علم کی اہمیت

۔۔۔۔۔۔ علم کی اہمیت ۔۔۔۔۔۔۔

 

تحریر ۔۔۔۔ تمیم اختر نورالعین سلفی ہرلاکھی مدھوبنی بہار

 

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ چودہ سو سال قبل ملک عرب کی حالت بد سے بدتر تھیں یہاں علم کے نام سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں تھا۔ چوری ،شراب نوشی، اور قتل و غارت گری اپنے شباب پر تھا ایک معصوم اور پھول سی کلی کی ولادت ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا یہاں لڑکیوں کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا تھا سر عام کسی کی عزت لوٹ لی جاتی تھی کہیں اور کسی وقت کسی بھی چہار دیواری میں کسی معصوم کی عزت و عصمت کی چادر اتار لی جاتی تھی ہر گھر میں میں شراب نوشی اور شراب خوری کا بازار گرم تھا ۔

 

 

ایسے نازک اور پرفتن دورمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نبوت کا تاج پہنایا گیا نبوت سونپی گئی اور ایسے نازک حالات میں ہر کسی کو ایک رہبر اور ایک سچے مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہمارے دکھتی رگوں پے ہاتھ ڈالیں ہمارے معاشرے سے جرائم کا سدباب ہو ہر کسی کی عزت و آبرو محفوظ رہ سکے۔

 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم غور فکر کیلئے مکہ سے باہر ایک غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے یہ کوہ حرا کا ایک غار ہے جسے کوہ فاران بھی کہا جاتا ہے ۔610 ء میں رئیس الملائکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی وحی لیکر تشریف لائے اس وقت آپ کی عمر مبارک چالیس سال تھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات نازل ہوئیں جسکی ابتداء ؛ اقرأ باسم ربک الذی خلق سے ہوئی ۔یعنی پڑھو(اے نبی) اپنے رب کا نام لیکر جس نے پیدا کیا ۔

یعنی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا آغاز اللہ نے علم سے کروائی سب سے پہلے علم سیکھنے کی تلقین کی گئی حالانکہ یہ دور جہالت جہاں سے تمام برائیاں جنم لیتی تھیں وہ اس بات کا متقاضی تھی کہ سب سے پہلے شراب نوشی پر پابندی عائد کی جائے قتل و خون ریزی پر قدغن لگایا جائے لٹتی ہوئی عزت اور تڑپتی ہوئی معصومیت کو بچایا جائے لیکن ان سارے جرائم اور برائیوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور کانپتی چلاتی دم توڑتی سسکتی ہوئ دنیا کو سب سے پہلے علم حاصل کرنے پر آمادہ کیا گیا ۔

کیونکہ علم وہ واحد ہتھیار ہے جسے حاصل کرنے کے بعد تمام برائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے تمام الجھے ہوئے مسائل کو سلجھایا جاسکتا ہے اندھیر نگری میں شمع روشن کی جاسکتی ہے حضرت انسان کو وحدانیت کا پارٹ پڑھایا جاسکتاہے حق اور باطل کے مابین تمیز کی جاسکتی ہے حقوق العباد سے روشناس کرایا جاسکتا ہے بھٹکتی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لایا جاسکتا ہے مختصر یہ کہ تمام برائیوں کا خاتمہ اور عالم انسانیت کو راہ ہدایت پر گامزن کرایا جاسکتا ہے اس لئے اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کو علم کی طرف رغبت دلائ

 

مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔ آج امت مسلمہ کو جو چیزیں اتنی آسانی اور سہولت سے سے فراہم کی گئی تھیں انہیں گنوا بیٹھے ہیں علم حاصل کرنے کی کوئی تڑپ نہیں رہی آج بھی جہالت سر چڑھ کربول رہی ہیں جبکہ علم کی اہمیت و افادیت کے مد نظر بے شمار قرآنی آیات اور لاتعداد احادیث موجود ہیں ۔دنیا میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔تو کہیں عالم کو عابد پر فضیلت دی گئی ۔تو کہیں ایک عالم کی قلم کی سیاہی کو شہیدوں کے خون سے افضل گردانا گیا آج بھی اسلام کی اشاعت میں علماء اور طالبان علوم نبوت اور مدارس و مکاتب اور مساجد کی مرہون منت ہیں ۔ پھر بھی آپ کو ایک مسلم سماج میں 85/فیصد جاہل ملیں گے انہیں مدارس سے علم سے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا حالانکہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر عورت پر فرض قرار دیا گیا ۔جب کہ ہر مسلم سماج میں مدارس کا اچھا بندو بست ہوتا ہے پھر بھی ہمارا گھرانہ جاہل کیوں؟

اگر یہ نظام غیر مسلم میں ہوتا تو اس کے بچے جاہل نہیں ہوتے ؟

بس اللہ رب العزت سے یہی دعا ہیکہ اے اللہ ہم مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی توفیق عنایت کر ۔تاکہ ہم تیری ذات کو پہچان سکے کما حقہ تیرا حق ادا کرسکیں حقوق العباد کو سمجھ سکیں اور معاشرے اور سماج سے برائیوں کا خاتمہ کر سکیں آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *