علم کی اہمیت

علم کی اہمیت

 

 

صادق جمیل تیمی مدیر مجلہ “الفیصل”

 

 

 

تعلیم کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے جس قوم نے تعلیم کو اپنا دوست بنا لیا وہ ہر دور میں ترقی و کامیابی کے منازل طے کرتی رہی، لیکن جس قوم نے تعلیم سے عداوت کی اور اس سے اپنا دامن چھڑا لیا اسے شکست و زوال کا منہ دیکھنا پڑا اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں تعلیم ہی کے ذریعہ انسان کو سنوارا گیا ہے علم کے ذریعہ ہی اس کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی اور موجودہ دور کی نت نئی محیر العقول ایجادات و انکشافات بھی علم کی مرہون منت ہیں۔ جہاں تمام ادیان و مذاہب، تعلیم کو اعلیٰ معیار زندگی کے لیے ضروری مانتے ہیں۔ وہیں تعلیم مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ” طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم (سنن ابن ماجہ/220)یعنی علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نبیﷺ کی اس مختصر سی حدیث میں انسانی زندگی کی وسعت و گہرائی کو کھول دیا گیا ہے – تعلیم خیر و شر اچھائی و برائی میں فرق کرنے کا اہم ذریعہ ہے ، علم ہی انسان کو مقصد زندگی سے آگاہ کرتا ہے۔ کیوں کہ یہ نعمت و برکت کا خزینہ اور ہر طرح کے عروج و ترقی کا زینہ ہے یہی وہ تعلیم ہے جو محض منزل کے نشانات ہی نہیں دکھاتی بلکہ منزل تک پہونچا کر ہی دم لیتی ہے یہی وہ تعلیم ہے جس کی بنا پر رب کائنات نے انسان کو فضیلت بخشی ہے۔ و علم آدم الأسماء کلھا (سورۃ البقرہ /31) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھائے تعلیم کی اسی اہمیت کے سبب رب العالمین نے آپ ﷺپر وحی کا آغاز لفظ إقرأ سے کیا۔ إقرأباسم ربک الذی خلق (سورۃ العلق /۱)۔

اسلام کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے جہاں علم کی تعریف کی وہیں اس کے حصول میں سر گرداں رہنے والوں کی بھی مدح سرائی بھی کی لہذا ان کے بلند درجات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا” یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین أوتواالعلم درجات ( سورہ مجادلۃ /۱۱) اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات کو بلند کرتا ہے اور کہیں علم کے حصول کو جنت میں لے جانے کا ذریعہ بتلاتے ہوئے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا “من سلك طریقا یلتمس فیه علما سھل اللہ له به طریقا إلی الجنة (صحیح مسلم/7028) جس نے حصول علم کے راستے کا انتخاب کیا تو اللہ اس کے ذریعہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور زمانے کو حصول علم پر ابھارتے ہوئے ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا ” فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکواکب (صحیح الجامع الصغير : 2222) اور کہیں علم کو افضل صدقہ بتاتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا “أفضل الصدقة أن یتعلم المرء المسلم ثم یعلم أخاہ المسلم (ابن ماجہ) افضل صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان تعلیم سیکھ کر دوسرے مسلمان بھائی کو اس کی تعلیم دے ایک مہذب اور کامیاب زندگی کے لیے حصول علم بے حد ضروری ہے تعلیم ہی انسانی ذہن کو جلا بخشتی ہے اور اس کی روح کو معطر کرتی ہے ، تعلیم ایک اچھے اور صحت مند معاشرہ کو وجود بخشتی ہے ، تعلیم بے سہاروں کے لیے سہارا ہے تعلیم ہی کے ذریعے ایک پر امن اور پر سکون معاشرے کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اور اسی کے ذریعے سماج اور معاشرے کی برائیوں کو ختم کر کے ایک اچھے معاشرے اور سماج کی تشکیل دی جا سکتی ہے علم کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی مروی حدیث کوذکر کر دینا کافی ہوگا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ جو بندہ علم کی تلاش میں نکلتا ہے فرشتے اس کے لیے اپنا پر بچھاتے ہیں جنت کی راہ اس کے لیے کھل جاتی ہے آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات حتیٰ کہ اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں بھی مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں، اسی طرح ایک علم دین حاصل کرنے والے یعنی عالم کی فضیلت ویسی ہی ہے جیسے بدر منیر کو ستاروں پر ، علماء انبیاء کے وارث ہیں کیوں کہ انبیاء نے دینار اور درہم نہیں چھوڑا جس نے علم حاصل کرلیا وہ بڑی دولت کا مالک بن گیا۔ کسی نے سچ کہا ہے۔

علم وہ دولت ہے جو کبھی لٹتی نہیں

خرچ کرنے سے کبھی گھٹتی نہیں

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضور اکرم ﷺ سے علم دین کے فوائد کو اسی طرح نقل کرتے ہیں کہ علم سیکھنا عبادت ہے علم کا مذاکرہ کرنا تسبیح ہے علم کی تلاش کرنا جہاد ہے جاہلوں کو سکھانا صدقہ ہے ، علم حلال و حرام کی نشانی ہے جنت کے راستوں پر روشنی کا ستون ہے۔ تنہائی کا مونس اور دوست ہے، پردیش میں رفیق ہے تنہائی میں ساتھی ہے علم راحت و سکون کا ذریعہ ہے دشمنوں کے مقابلہ میں ہتھیار ہے، دوستوں کے لیے زینت ہے، علم بلند درجات کا ذریعہ ہے اخلاق و کردار کو احسن بناتا ہے۔

یہ علم ہی کا کمال ہے جس نے سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو مسجود الملائک بنایا یہ علم ہی کا کمال ہے کہ جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا یہ علم ہی تو ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو مرحمت فرمایا اور ان ہی حضرات کے علم سے ساری دنیا منور ہوااور علم کی روشنی سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ملی۔ انسان پر اس سے بڑا کرم و انعام کیا ہو سکتا ہے کہ علم و معرفت کا ایسا سورج روشن ہو گیا ہے جس کے نور کی نہ کوئی حد ہے اور نہ وہ کبھی بجھنے والا ہے اللہ رب العالمین نے لا یستوی الأعمیٰ والبصیر(سورہ فاطر /19) فرما کر علم کی عظمت و اہمیت پوری طرح واضح کر کے یہ بھی صاف کردیا کہ قلم و تحریر کے ذریعہ انسان کے علم کو جو وسعت اور فروانی بخشی گئی ہے۔ اس کا اندازہ کسی کے بس کا نہیں ہے اسلام کی نظر میں علم کا درجہ کیا ہے؟ اگر قرآن مجید میں سورہ علق کی ابتدائی چار آیتوں کے سوا علم کی فضیلت میں اور کچھ نہ کہا جاتا تب بھی کافی و وافی تھا لیکن قرآن بار بار علم کی عظمت و اہمیت کو نہایت دلکش پیرائیوں میں بیان کیا ہے۔ ایسے ہی علم کے ذریعہ جنت کا راستہ بھی آسان ہوتا ہے جناب محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا من سلك طریقا یلتمس فیه علما سھل اللہ له به طریقاالی الجنة (صحیح مسلم/7082)

جو بھی علم کی تلاش و جستجو میں کوئی سفر کرتا ہے تو اس کو یہ تصور کر لینا چاہیئے کہ یہ راستہ مسافت صرف حصول علم کیلئے نہیں بلکہ یہی راستہ اس کو جنت میں لے جانے والا ہے اور فرمایا کہ مخلص طالب علم کا اللہ کے یہاں وہ مقام و مرتبہ ہے کہ فرشتے جیسی پاکیزہ اور معصوم مخلوق ان کے قدموں کے نیچے اپنا پر بچھا دیتے ہیں رسول ﷺ کا ارشاد ہے فضل العالم علیٰ العابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکوکب (مشکوٰۃ المصابیح /۱: کتاب العلم) کہ ایک طالب دین کی فضیلت عابد کے اوپر ایسی ہے جیسے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے۔

بڑے ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ہمیشہ طلب علم میں رہتے ہیں۔ سفر کی تمام صعوبتوں کو برداشت کرتے ہیں تونگری، فاقہ اور مفلسی کسی بھی حال میں تحصیل علم سے منہ نہیں موڑتے بلکہ علم جیسے گرانقدر موتیوں سے اپنے سینوں کو معمور کر لیتے ہیں۔ اور خوش قسمت ہیں وہ والدین جو اپنے کلیجہ پر پتھر رکھ کر اپنے بیٹے کو اپنی آغوش اور اپنے وطن سے جدا کر دیتے ہیں۔ حامل قرآن و سنت بناتے ہیں۔ داعی اسلام اور اسلام کا علم بردار بنانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ اور کتنے محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی اولاد کو اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھتے ہیں مدارس اسلامیہ میں داخل کرانے کے بجائے اسکول، کالج اور یورنیورسٹی کی سپرد کرتے ہیں اور اپنے نور نظر اور لخت جگر کیلئے ایسے اداروں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں علوم دینیہ کا نام و نشان تک نہین ہوتا۔ اسلامی کلچر بالکل مفقود ہوتاہے مغریبی تہذیب کا رنگ چڑھا ہوا ہوتا ہے علوم عصریہ اور سائنسی علوم کو سراہا اور دینی علوم کا مذاق اڑایا جاتا ہے جہاں اسلامی شخصیات ابو بکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ، وعلی رضی اللہ عنہ کے بجائے رام چندر، ہنومان، کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ اسلامی غزوات و سرایا کے بجائے رامائن اور مہا بھارت کی کہانیاں پڑھائی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے لخت جگر کے لیے ایسے ہی اداروں کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *