فلسفۂ صوم اسلامی

فلسفۂ صوم اسلامی

عبدالمبین بن محمدجمیل سلفی ایم اے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتداۓ آفرینش سے ہی اللہ تعالی کے نزدیک سال کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے ان میں کچھ ماہ ایسے ہیں جنکی اہمیت وفضلیت مسلم ومصدق ہے انہیں میں سے ماہ رمضان بھی ہے جس میں خصوصی طور پر بندے اللہ سے لولگاتے ہوۓاسکے فیوض وبرکات سے اپنے تہی دامن کو پر کرتے ہیں فرائض کے ساتھ نوافل کا بھی خوب خوب اہتمام کرتے ہوۓاپنی لغزشوں پر اللہ سے خصوصی طور پر مغفرت کے طالب ہوتے ہیں

صوم “روزہ “کی تعریف

رمضان المبارک میں کچھ اعمال ایسے ہیں جنہیں عمل میں لانے کی شدید تاکید کے ساتھ بے انتہا اجر وثواب کاوعدہ بھی کیا گیا ہے جسمیں سب سے اہم عمل روزہ ہے جسے اسلام کے ارکان خمسہ کا ایک رکن عظیم قرار دیا گیا ہے
روزہ کی تعریف بایں الفاظ علماء نے کی ہے

“*صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی سے ہمبستری کرنے سے رکنے کے ساتھ تمام محظورات ومحرمات سے صرف اللہ کی عبادت کی نیت سے اسکی رضامندی کے لئے رکے رہنا”

الجامع لاحکام القران 2/269بحوالہ مکی عہد نبوی میں اسلامی احکام کا ارتقاء صفحہ 137

*صوم کی اہمیت وافادیت* :

کسی بھی چیز کی اہمیت وافادیت کا اندازہ اس وقت مزید ہوتا ہے جب اسکے متعلق کوئ ٹھوس دلیل یا کسی صاحب راے کا موقف معلوم ہوتا ہے چنانچہ رمضان کی اہمیت وافادیت کا اندازہ بھی قرآن کی ایتوں اور اسکے متعلق نبی کے فرامین سے ہوتا ہے اسی وجہ سے سلف صالحین کے متعلق  مذکور ہے کہ وہ رمضان کی آمد سے چھ ماقبل اسے پانے اور اسمیں خالصتا لوجہ اللہ عمل کرنے کے لے دعا کرتے اسی طرح اسکے گزرنے کے بعد اسمیں کئے اعمال کو اللہ سے قبول کرنے کی درخواست کرتے تھے

لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف ص280

رمضان کی اہمیت کے ساتھ اسکی افادیت کا انکار سوائے کج فہم و کج رو کے اور اسکے جسکی فطرت سلیمہ نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا ہو  کوئ اور نہیں کرسکتا
روزے کے بہت سارے فوائد ومضمرات ہیں چنانچہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ تقوی کا حصول ہوتا ہے اور تقوی انسان کے اخلاق وکردار کو سجانے وسنوارنے میں موثر اور اہم کردار ادا کرتا ہے جیسا اللہ رب العزت نے مقصد روزہ کو بیان کرتے ہوے فرمایا

*یاایھاالذین کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون  سورۃالبقرۃ  آیت 83*
حالت روزہ میں انسان برائیوں سے اجتناب کرنے کی حتی المقدور سعی پیہم اور جہد مسلسل کرتا ہےجو اسے اللہ کے قریب لیجاتی ہے اسی طرح روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتوں کو مغفرت واجر عظیم کا مژدہ وپیغام سے بہروہ کیا گیا ہے
مفہوم آیت سورۃالاحزاب 35

چنانچہ اس سے بڑھ کر فائدہ اور منفعت بخش سودا کیا ہوسکتا ہے کہ انسان کو معدودے چند دنوں کی بھوک وپیاس برداشت کرنے کے عوض ابدالآباد نعمتوں سے نوازا جاۓ
مفہوم حدیث مسند احمد ج 38ص350حدیث 3224 وھوحدیث لغیرہ صحیح الترغیب والترھیب رقم الحدیث 985

*فلسفہ صوم*

ہر ایک عبادت جسے اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے وہ حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہے ہرایک کے عقب میں ایک عمیق مصلحت مضمر ہے چنانچہ صوم بھی اسے میں سے ایک  ہے جو بندے سے مادہ پرستی کے رجحان   کو بہت حد تک کم کرنے کا بہترین سبب ثابت ہوتا کیونکہ  مادی اشیاء جو انسانی بدن کو خواہش نفس کی جانب لیجاتی ہیں ان کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے

ایک قسم کی چیزوں کا تعلق معدہ سے ہے جس میں کھانا پینا اور اسکی ضرورتیں پوری کرنے والی تمام چیزیں شامل ہیں
معدہ میں پہونچنے کا ذریعہ منہ ہے لھذا کھانا پینا اور معدہ تک پہونچنے والی تمام چیزوں کو خاص مدت تک کے لئے روک دیا جاتا ہے ان میں غذا پانی مشروبات کے علاوہ سگریٹ بیڑی جیسی چیزیں شامل حتی ناک وغیرہ کے ذریعہ منہ میں جانے والی چیزوں کوبھی منع کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے راستے سے معدہ تک نہ پہونچ جائیں
بنیادی مقصد معدہ کو ایک مدت کے لئے خالی رکھنا اور خطرناک بیماریوں سے بچانا
دوسری قسم کی چیزوں کا تعلق انسان کی جنسی حس سے ہے یہی جنسی حس اسے خواہشات نفسانی تک لیجاتی ہے لہذا جنسی حس کے تقاضوں پر بھی ایک مدت تک پابندی عائد کی جاتی ہے اس میں صرف میاں بیوی کے ازدواجی جنسی ارتباط ہی شامل نہیں بلکہ ہر مرد وعورت کی جنسی قوت کو ایک مدت تک پابند صبر کردینا بھی شامل ہے
یہی وجہ ہے کہ ہرجنسی عمل کو دوران روزہ حرام قرار دیا گیا ہے
دراصل شہونی لذات مردود نہیں ہیں جیسا کہ دوسرے مذاہب وافکار میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی بہیمی قوت کو توڑنا مقصود ہے کیونکہ ان دونوں کے فوائد بھی ہیں لہذا وہ اصلا مباح ہیں بس روزہ کے ذریعہ ان کو خواہش نفسانی سے قابو میں کرنا اور پاکی حاصل کرنا ہے

مکی عہد نبوی میں اسلامی احکام کا ارتقاء  باب روزہ ص137 138

*صوم اسلامی کی جہتیں*

مذھب اسلام نے اپنے پیروکاروں اور متبعین پر سال میں  ایک ماہ جو جو روزہ فرض کیا ہے وہ یونہی عبث میں نہیں اور نہ ہی اسکے ذریعہ کسی کو حرج میں ڈالنا مقصود ہے جیسا کہ دشمنان اسلام باور کراتے ہیں بلکہ اگر روزہ کے مفہوم اور اسکی جہت پر توجہ مرکوز کیا جاۓتو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ سراسر انسان کے لئے منفعت بخش ہے
اسطرح سے اگر دیکھا جاےتو رمضان کا روزہ اپنے آپ میں دو جہتیں رکھتا ہے

*جہت اول*

جہت اول ہے مادی اشیاء سے ایک خاص وقت تک رکنے اور پرہیز کرنے کی جہت اسی معنی میں روزہ کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ صبر ‘احتیاط وگریز اور اجتناب کے لغوی معانی ومفاہیم رکھتا ہے
*جہت ثانی*
روزہ کا دوسری جہت ہے اخلاقی برائیاں پیدا کرنے والی چیزوں سے بچنے کی جہت کیونکہ انسان صرف مادہ کا بنا ہوا نہیں ہے بلکہ وہ بدن وروح  کا جامع ہے اور جسم وبدن کے ساتھ روح و اخلاق کا تزکیہ ہی روزہ کا مقصود ہے اسی کے مجموعہ کو قرانی اصطلاح میں تقوی کہا جاتا ہے
حوالہ سابق باب روزہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *