آہ !۔۔۔ رحمت کا عشرہ رخصت ہوا۔

آہ!۔۔۔ رحمت کا عشرہ رخصت ہوا۔

رمضان المبارک کا مہینہ بڑا ہی بابرکت، رحمتوں و عظمتوں والا ہے۔ اس کی ہر ایک لمحہ مومنوں کے لئے نور کی بارش کرتا ہے۔ اس کے ہوا کے جھوکے عاصیوں کے دامنوں کو معطر کرتے ہیں۔ اس ماہ فرقان کے دن و رات مسلمانوں کی مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ روزہ داروں اللہ عزوجل خود اپنے دستِ مبارک سے انعام و اکرام دیتا ہے۔ اس مہینے میں اللہ ربّ العزت کا دریائے رحمت جوش میں ہوتا ہے‌۔ جس سے مسلمانوں فیض یاب ہوتا رہتا ہے۔ رمضان کی تجلیاتوں ، رحمتوں اور مغفرتوں کی خوشیوں سے ہر عام خاص معطر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر یہ عظیم ماہ کے دن انتہائی تیز رفتاری سے گزر جاتے ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ کب پہلا عشرہَ مغفرت ہم سے جدا ہوا جاتا ہے۔ ہم تو بس گنتی میں لگے رہتے ہیں‌۔ پہلا ۔۔دوسرا ۔۔ تیسرا ۔۔۔۔۔۔ مگریہ معزز ایام بہت جلد ہم سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں تین عشرے ہوتے ہیں۔ اول عشرہ ابتدائی دس دنوں کا ہوتا ہے جسے رحمت کا عشرہ کہتے ہیں۔ ان دس دنوں میں اللہ ربّ العزت اپنے بندوں پر بالخصوص روزہ داروں پر اپنا خاص فضل و کرم فرماتا ہے۔ ان کی جھولیاں بیش قیمت رحمتوں سے بھر دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے ابتدائی دس ایام میں ہر بندہ رحمت کی دعائیں مانگتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کی بے شمار فضائل قرآن و حدیثِ مبارکہ میں موجود ہیں۔

چنانچہ حضرت ابرہیم ؑ کو صحائف پہلے عشرے میں دئیے گئے۔ اس طرح حضرت موسی علیہ السلام پر تورات 6 رمضان المبارک کو نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ “اے موسیٰ علیہ السلام میں نے امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نور عطا کیے ہیں، جس نے ان دونوں سے دامن وابستہ کرلیا وہ دونوں جہان کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ ” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ وہ کون سے نور ہیں؟ ارشاد باری ہوا کہ ”ایک نور قرآن‘ دوسرا نور رمضان۔ رمضان المبارک امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منفرد عظیم نعمت ہے۔ جو پہلے کسی امت کو عطا نہیں ہوئی۔ اس بارے میں ہمارے پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “رمضان کے مہینے میں میری امت کو پانچ نعمتیں دی گئیں جو کہ مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔ رمضان کی پہلی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے، اور اللہ جس کو نظرِ رحمت سے دیکھ لے اس پر عذاب ناممکن ہے۔ اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی خوشبو مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے دن رات روزے داروں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنت کو بندوں کی خاطر سجانے اور سنوارنے کا حکم دیتا ہے۔ اور آخر بات رمضان کی آخری رات اہل ایمان کی بخشش کر دی جاتی ہے۔ یہ اللہ عزوجل کا ہم عاصیوں پر بے انتہا احسان وکرم ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہماری منتظر رہتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس ماہ مبارک میں خوب نیک اعمال کرے۔ صلات و صوم کی پابندی ، تلاوت ذکر و اذکار کا معمول ، درود و سلام کا نظرانہ عقیدت کی ڈالیاں نچھاور کرتے رہے ہیں‌۔ ہر چھوٹے بڑے گناہ سے خود بھی بچے اور ہمارے متعلقین ، عزیز و اقارب اور رشتے داروں کو بھی باز رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ تاکہ ہم رمضان المبارک کے اصل مقصد ” تقوے” کو اختیار کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ماہ رمضان میں اذکار کا ذکر آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے۔ اے لوگو! اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو، کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ ، استغفار، جنت کی طلب اور دوزخ کی آگ سے پناہ۔
حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں ایک خطبہ دیا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’یہ ایک مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت اور درمیانی حصہ مغفرت اور تیسرے حصے میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے۔‘‘

جس طرح اس ماہ مبارک میں نیکیوں کی فضیلت آئی ہے۔ اسی طرح گناہ پر بھی مزید سزا کا ذکر ملتا ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ مبارک میں صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچتے رہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر تشریف فرما تھے۔ اس وقت آپ نے یکے بعد دیگرے تین مرتبہ فرمایا آمین۔۔۔ آمین ۔۔۔۔ آمین ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ! یہ آمین کیسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے تین باتیں کہیں، میں نے ہر ایک کے جواب میں کہا آمین۔
حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ، جس کو رمضان کا مہینہ میسر آیا اور اُس نے اس مہینہ میں عبادت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے، اس کے جواب میں میں نے کہا آمین۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کو ماں باپ کی خدمت کا موقع ملا اور اس نے ان کی خدمت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ میں نے کہا آمین۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ (آنحضرت ﷺ ) پر درود نہیں پڑھا۔ میں نے کہا آمین۔

عزیز ساتھیوں!!! بڑی ہی تیزی سے یہ رحمت بھرے لمحات ہم سے رخصت ہورہے ہیں۔ اس قدر کریں۔ جتنا ہو سکے ذیادہ سے ذیادہ اوقات اللہ عزوجل کی رضا جوئی میں صرف کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے نیز صلات و صوم کے ساتھ تلاوت ، ذکر و اذکار اور زکات ادا کرنے کی سعادت نصیب کریں۔ اور ہمارے تمام نیک اعمال کو قبولیت کا شرف بخشے۔ آمین ثمہ آمین بجاہ یا سید المرسلین

حسین قریشی
بلڈانہ مہاراشٹر

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *