رمضان میں وقت کی قدر وقیمت۔ ۔۔

رمضان میں وقت کی قدر وقیمت۔ ۔۔
محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین محمدی، سپول ،بہار،

صبح ہوتی ہے شام ہوتی
عمریوں ہی تمام ہوتی ہے۔۔
ہم دیکھتے ہیں کہ لیل ونہار انتہائی سرعت سے گزر رہے ہیں جو ایام گزر جاتے ہیں وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے ، ہردن جو ایک مسلمان پر گزرتا ہے وہ ایک نیا دن ہوتا ہے، ہر صبح ایک نئی صبح ہوتی ہے، وقت تلوار کی طرح ہے اگر تم اسکو نہیں کاٹوگے تو وہ تم کو کاٹ دۓگا ، الوقت أثمن من الذهب وقت سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے ، وقت کو کوئی خرید نہیں سکتا ، بوڑھاجوان نہیں ہوسکتا جوان طفلی عمر کو عود نہیں کرسکتا ، دنیا کی‌ ساری چیزیں منظم ہیں ، اسلام کے سارۓ احکام اپنے وقت پر انجام پاتے ہیں حج کا ایک مقرر وقت ہے ، رمضان کا ایک ماہ مختص ہے وغیرہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر زمانے ، دن ،رات ، صبح، شام ،کی قسمیں کھائی ہیں مثلاً والعصر ، والليل إذا سجى ، والنهار إذا تجلى ، والصبح إذا تنفس ۔ وغيره ، ان قسموں کا مقصد یہ ہے کہ انسان وقت کی قدر وقیمت کو جانے اور عمر عزیز کی گذرتی لہروں سے نفع اٹھاۓ وقت کا استغلال کرۓ ہر ہر منٹ وسکنڈ کو تول تول کر خرچ کرۓ ، ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنے وقت کا محاسبہ کرۓ اور دنیا میں اپنا ایک ہدف اور نصب العین متعین کرلے کہ عمرگزرۓگی اسی دشت کی صحراء نوردی میں یعنی اپنی زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارے گا اسکا ہرقدم ہرحرکت ہرسکون اس آیت کے مطابق گزرۓ گی ” قل إن صلاتى ونسكى ومحياى ومماتى لله رب العالمين لا شريك له وبذالك أمرت وانا أول المسلمين (سورة الأنعام ١٦٢ ۔١٦٣ )
میرے بھائیو! اللہ کی تمام مخلوقات اور کائنات کاسارا نظام بھی وقت کا پابند ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے ” ألم ترى أن الله يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل وسخّر الشمس والقمر كل يجري إلى أجل مسمى ،( سورة لقمان ٢٩)
كيا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج، چاند کو اسی نے مسخر کر رکھا ہے سب ایک مقررہ وقت تک چلتے رہتے ہیں ،
مسلمانوں اپنے اوقات کو ضائع نہ کرو ، وقت کو پانی طرح نہ بہاؤ ، اسکی قدر وقیمت کو جانو ، قیامت کے دن تمہارا حساب لیا جائے گا تب نہیں کہئے گا کہ لا یغادر صغیرۃ ولا كبيرة إلا أحصاها ، ہمارے ہر چھوٹے بڑے حرکت ریکارڈ ہیں، دفتروں میں مسجل ہیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، ” لا تزول قدما إبن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأل عن خمس ،عن عمره فيم أفناه وعن شبابه فيم أبلاه وعن ماله من أين إكتسبه وفيم أنفقه وماذا عمل فيما علم (رواه الترمذي ٤/٢١٦) قیامت کے دن آدمی کے قدم اپنے رب کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے گا ، اسکی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں ختم کیا ، اسکی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں گزاری اسکے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اسکے علم کے بارے میں کہ اسپر کتنا عمل کیا؟
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے،
دقات قلب المرء قائلة له
إن الحياة دقائق وثوان،
آدمی کے دل کی دھڑکن اس سے کہہ رہی ہے کہ زندگی منٹوں اور سکنڈوں کا نام ہے،
ہر مسلمان اپنے نفس سے ہر روز اور ہرسال ماہ رمضان کے شروع میں پوچھے کہ اس نے اللہ کے لئے کون سے اچھے اعمال کئے ؟ اس نے اپنے قیمتی اوقات کیسے گزارۓ ہیں ؟
آدمی اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کتنی کوتاہیاں کرتا ہے ، گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے اور اسکو احساس تک نہیں ہوتا ، درحقیقت یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دل انتہائی سخت اور کٹھور ہوگیا ہے ، جو لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں تقصیر وکوتاہی سے کام لیتے ہیں یا لا ابالی پن میں اپنی زیست کو گزاردیتے ہیں ان سے قیامت کے دن رب سبحانہ و تعالیٰ فرماۓ گا ۔ ” قال كم لبثم في الأرض عدد سنين قالوا لبثنا يوماً أو بعض يوم فاسأل العادين قال إن لبثتم إلا قليلا لو أنكم كنتم تعلمون أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا وأنكم إلينا لا ترجعون فتعالى الله الملك الحق لا إلٰه إلا هو رب العرش الكريم (سورة المومنون ١١٢ تا ١١٦)( اللہ )پوچھے گاکہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟ وہ کہیں گے ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے (اللہ) فرماۓ گا کہ وہاں تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے ، کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے فائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤگے تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے ،(اسکی) شان اس سے اونچی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے “نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس : الصحة والفراغ (رواه البخاري۱۱/۲۲۹)دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکہ کھاۓ ہوۓ ہیں، ایک صحت اور دوسرے فرصت کے اوقات، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری ۱۱/۲۲۹) میں کہتے ہیں کہ اللہ کے شکر میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے آدمی انھیں بجا لاۓ اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے رک جائے پس جس نے اس میں کوتاہی کی وہ مغبون یعنی دھوکہ کھایا ہوا ہے، ۔۔۔
اسلئے میرے روزہ دار بھائیوں رمضان المبارک کے ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں
بے فائدہ کی مجلسوں سے دور رہیں ، غیبت چغلی ،عیب جوئی سے کوسوں دور رہیں ، اپنا وقت فیس بک ،واٹشاپ اور گوگل ، ویوٹیوب میں برباد نہ کریں ،میچ کرکٹ فٹبال والی بال وغیرہ سے قطعاً دل نہ لگائیں ،
بلکہ تلاوۃ قرآن کا خصوصی اہتمام کریں ، دعاء ومناجات کریں ، نوافل کاخوب خوب اہتمام کریں، تراویح کااہتمام کریں ،چاشت کے نماز وغیرہ پڑھیں ،زیادہ سے زیادہ صدقۂ وخیرات کریں ،لوگوں کےساتھ بھلائی کریں ، کثرت سے ورد کریں ، علماء کی نفع بخش کتابوں کو پڑھیں ،بالخصوص تفسیر وحدیث کا مطالعہ کریں ہر مسلمان کو چاہئیے کہ زندگی میں کم سے کم ایک بار قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر ضرور پڑھیں ، اور پڑھ نہیں سکتے تو کم سے کم سنیں علماء کے آئیڈیوں ویڈیوں موجود ہیں ، اگر آپ ان باتوں پر عمل کریں گے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رمضان المبارک مسلمانوں کے وقت کو منظم کرنے اور اسے اللہ کی اطاعت میں لگانے کا ایک مدرسہ ہے اور اس مدرسہ سے ہم لوگ خوب خوب مستفید ہونے والے ہیں ۔۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے آمین۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *