علم کی اہمیت

علم کی اہمیت

 

عبید نظام (گروپ ایڈیٹر اڑان نیوز

 

موجودہ تیز رفتار سائنٹفک دنیا میں جہالت کا تصور عیب مانا جاتا ہے ہر کس وناکس تعلیم کی طرف برق رفتاری سے گامزن ہے اور ایک دوسرے سے مقابلہ پر ہے یہی وجہ ہے کہ آج نہ تو اسکول وکالج کی کمی ہے اور نہ ہی کوچنگ وٹیوشن کی۔کوئی بھی فرد چھوٹی چھوٹی ،بنیادی اورمعمولی ضروریات کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔جب کہ ایک زمانہ تھا لوگ اپنے خطوط پڑھوانے کے لیئے پڑھے لکھے لوگوں کی خوشامد کرتے تھے اور اپنے پوشیدہ معلومات ومسائل کو نہ چاہتے ہوئے بھی افشاں ہونے سے نہیں روک سکتے تھے ۔

 

 

اب ہم بات کرتے ہیں کہ ابھی کے زمانہ میں جب لوگ اتنے تعلیم یافتہ ہوچکے ہیں تو کیا ان کے اندر وہی صلاحیت وقابلیت موجود ہے جو زمانہ قدیم کے پڑھے لکھے لوگوں کے اندر تھا ایک بات تو یہ کہ پہلے لوگوں کو ڈگری اورسندسے کوئی سروکار نہیں تھا کسی مکتب یا مٹھ کے اندر ایک استاذ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ان کو تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرتے بیک وقت تمام علوم پر ایک ساتھ عبور حاصل کرنے کی بے فائدہ کوشش نہیں کرتے کیوں کہ ہر آدمی الگ الگ صلاحیت کا مالک ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ پہلے کہ زمانہ میں لوگ روایتی علوم کہ علاوہ سے نابلد تھے بلکہ آج بھی لوگ اسلاف کہ تحقیقات سے مستفید ہورہے ہیں اسی کو اپنا مرجع و مصدر تصور کرتے ہیں۔

 

پہلے لوگ علم کو پاک نیت اور صحیح مقصد کے لیئے حاصل کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے میدان کہ شہسوار ہوا کرتے تھے آج علم کا حصول نوکری، دکھاوا اور ڈگری کے لیئے کیا جانے لگا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ علم کا حصول سوائے وقت گزاری اور بربادی کہ کچھ بھی نہیں رہا۔ ہمارے علم کے حصول کی دلچسپی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہم بیک وقت سب کچھ حاصل کرنے کے چکر میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں سوائے پچھتاوے کہ اور کچھ حاصل نہیں ہو پا رہاہے (ناچیز بھی اسی مرض میں مبتلا ہے)

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے صوابدید سے جو میدان چنیں اس کہ ہو کر رہ جائیں اپنے ذہن کو ایک ہی طرف مرکوز کرلیں اور اپنا محاسبہ ضرور کریں کہ آپ کس میدان میں اچھا کر سکتے ہیں کن نصاب میں آپ کی دلچسپی زیادہ ہے اور آپ بہتر کر سکتے ہیں اسی کو منتخب کریں انشاء اللہ کامیابی ضرور ملے گی۔

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *