ملت کے موجودہ مسائل اور ان کا حل

*ملت کے موجودہ مسائل اور ان کا حل

بسم اللہ الرحمن الرحیم

برطانوی استعمار سے آزادی یا ملک کی تقسیم کے 75سال بعد بھی مسلمانان ہند جن مسائل سے دوچار ہیں اس میں اگر ان کی سیاسی بے وقری اور برادران وطن سے آپسی دوری کو سرفہرست رکھا جاے تو بے جا نہ ہوگا آزادی کے بعد سے ہی مسلمانان ہند فرقہ وارانہ فسادات, اردو ,مسلم یونیورسٹی, یکساں سول کوڈ ,طلاق ثلاثہ ,سرکاری ملازمتوں سے دوری اور فوج وپولس کے محکمہ سے بے دخلی وغیرہ مختلف ومتنوع مسائل سے جوجھتا آرہا ہے اور آج بھی تازہ منظر نامے میں سی اے اے, این ار سی, این پی آر, مسئلۂ حجا ب ,آذان اور حلال ذبیحہ پر پابندی کا مطالبہ وغیرہ کا اضافہ ہونے مزید یہ کہ فسطائیت کے برسراقتدار آنے سے گوں مگوں کیفیتوں سے دوچار ہیں ایسے میں انکی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیاجاۓ اور مستقبل کا لائحہ عمل کیسے تیار کرکے ناموافق حالات کا سامنا کیاجاے?
اس تعلق سے کچھ ضروری باتیں ذیل کی سطور میں لکھی جارہی ہیں امید ہے کہ ملت کے ارباب حل وعقد ضرور متوجہ ہونگے

چنانچہ اس تعلق سے پہلی بات تو یہ کہنی ہے کہ ناموافق حالات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ مسلمان وہ نہیں جو ناموافق حالات سے گھبراکر اپنے فرض منصبی سے غافل ہوجاۓ

*مکہ سے بڑھ کر کسی مسلمان اقلیت کے لئے سخت حالات پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتے لیکن یہاں کی تیرہ سالہ زندگی میں داعی اعظم نے جن صبر وضبط ,تحمل وبردباری اور حکمت بالغہ سے ناموافق حالات کا مقابلہ کیا اسکی بھی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی کہ آپ کے پاکباز اور جانثار ساتھیوں نے حالات سے نبرد آزمائ کرتے ہوے وہ دعوتی واصلاحی انقلاب برپاکردیا کہ اسکے بعد سے اب تک اس طرح کے حالات مسلمانوں پر پیش ہی نہیں آے اور نہ تاقیامت ان شاءاللہ پیش آینگے بشرطیکہ اسوۂ نبوی اور اسوۂ صحابہ سے ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہو*

مانا کہ دیگر ممالک کی اقلیتوں کی طرح ملک ہندوستان میں بھی یہاں کی مسلم اقلیت کو بے شمار مصائب ومشکلات اور ناموافق حالات کا سامنا ہے بلکہ بعض پہلوؤں سے دیگر اقلیتوں کے بالمقابل مسلم اقلیتوں کے مسائل زیادہ اور دشوار ترین ہیں
*لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مصائب ومشکلات سے مومن کے عزائم سرد نہیں پڑتے وہ چلاجاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے کے مصداق کوہ گراں اور راستے میں حائل سنگ گراں کو اپنے عزم وحوصلہ سے پاش پاش کرکے نئے جوش وامنگ سے راستہ طے کر کرتا جاتا ہے*

*مسلمان جو واقعتا اللہ ورسولہ کا شیدائ ہوتا ہے وہ ہزار برق کے گرنے اور لاکھ آندھیوں کے چلنے پر بھی اپنی حدی کی لے کو مدھم نہیں پڑنے دیتا بلکہ اسے تیز سے تیز تر کرتا جاتا ہے*

سر زمین ہند میں آج بھی غیر برادری کے کمزور طبقات اسی طرح مسلمانوں کے ساتھ آسکتے ہیں اور انکے گرویدہ ہوسکتے ہیں جس طرح انبیاء کے ساتھ ان کے پیروکار آۓ لیکن شرط ہے حکمت اور مواعظ حسنہ سے انکے دلوں کو رام کرنے کا گر پہلے سیکھا جاے
موجودہ دور میں مسلمانوں کے کرنے لائق جو کام ہے وہ
آزاد ہندوستان میں مسلمان اور سیاست ص 111بعنوان ہندوستان میں مسلم زیر قیادت سیکولر سیاست سے وابستہ مسائل کے تحت مفکر ملت پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف مرحوم سلطان احمد اصلاحی رقمطراز ہیں

*”شودروں ,دلتوں اور دبے کچلے طبقوں کے دلوں میں اگر یہ بات ڈال دی گئ کہ برہمنوں کشتریوں اور ویشیوں کی خدمت گزاری اور انکی محکومی سے ان کی دنیا تو برباد ہی ہورہی ہے انکے ساتھ مل کر اور ان کا ساتھ دے کر بت پرستی جیسی عظیم بیماری میں مبتلا ہوکر مرنے کے بعد کی زندگی بھی اجیرن ہورہی ہے تو امید غالب ہے کہ ان کی اکثریت اس بات پر کان دھرے اور باخبر کرنے والوں کو نجات دھندہ مان کر ساتھ میں آنے کی کوشش کرے اس طرح مظلوموں اور مملوکوں کو ساتھ میں لایا جاسکتا ہے*

چنانچہ اس طریقہ کار سے اپنی اتحادی قوت کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے اور بہت حد حکومت سے اپنی بات منوائ بھی جاسکتی ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے

یہ چیز اس دور میں بیحد ضروری ہے دعوت واصلاح کے ذریعہ کہ سچا مسلمان اپنے آپ کو دعوت سے آزاد نہیں رکھ سکتا ہے

عبد المبین محمد جمیل ایم اے

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *