نوجوانوں کی روزہ خوری اور موجودہ حالات

نوجوانوں کی روزہ خوری اور موجودہ حالات
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
ویسے تو یومیہ اللہ کے بندوں پر اللہ کی طرف سے بےشمار فضل و احسانات کی بارش ہوتی ہے اور اس کی طرف سے بےحد و حساب نعمتیں ہر روز نچھاور ہوتی ہیں؛ مگر اہل ایمان پر رب کریم کی ایک عظیم الشان مہربانی اور خاص عنایت سال بھر کے بعد ماہ رمضان المبارک کا اس کی زندگی میں ایک مرتبہ اور لوٹ آنا ہے۔ گویا گذشتہ رمضان المبارک کے گذر جانے کے بعد آئندہ رمضان تک ہمارا باقی رہنا اور اعضاء بدن کی سالمیت کے ساتھ ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں اور اس کے لیل و نہار میں خالق دو جہاں کی طرف سے ہونے والی رحمت و برکات سے لطف اندوز ہونے کا موقع نصیب ہو جانا یہ بھی اس کا فضل و کرم اور بندوں کی خوش قسمتی ہے۔ ورنہ ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کا مشاہدہ تقریبا ہر سال کرنے کو ملتا ہے کہ: “گذشتہ سال محلے کی مسجد میں دوران نماز و تراویح اور بوقت تہجد و افطار کچھ بزرگ و جوان ہمارے ساتھ اور درمیان ہوا کرتے تھے، ہمارے ہمسائے اور قریب و بعید کے رشتے دار بھی اسی دنیا میں باحیات تھے؛ مگر امسال جب ہم اپنے ہمسائے اور رشتہ داروں کی طرف دیکھتے ہیں اور اپنی مسجد کی صفوں میں نظریں دوڑاتے ہیں تو نہ تو ہمیں وہ نمازی نظر آتے ہیں، جن کی معیت و رفاقت میں ہم نے گذشتہ سال عبادات انجام دی تھیں اور نہ ہی ہمیں اپنے وہ پڑوسی اور رشتہ دار نظر آتے ہیں جن کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا اور لینا دینا ہوا کرتا تھا؛ کیونکہ ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ سب اپنے وقت موعود پر اپنے رب حقیقی سے جا ملے۔ مقام شکر ہے کہ ہمیں ہماری زندگی نے اس سال بھی مہلت و فرصت دے رکھی ہے اور ہم مکمل احساس و شعور کی دولت سے مالا مال اور روح و قلب کی تندرستی سے بہرہ مند ہیں۔ موت؛ جس کی آمد میں کوئی شک نہیں اور زندگی؛ جس کی کوئی ضمانت و گارنٹی نہیں، اس بات کی یاد دہانی اور قدر دانی کے واسطے کافی ہیں کہ جو بھی کرنا ہے آج اور ابھی کر گزرو، کل کا یا پھر کا کوئی سہارا نہیں۔
ماہ رمضان المبارک کی آمد ہو چکی ہے اور یہ مبارک مہینہ اپنی مبارک ساعتوں، نورانی لمحات اور مکمل جلوہ افروزی کے ساتھ ہمارے سروں پہ سایہ فگن ہو کر اپنی بےتاب کرنیں اور رحمت و برکات سے ہم سب کو فیضیاب کر رہا ہے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسیؓ سے حدیث رسول (ﷺ) مروی ہےکہ:
“نبی کریم (ﷺ) نے شعبان کے آخری دن ہم کو خطاب فرمایا اور کہا اے لوگو! تمہارے اوپر ایک عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، جو بڑا بابرکت ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار راتوں سے بہتر ہے، اللہ پاک نے (دن میں) اس کے روزے کو فرض اور راتوں کی عبادت کو نفل قرار دیا ہے، جو شخص اس ماہ میں کسی نفل عبادت کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دیگر مہینوں میں فرض ادا کرے اور جو شخص اس مہینہ میں فرض ادا کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دیگر مہینوں میں ستر فرض ادا کرے (ماہ مبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے) یہ احسان اور حسنِ سلوک کا مہینہ ہے جس میں اللہ رب العزت مؤمن کے رزق میں اضافہ فرما دیتا ہے، جس شخص نے اس ماہ مبارک میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے گناہ کو معاف کر دیا جائےگا اور جہنم سے اس کو آزادی دے دی جائےگی، اور اس کو روزہ دار کے ثواب کے بقدر اجر سے نوازا جائےگا؛ روزہ دار کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کئے بغیر۔
صحابہ کرام نے کہا یا رسولﷲ ﷺ ! ہم میں سے ہر ایک کے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ ہم روزہ دار کو افطار کرا سکیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ رب العزت درج بالا ثواب ہر اس شخص کو عطا کرےگا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرا دے اور جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے، اللہ پاک اس کو میرے حوض سے ایسا جام پلائےگا کہ جس کے بعد اس کو جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگےگی۔ وہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے گلو خلاصی کا ذریعہ ہے۔ جس نے اس ماہ مبارک میں اپنے ملازمین، غلاموں (نوکر چاکر) اور ماتحتوں سے کام میں تخفیف کر دی اور ان کا بوجھ ہلکا کر دیا اللہ رب العزت اس کی مغفرت فرمائےگا اور اس کو جہنم سے آزادی دے دےگا”۔ [مشکوٰۃ شریف:174]
ذکر کردہ روایت میں اللہ کے نبی (ﷺ) نے ایک بہت ہی شاندار تعبیر ارشاد فرمائی ہے، جس کی طرف ہر شخص کو توجہ دینی چاہئے، اور وہ یہ ہے: یٰٓأَیُّھَاالنّاسُ قَدأَظَلَّکُم شَھرٌعظِیمٌ شھرٌمُبارکٌ۔ اے لوگو! تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آنے والا ہے جو نہایت عظمت و بابرکت ہے، سو تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ ہر حال میں اس کی قدر دانی کرے اور اس کی ناقدری سے بچے؛ کیونکہ اللہ تبارک و تعالی اس عظمت و بابرکت مہینہ میں اپنے بندوں کو اعمال خیر بجا لانے کا بھرپور مواقع عطا فرماتا ہے، اور اعمال شر و خواہشات نفسانی اور ہر قسم کے مکر و فریب سے اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ انتہائی خوش قسمت اور نصیب والے ہیں اس کے وہ بندے جو اپنے ذہن و دماغ میں یاد الہی کی شمع روشن کرتے ہیں اور اپنے مزاج و طبیعت میں عبادات کا شوق پیدا کرتے ہیں اور اس ماہ کی ساعات و لمحات میں مگن ہوکر زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے اور ایک دوسرے پر مسابقت و مسارعت کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ یہی وہ ماہِ مقدس ہے جس کے عشرۂ ثلاث میں عبادت و ریاضت اور ذکر و تلاوت کرنے والوں کو باری تعالی خصوصی انعام و اکرام سے نوازےگا اور ان کو جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا کرےگا۔
واضح رہے کہ اس ماہ مبارک کی سب سے عظیم، مخصوص اور قابل قدر عبادت اس ماہ کے روزے رکھنا اور پورے اشتغال و انہماک کے ساتھ ان کی تکمیل کرنا ہے؛ جیسا کہ قرآن کریم کی سورۂ بقرہ کی آیت/183 میں فرمایا گیا ہے:
اے ایمان والوں! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے؛ تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
یعنی اللہ رب العزت نے ماہ رمضان کے روزوں کو اس امت پر ویسے ہی فرض قرار دیا ہے، جیسا کہ ماقبل امتوں پر روزے فرض قرار دئے گئے تھے۔
اسی طرح حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ:
جو شخص رمضان المبارک میں ایمان و احتساب (اجر و ثواب کی پوری امید) کے ساتھ روزے رکھےگا، اس کے گذشتہ کے تمام گناہ بخش دئے جائیں گے۔ (مشکوٰۃ:173)
مگر فی زمانہ دیکھنے میں یہی آ رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے افراد سے بھرا پڑا ہے جو بغیر کسی عذر شرعی اور کسی سخت عدم مجبوری کے روزہ کو چھوڑنا کوئی عیب و گناہ تصور نہیں کرتے اور وہ کھلم کھلا علی الاعلان روڈ کنارے لگے ہوٹل اور راہ چلتے کھاتے پیتے پائے جاتے ہیں، اشیاء خورد و نوش کی دوکانوں کے سامنے لٹکے پردوں کا فائدہ اٹھا کر اور چائے خانوں میں بیٹھ کر چائے نوشی کرنے کا رواج بالکل عام ہو گیا ہے، حالانکہ پہلے کے لوگ مجبوری اور بحالت عذر بھی اس طرح کھانے پینے سے احتراز کیا کرتے تھے اور دیگر روزے داروں کے احترام میں شام ہونے تک اپنی حالت روزے داروں کی سی بنائے رکھتے تھے، مگر جیسے جیسے لوگ قرآن و حدیث اور شریعت مطہرہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ان کے مزاج میں تبدیلی واقع ہوتی جا رہی ہے اور طبیعتوں میں ڈھٹائی، ہٹ دھرمی اور دلوں سے خوف خدا نکلتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے آج ملت کا ہر شخص رنج و غم، دکھ درد اور مختلف پریشانی نیز خود ساختہ مسائل کے انبار تلے دبا ہوا خود کو محسوس کر رہا ہے اور ان مسائل کے حل میں ادھر ادھر سرگرداں ہے۔
دور حاضر کے مسلماں کو آج جو مصیبت و پریشانی کا سامنا ہے اور باطل طاقتیں جو اس کا منھ نوچ رہی ہیں، ان سے سابقہ پڑنے میں خود اس کے اعمال کو بڑا عمل دخل ہے۔ آج اگر مسلمان سنت و شریعت کو اپنا رہبر و رہنما بنا لے اور حقیقی زندگی میں قرآن و حدیث سے اپنا رشتہ مظبوط و استوار کر لے تو جن پریشانی اور مسائل سے وہ جوجھ رہا ہے، ان سے نجات حاصل کرنے والا ہو جائے اور خدا کے عذاب اور اس کی گرفت سے محفوظ و مامون ہو جائے؛ مگر مسلمان اپنی موجودہ روش ترک کرنے اور اسلامی نہج پر آنے پر آمادہ ہی نہیں ہے تو نصرت الہی اور غیبی مدد کیسے ہمارے شامل حال ہو اور کیسے ہمیں زندگی کی آزمائش اور باطل طاقتوں کی سلطانی سے آزادی حاصل ہو؟
ایسے تمام لوگوں کو خداوند قدوس کی پکڑ اور اس کے دردناک عذاب سے پناہ مانگی چاہئے اور ڈرنا چاہئے جو موسم کی نرمی گرمی اور شدت و برودت کو بہانہ بنا کر یا معمولی عذر کے پیش آجانے کی وجہ سے رمضان المبارک کا روزہ ترک کر دیتے ہیں اور دن بھر کھاتے پیتے رہتے ہیں اور وہ تمام اصحاب بھی اس جانب متوجہ ہوں، جو ان روزہ خوروں کے واسطے دوکان و اسٹال پر پردے کی آڑ میں ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں اور انہیں سہارا دیتے ہیں، چونکہ گھروں میں تو خواتین ان کےلیے کوئی انتظام کرکے دے نہیں سکتیں؛ اس لئے یہ روزہ خوری کرنے والے دن نکلنے پر باہر کی راہ لیتے ہیں اور پیسوں کے عوض اپنی بھوک پیاس مٹا لیتے ہیں۔ اگر یقین نہ ہو تو ذرا مسلم آبادی والے علاقوں اور محلوں کا دورہ کر لیجئے، جہاں جگہ جگہ کھانے پینے کے اسٹال اور ٹھیلوں پر لگی بھیڑ نظر آپ کو آئےگی، پلیٹ اور چمچوں کے ٹکرانے کی آوازیں آپ کو سنائی دیں گی اور پردہ کے مکمل اہتمام اور ایکسٹرا نگرانی پر معمور آدمی کے ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حلیم بریانی اور نہاری روٹی کھانے میں مشغول نظر آئےگی، یا مسلم اکثریتی علاقے کے نوجوان آپ کو لہو و لعب اور تاش و کیرم کھیلتے ملیں گے؛ جن کے ایک ہاتھ گوٹی اور دوسرے میں روٹی (کھانے کی چیز) آپ کو نظر آئےگی۔
کیا یہی سب صیام رمضان کا تقاضہ اور اس کے لیل و نہار کی قدر ہے؛ کہ ہمارا نوجوان اپنی جوانی کا استعمال اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں گزارے اور قوم کا متدین طبقہ ان کی اس کھلی بےحیائی اور بےحرمتی پر خاموش تماشائی بنا رہے، نہیں؛ ہرگز نہیں، بلکہ مسلم محلے اور علاقے والوں کو چاہئے کہ وہ ایسے تمام دوکان داروں اور ہوٹل و اسٹال لگانے والوں کا سماجی بائیکاٹ کریں جو جوانوں کی روزہ خوری کا سبب و ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور جوانوں کو بھی دینی تعلیم سے قریب کر ان میں شعور و آگہی پیدا کریں اور آخرت کی جواب دہی کا خوف ان کے دلوں میں بٹھائیں۔ تبھی ہم دنیاوی مسائل سے چھٹکارا پانے اور آخرت کی کامیابی و سرفرازی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور اسی وقت ہم سے ہمارا رب خوش اور راضی ہوگا۔ بصورت دیگر آج جن مشکل و دقیق حالات کا ہم سامنا کر رہے ہیں؛ ان میں اضافہ اور سختی تو ہو سکتی ہے، کمی اور نرمی مشکل ہے۔ اس لئے کہ جب تک قوم مجموعی اعتبار سے رجوع الیﷲ نہیں ہوتی، حالات کا سازگار و موافق ہونا امر مشکل ہے۔
اللہ کا شکر ادا کریں اور یہ ماہ رمضان المبارک جس نے ہماری زندگی میں موسم بہار اور نیکیوں کا سیزن بن کر دستک دی ہے، اس کے ہر آن و ہر لمحہ کی قدر دانی کریں اور اس کی رحمت و برکات سے مستفیض ہونے اور بخش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کی کامیاب کوشش و جستجو کریں اور دل میں ہر دم یہ احساس تازہ کرتے رہیں کہ نہ معلوم آئندہ یہ مبارک و مسعود مہینہ ہماری زندگی میں آئےگا بھی یا نہیں؟ یا اگر نصیب ہو بھی جائے تو کیا معلوم ہماری صحت و تندرستی عبادت و ریاضیت بجانے کے قابل ہو یا نہ ہو؟ اس لئے ماہ رمضان اور اس کی ہر گھڑی کو آخری جان کر مکمل ہوش و حواس اور بیدار مغزی کے ساتھ باری تعالی کی ذات سے یقین کامل حاصل کرتے ہوئے اس کی عبادت و بندگی میں گزارنی چاہیے اور اس ماہ کی تمام خصوصی عبادات میں خود کو مشغول کر اپنی نجات اور اخروی کامیابی کا سامان تیار کرنا چاہئے۔
(باری تعالی ہم سب کو عمل صالح کی توفیق سے نوازے اور عمل شرّ سے محفوظ فرمائے، نیز اس ماہ مبارک کو مکمل طور پر ہماری سعادت و نیک بختی اور بخشش کا مؤثر ذریعہ بنائے؛ آمین)
(mdqasimtandvi@gmail.com)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *