریہ تھا جو آج کے دور میں مفقود ہے۔ اردو کے عظیم صحافیوں مولوی محمد باقر ، سرسید احمد خاں، مولانا ظفر علی خاں، حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کو آج ذہن نشیں کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے کارناموں کو عام کرنا لازمی ہے تب ہی ہم اردو صحافت کی روشن تاریخ سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالحی نے اردو صحافت کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی جنگ آزادی اردو زبان میں لڑی گئی اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو کے صحافی انگریز حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے میں دوسری زبانوں کے صحافیوں کے مقابلے پیش پیش رہے۔ آج ہم بھلے ہی ترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہوں لیکن اردو زبان کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے اور اچھائی کا پہلا قدم اپنے گھر سے اٹھاتے ہوئے اردو زبان کے چلن کو عام کرنا چاہئے ۔ گورکھپور سے تشریف لائے معروف فکشن نگار اور ناقد ڈاکٹر عبید اللہ چودھری نے لکھنو کی صحافت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے احمد ابراہیم علوی کی صحافتی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملت کالج کے شعبہ اردو کے استاذ ڈاکٹر شہنواز عالم نے اس مذاکرے میں اردو صحافت کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صحافت میں در آئیں کمیوں و خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج ہر شخص صحافی ہے اور وہ اپنے حصے کی صحافتی خدمات انجام دے رہا ہے لیکن ہمیں زبان کی درستگی پر خصوصاً دھیان دینا چاہئے۔ دربھنگہ کے معروف شاعر و ظفر صدیقی،پٹنہ اور ڈاکٹر رسول ساقی نے کہا کہ اردو صحافت کی جب بات کی جائے تو ہم الکٹرانک میڈیا کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے میدان میں اردو زبان و صحافت کا حصہ قدرے کم ہے۔ ہمیں ایسے پلیٹ فارموں پر اپنی آواز کو مضبوطی کے ساتھ رکھنا ہوگا تب ہی ہم اردو صحافت کی ہشت پہلو ترقی کے گواہ بن سکیں گے۔ اس مذاکرے کی نظامت اپنے خوبصورت انداز میں معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کی۔ انہوں نے اردو صحافت کے دو سو سال پورے ہونے کے حوالے سے تعارفی کلمات بھی ادا کئے اور آج کے پروگرام کی غرض و غایت بھی بیان کی۔ڈاکٹر منصور خوشتر نے کیا کہ عام صحافت کی پیدائش تقریباً دوہزارسال قبل ہوئی۔جب کہ اردو صحافت دو سو سالہ تاریخ کی گواہ ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو اردو صحافت، عمومی صحافتی ابتدا سے تقریبا18سوسال چھوٹی ہے۔تاہم اردو صحافت کو ابتدائی دنوں میں جن مسائل اور پرخطر حالات سے سابقہ پڑا ، وہ روم میں شروع ہونے والے پہلے اخبار کے سامنے نہیں تھے ۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردوصحافت کا پورا کارواں سنگلاح وادیوں سے ہوکر گزراہے۔ عارف حسن حاجی پور نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ بہار میں اردو صحافت ہندی اور انگریزی صحافت سے کافی پیچھے ہے لیکن حالیہ چند برسوں پر نظر ڈالی جائے توصبح کاذب کے بعد کی سی دھندلی سفیدی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اردو اخبارات کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے۔ اردو اخبارات اب دور دراز کے علاقوں میں بھی پہنچنے لگے ہیں۔ مواد اور گیٹ اپ وغیرہ کے اعتبار سے اردو اخبارات پہلے سے کہیں زیادہ دیدہ زیب اور معیاری شائع ہونے لگے ہیں۔
ایڈوکیٹ محمد صفی الرحمن نے کہا کہ دو سو سالوں سے اردو صحافیوں نے گراں قدر قربانیاں دی ہیں اور ہر شعبے میں تبدیلی اور برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہمارا سماج ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہوسکے۔ اس پروگرام کے موقع پر موجود حضرات میںظفر صدیقی، ڈاکٹر احسان عالم، جمال الدین ، ڈاکٹر ارشد حسین سلفی، ڈاکٹر ریحان احمد قادری، ڈاکٹر عبدالرافع نے بھی کای کہ اردو صحافت کی اصول سازی کی بات کریں تو اس میں” قومی آواز“ کا کردار بڑا اہم رہا ہے ، اسی طرح اردو صحافت پر جو نشیب وفراز آئے اور اسے جو ارتقاءکے مراحل نصیب ہوئے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *