مرزِ بوم ہندوستانی مسائل سے نبردآزما مصائب کی کہانی ہے

مرزِ بوم ہندوستانی مسائل سے نبردآزما مصائب کی کہانی ہے
محمد اشرف یاسین (نئی دہلی)

2021/ میں شائع ہونے والے ناولوں میں بلّہا کیہ جاناں میں کون: ذکیہ مشہدی، کَماری والا: علی اکبر ناطق، ہجورآما: شبیر احمد، ایک خنجر پانی میں: خالد جاوید، مردہ خانے میں عورت: مشرف عالم ذوقی (مرحوم)، اللّٰه میاں کا کارخانہ: محسن خان، اُس نے کہا تھا: اشعر نمجی اور صدیق عالم کا “مرزِ بوم” ایک اہم ناول ہے۔ اس ناول میں کل 18/ابواب اور 140/ صفحات ہیں۔ ناول میں کئی جگہ پر کچھ کوڈڈ الفاظ ہیں، جب تک ان کوڈڈ لفظوں کو ڈی کوڈ نہ کیا جائے تب تک اس ناول کا مکمل حظ نہیں اٹھایا جاسکتا۔

ناول کا مکمل بیانیہ واحد متکلم کی زبانی ہے اور ناول کا راوی پورے 20/ سال بعد اپنی “مرزِ بوم” یعنی جائے پیدائش مغربی بنگال میں اسلام پور کے اطراف میں ایک گاؤں کا رُخ کرکے اپنے اور اپنے اسلاف کی باقیات کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے اور گھر پہنچنے سے پہلے پہلے ہی ناؤ میں راوی کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آجاتا، جس سے راوی بد دل ہو جاتا ہے، پھر 38/ گھنٹے کے بعد ہی جب اُسے وہاں رکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ملتی تو وہ واپس شہر چلا جاتا ہے۔

ناول میں موجودہ ہندوستان کے تقریباً تمام مسائل کا ذکر مختصراً ہی سہی لیکن موجود ہیں، اس ناول پر گفتگو کرتے ہوئے بنارس ہندو یونیورسٹی شعبۂ اردو کے استاد عبد السمیع نے اپنے مضمون “مرزِبوم: یہ تو ہم کا کارخانہ ہے” میں لکھا ہے:

“ناول میں موجودہ ہندوستان کے ان تمام واقعات کی جھلک نظر آتی ہے جن سے ہماری، ہمارے ملک وقوم کی ’’نئی شناخت‘‘ قائم ہو رہی ہے۔ اس میں سیاست، معیشت، عدلیہ، فوج، پولیس، مذہبی جنون اور میڈیا کی تبدیل بلکہ مسخ ہوتے چہرے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ جبریہ طور پر بنائے گئے مندر، دوسروں کے گھر، زمین اور تالاب پر ناجائز قبضہ کرنا، لوگوں کا محتاط ہو جانا اور سوالوں سے خوف کھانا، عورتوں کے رویوں میں خود اعتمادی کا در آنا، ملک کا پیچھے کی طرف چلنا، تجارت کا رومانس میں تبدیل ہو جانا، ملک کی ننانوے فیصد آبادی کا کیچڑ میں کنول کھلانا، کاسموس، میگا پولیس اور میٹرو پولیس کا ارتقا، بزدل اقوام کا اپنے سورماؤں کے اونچے بت بنانا، سیاست کا غنڈوں کے ہاتھ میں چلا جانا، بنے بنائے راستوں کو چھوڑ کر جنگلوں کو کاٹ کر نئے راستے بنانا اور قدرتی وسائل کو برباد کرنا، وبا اور امراض کی دواؤں کا کاروبار قائم رکھنا، ہندو قوم پرستوں کا اقلیتوں کو ہراساں کرنا، میڈیا اور اخبارات کا مقتدریٰ کے Narative کو بطور خبر پیش کرنا جیسے موضوعات مختصرا اس ناول کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں۔”

            (ششماہی دستک شمارہ نمبر 08، صفحہ نمبر 73-74)

جن سے ہم ہندوستانی عوام روز نبردآزما ہوتے ہیں۔ آدی واسیوں کے کرب کو ظاہر کرنے کے لیے ناول کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔

“یقین کرو۔ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ہم دو پاٹوں میں پِس رہے ہیں۔ ہماری لڑکیاں کھیتوں میں اکیلے جانے سے ڈرتی ہیں۔ پچھلے مہینے ایک دس سال کی آدی واسی لڑکی لکڑی چُننے جنگل گئی اور تین دن تک گھر واپس نہیں آئی۔ سب کو پتہ تھا وہ کہاں پر ہے، مگر کس کے اندر ہمت تھی کہ اس کی نشاندہی کرے۔ تین دن بعد وہ واپس لوٹی تو چل نہیں پارہی تھی۔ بعد میں اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ یہ ملک ایک پاگل پن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ سب بکھرنے کی علامت ہیں۔”

(مرزِ بوم : صدیق عالم، صفحہ نمبر 67)

آدی واسی سماج کی طرزِ زندگی کو سے بالکل قریب سے جاننے کے لیے ڈاکٹر شفق سوپوری کا ناول “نیلیما” کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ مکمل ناول آدی واسی سماج ہی پر مبنی ہے۔

ناول کا سب سے جاندار کردار سلام بھائی اور خود راوی ہے۔ مزید کرداروں میں راوی کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر ہے جو اپنے دو جواں سال ڈاکٹر بچوں کی گمشدگی سے پاگل ہوجاتا ہے، جن پر شہر کے امیر ڈاکٹر اپنے ہاسپیٹل کی من چاہی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے دونوں پر آدی واسیوں سے سانٹھ گانٹھ کا الزام لگا کر راتوں رات اُنہیں غائب کرا دیتے ہیں، خواتین کرداروں میں سے چاپانی ایک اہم کردار ہے، جس سے راوی کے جسمانی تعلقات رہتے ہیں۔

صدیق عالم کی گل افشانی گفتار کو دیکھنے کے لیے ایک اقتباس یہ بھی ملاحظہ کریں۔

“۔۔۔۔ سورج کی طرف مت دیکھو۔ وہ انگریزی کا ‘او’/O’ بھی ہوسکتا ہے یا اردو کا صفر، وہ انسان کی مقعد بھی ہوسکتی ہے یا کوئی گردن یا وینڈنگ مشین پر لگا ہوا دھات کا چھلا جس میں بوتل کی گردن پھنسا کر لوگ مشروبات کی کیپ کھولتے ہیں یا کائنات کی نمائندگی کرتا منڈالہ جس میں ابھی سفوف نہیں بھری گئی ہے یا رقیق حالت میں رنگ نہیں ڈالا گیا ہے یا ٹریمپولن ہو جس پر بچے اچھل رہے ہوں یا سرکس یا کارنیوال میں جلتا ٹائر ہو جس کے اندر بازیگر نے ابھی ابھی اپنے کتے کو چھوڑا ہے۔”

(مرز بوم : صدیق عالم، صفحہ نمبر 121)

یوں تو صدیق عالم ایک منجھے ہوئے قلمکار ہیں۔ “چارنک کی کشتی”، “چینی کوٹھی” اور “صالحہ صالحہ” جیسے تین کامیاب ناول لکھ چکے ہیں، اِن کے علاوہ یہ نظمیہ شاعری میں بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اسی لیے ناول میں موجود اِن سے املا وغیرہ کی غلطیوں کا امکان نہیں ہوسکتا۔ بہت ممکن ہے کہ کمپوزنگ اور سیٹنگ میں یہ غلطیاں در آئی ہوں لیکن جو قلمکار جتنا بڑا ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔

اس ناول کو اثبات پبلیکیشن (ممبئی) نے چھاپا ہے، ناول کی طباعت ہارڈ بینڈنگ میں  ہونے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی کچھ کم ہوگئی ہے، میرے خیال سے صفحات(صرف 140) کم ہونے کی وجہ سے اگر اِس کی چھپائی پیپر بیک پر ہوتی تو نہ صرف اِس کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافے کا امکان تھا، بلکہ اِس کی قیمت بھی مناسب ہوتی۔ کیوں کہ 140/صفحہ کے کتاب کی قیمت 350 ہے جبکہ دوسری مرتبہ تخفیف کے بعد فی الحال اس کی قیمت 200 ہے۔

الغرض آپ بھی اس ناول کو حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر اشعر نجمی سر سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
+91 81690 02417

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *