الہان عمر کی بے باکی سے مودی حکومت میں بے چینی۔۔؟

الہان عمر کی بے باکی سے مودی حکومت میں بے چینی۔۔؟
عارف شجر، حیدرآباد(تلنگانہ)
8790193834
……………………….
ملک کے لوگ اب یہ بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ2014 کے بعد سے ملک کی تقدیر اور اور تصویر دونوں بدلتی جا رہی ہے انہیں یہ بھی سمجھ میں آنے لگا ہے کہ جب سے ملک میں مودی حکومت بر سراقتدار آئی ہے ملک کے باشندوں پر یکساں نظریہ ایک خواب سا ہو کر گیا ہے۔ ایک طبقہ کو اظہار آزادی کی کھلی چھوٹ تو دوسرے کی زبان پر قدغن لگانے کا کھیل جاری ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہندوستان میں جس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ملک میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتیاں اور ذہنی اذیتیں جس طرح سے ان دو سالوں کے اندر تیزی سے بڑھی ہیں اس کی گونج بیرون ممالک تک پہنچ گئیں ہیں۔
مودی حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو لے کر امریکی پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھنے لگی ہیں۔الہان عمر امریکی کانگریس (ایوان زیریں) کے صومالی نژاد رکن نے ہندوستان میںہو رہے مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالی پر بے باک ہو کرآواز اٹھائی ہیں۔الہان نے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے موضوع کو امریکی پارلیمنٹ میں کھل کر اور بے باک طور سے اٹھایا ہے یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے حالات زار پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ آپ کو میں واضح کر دوں کہ الہان عمر حقوق انسانی کی علمبردار ہیں اور دنیا میں جہاں بھی حقوق انسانی کی پامالی ہوتی ہے انکے خلاف جم کر آواز اٹھاتی ہیں۔ الہان عمر نے اس بار مودی حکومت کی مسلمانوں پرزیادتیوں کو لے کر بے خوف ہو کر امریکی پارلیامنٹ میں آواز بلند کی ہیں اور سخت سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ الہان نے کہا کہ ہندوستان میںمسلمانوں کے مذہبی معاملات، بولنے، کھانے پینے، پہنے اورانکے کاروبار پر پابندی عائد کرنا کہاں تک جائز ہے چونکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اس میں سبھی کو اپنی آزادی سے رہنے کھانے پینے پہنے اور بولنے کا حق حاصل ہے لیکن انہیں مودی حکومت کے ذریعہ حراساں کیا جا رہا ہے۔امریکی پارلیمنٹ میں الہان نے ہندوستان میں حجاب پر پابندی، حلال گوشت پر پابندی، اذان کی آواز پر پابندی مسلمانوں کے کاروبار پر پابندی اور انکی نسل کشی کے اعلانات کا ذکربڑے بے باک انداز میں کیا۔ ایسے کئی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ان حالات میں خاموش رہا جاسکتا ہے؟ یہاں تک کہ الہان نے ان سلگتے ہوئے موضوع کو امریکی پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے سوال پوچھا ہے کہ وہ ہندوستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کودیکھتے ہوئے خاموش کیسے ہیں ؟ آپ انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں۔کیا امریکہ کے انسانی حقوق کے سارے دعوے صرف اس کے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے ہوتے ہیں؟ الہان کے سخت اور مدلل سوالات کے بعد امریکی حکومت انکے سوالوں کے جوابات دینے پر پر مجبور ہو گئی یا یوں کہیں کہ الہان نے امریکی حکومت کو جواب دینے پر مجبور کر دیا ، امریکی حکومت نے اپنے جواب میں بتایا کہ دھرم سنسد پر نوٹس لیا گیا ہے اور اس پر اعتراض امریکی حکومت تیار کر رہی ہے اور تازہ معاملات پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں مودی حکومت سے بات کی جائے گی۔
اب مودی حکومت سے امریکی حکومت کب بات کرے گی یہ تو وقت بتائیگا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مودی حکومت اپنے ایجینڈے میں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب کی دنیا میں مثال پیش کرتا ہے لیکن شاید اب یہ صرف کہنے اور سننے میں اچھا لگتا ہے ملک میں جس طرح سے نفرت پھیلائی جا رہی ہے اس سے یہ نہیں لگتا کہ یہ ملک کبھی وشو گرو بنے گا، مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی کامیابی نے فرقہ پرست قوتوں کے حوصلے کو مزید بلند کر دئے ہیں یہی وجہ ہے کہ حجاب سے لے کر،اذان اور کھانے پینے پر پابندی تک ایک طبقہ کے اوپر لگایاجا رہاہے۔چرچہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کو مزید ہوا دینے میں ایک فلم ” دی کشمیر فائل“ کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس نے پورے ملک میںہندو اور مسلمانوں کے بیچ خلیج پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس فلم کو پرموٹ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کیا اور جسے ہمارے ملک کے پی ایم پرموٹ کردیں تو ظاہر ہے کہ اس فلم میں دیکھائے جانے والے مناظر سچ ہی ہونگے، کچھ کا کہنا ہے کہ سچ نامکمل ہے ایک طرفہ اسٹوری کی منظر کشی کی گئی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس فلم میں سچ جس طرح سے دیکھایا گیا ہے اس سے ایک طبقہ پوری طرح بوکھلایا ہوا ہے اسے کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے بس اسے مسلمانوں کو جان سے مارنے اور کاٹنے کے لئے تلوار اٹھانے اور مسلمانوں کی بہن بیٹوں اور بہوﺅں کو کھلے عام ریپ کرنے کی دھمکی دی جا رہی ۔ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو ہوا اس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور قصورواروں کو انکے کیف کردار تک پہنچانے کی حکومت سے اپیل بھی کرتے ہیں لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک طبقہ کے تئیں متنازعہ بیان دینے کے باوجود ملک کی سالمیت کے لئے پی ایم مودی کی زبان سے ایک لفظ تک نہیں نکلتا ہے اور نہ ہی انکی جانب سے کوئی ٹوئٹ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں یہ اپیل ہو کہ ملک کے عوام اپنی ایکتا اور اکھنڈتا کو بنائے رکھیں، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے اچھا ہے کہ مل کر رہا جائے تبھی ملک کی ترقی ہوگی۔ یہ سچائی ہے کہ پی ایم مودی کے ذریعہ لوگوں سے اپیل نہ کرنے کی وجہ ہی ہے کہ فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند نظر آ رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ ”جب سنئیاں بھیل کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا“
بہر حال! حجاب، اذان، حلال گوشت، مندر مسجد، ہندو مسلم جس طر ح سے ہمارے ملک میں کیا جا رہا ہے اور اسے فروغ دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بیرون ملک میں ہندوستان کی شبیہ بے حد خراب ہو رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ الہان عمر جیسی خاتون کو امریکی پارلیمنٹ میں ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں آواز اٹھانی پڑ رہی ہے۔حتہ کہ متحدہ عرب امارات کی شہزادی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں یہ کہا ہے کہ ہندوستان کی زرمبادلہ آمدنی میں 50 فیصد حصہ پانچ مسلم ممالک سے آتا ہے ۔ عرب شہزادی نے ہندوستان میں مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کئے جانے کے اعلان کے بعد لکھا ہے۔ شہزادی کا یہ ٹوئٹ یقینا ہندوستان کے لئے لمحہ فکر ہے۔وہیں دوسری جانب مودی حکومت کا ایجنڈا اگر اسی طرح قائم رہتا ہے تو ملک کی معاشی حالات پر کافی اثر پڑے گا جبکہ ابھی سے ہی ملک کی معاشی حالات نازک دور سے گذر رہی ہے ۔ اس لئے مودی حکومت خصوصی طور سے پی ایم مودی سے اپیل ہے کہ اپنے تخریبی ایجینڈے کو بلائے طاق رکھ کر ملک کی فلاح و بہبود کے بارے میں فکر کی جائے ،جس سے ملک کے ہر ایک طبقے کو فائدہ پہنچے اور بیرون ملک میں بھی ہندوستان کی کامیابی اور یہاں کی جمہوریت اور انسانی حقوق کا ڈنکا بجے
ختم شد

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *