گل اور باغباں

’’گل اور باغباں “

محمد یعقوب عبد الخالق تیمی
متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

               معاشرے میں طرح طرح کی خوفناکیاں سراٹھارہی ہیں۔ خواتین کے ظلم و جبر کا ہدف بننا بھی انہیں خوفناکیوں میں سے ایک ہے۔ آفاقی تعلیمات کو چھوڑ کر جب ایک انسان خواہش نفس کا مطیع بن جاتا ہے، تواس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے اصل زمرے سے نکل کر وحشی بن جاتا ہے،پھراسے شائستگی، نرمی، خیر، اخلاق، انصاف، عدل، پیار، محبت اور ہمدردی کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ قوموں کی شناخت اصول، آدرش اور کسی مقصد حیات سے ہوتی ہے۔مگرایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اصولوں اور آدرشوں کا سینہ چھلنی کیا جا رہا ہے،لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ ا صولوں اور آدرشوں کا سینہ چھلنی کرنے والے گروہ ملامتوں اور نفرتوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ زمینی حقیقتیں بڑی سخت جان اورایسی بڑی منہ زور ہوتی ہیں کہ آنکھیں بند کر لیں تو بھی صاف دکھائی دیتی رہتی ہیں۔جب معاشرہ شروفسادکے الاؤ کی نذر ہو جاتا ہے تو پھر لاکھ دفعہ دل و دماغ کی شورش کو تھپکیاں دے کر سلادینے کی کوشش کی جائے،لیکن انہیں سلایانہیں جا سکتا۔جب ایک مرد کے دل میں صنف نازک کے خلاف اس کے سینے میں بل کھاتی کدورت ہو۔تو بھلا آگ سے کبھی پھول کھلا کرتے ہیں۔بادی النظر میں وٹلب کے دلدوز واقعے کے پس منظر میں یہی بات نظر آ رہی ہے کہ دین سے دوری اور میاں بیوی کے حقوق سے لاتعلقی کی وجہ سے ایک شوہر اپنی بیوی کا قاتل بن گیا۔ا س سطور کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ انکی ازدواجی زندگی کی خوشگواری کا راز کن باتوں میں مضمر ہے اور یہ کہ ان کے گھر میں سکھ چین کیسے آسکتا ہے۔ان سطور کو حوالہ قلم کرنے کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں صف آرا ہونا چا ہئے،بلکہ مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں میاں بیوی کی معاندانہ رقابت ختم کس طرح ہوسکتی ہے۔دونوں میں صبر و تحمل، حلم و بردباری، عفو و درگزر اور رواداری کا جذبہ اور اچھے اخلاق کیسے نمو پا جائیں۔ کیوں کہ وٹلب کے دلخراش واقعے نے سنجیدہ اور فہمیدہ فکر کے حاملین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
جب اپنی شریک حیات کے حوالے سے مرد کا غور و فکر، عقل و خرد، تشخیص و توجہ، مصلحت اندیشی و بار آوری اور صحیح و منطقی بنیادوں پر استوار ہو تو پھر شوہر کے ہاتھوں اس کی زوجہ کبھی ہراساں اور پریشان نہیں ہوسکتی۔ پھرگھر ’’گل اور باغباں ‘‘ کا منظر پیش کرے گا،اسلام کے نقطہ نگاہ سے شوہر کا فریضہ ہے کہ گھر میں اپنی اہلیہ کا خیال بالکل ایسے رکھے جیسے نازک پھول کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پھول کے ساتھ زور زبردستی کیجیئے تو وہ ایک لحظہ میں بکھر کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے پھول کی نزاکت کو سمجھا اور اس کے ساتھ نزاکت آمیز سلوک کیا تو وہ باعث زینت ہو گا، اپنا اثر دکھائے گا، اپنے محاسن ظاہر اور نمایاں کرے گا۔ جسمانی اور جذباتی نزاکتوں والی صنف نازک کو اس نظر سے دیکھنے کی ہمیشہ ضرورت ہے۔کیوں کہ عورت میں اس زنانہ نزاکت کو محفوظ رکھا گیا ہے جس کے زیر اثر اس کے تمام جذبات، خصوصیات اور خواہشات ہوتی ہیں۔ اس سے یہ توقع کیونکر ہونی چاہیئے کہ وہ عورت ہوتے ہوئے بھی مردوں کی مانند کام کرے، اپنی خواہشات مردوں کے مطابق بنائے۔ عورت کے نسوانی انداز کو، جو اس کی ایک فطری اور قدرتی چیز ہے اور جو اس کے تمام جذبات اور سرگرمیوں کا محور بھی ہے، اسلامی طرز فکر میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔
صنف نازک پر ظلم ڈھانے کے اسباب و علل پر غورکیا جائے تو یہ بات الم نشرح ہو جاتی ہے کہ یہ محض ا نسان کی جہالت کا نتیجہ ہے۔ جاہل انسان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ نہ تو کوئی اسے  دیکھتا ہے اورنہ ہی کوئی طاقت اس کی نگرانی کر رہی ہے، ایسے میں حالات کی ستم ظریفی یہ ہوتی ہے کہ عورت کی قدر و منزلت اورمقام و اہمیت کو نہیں سمجھاجاتا۔اگراسکی حقیقت کوسمجھا جاتاتویہ عقدخودبخود کھل جاتا ہے کہ عورت وفا  اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے وہ عہد وفا کی سچی اور کردار کی بے داغ ہوتی ہے لیکن افسوس کہ آج کے معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جس کی وہ حقدار ہے مرد اسے کمزور بلکہ کمتر شئے سمجھتا ہے حالانکہ جس دین اسلام کے ہم ماننے والے ہیں اس نے عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی،اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا ہم آج اسے ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔
بدقسمتی سے اس وقت بھی عصر ماضی کی طرح عالمی سطح پر خواتین لا متناہی اور لا ینحل مسائل سے دوچار ہیں اور وہ شدید رنج و الم برداشت کر رہی ہیں۔ خاندان، سماج اور معاشرے کے کثیر الجہت مظالم سے وہ تنگ ہے۔ بالفاظ دیگر وہ گھر کے اندر بھی مظلوم ہے اور معاشرے میں بھی، گھر کے اندر عورتوں پر مردوں کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ مرد، عورت کو اپنی شریک حیات نہیں سمجھتابلکہ ایک نوکرانی سے بھی گئی گزری شئے اسی لئے وہ پیار اور محبتوں کے تمام جذبات و احساسات کو عورت پر نثار نہیں کرتا حالانکہ اسے یہ کرنا چاہئے۔ بدمعاش قسم کے مرد گھر کے باہر غیر اخلاقی حرکتوں، عیاشیوں اور شہوانی مشغلوں میں مصروف ہیں جبکہ اپنے گھر کے اندراس کی طرف سے ایک سرد مہری اور بے رخی کا انداز اور رویہ قائم ہے جو بالآخر منتقم المزاجی، بد اخلاقی اور زور و زبردستی کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔حالانکہ گھر کو خوشحال بنانے کے لئے سب سے اہم بات میاں و بیوی کا باہمی تعاون اور تال میل ہوتا ہے۔ ایک والد اپنی بیٹی کو معلوم نہیں کیسی کیسی زحمتیں گوارا کر کے پیار محبت سے پالتاپوستا ہے۔ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے پھر بھی ماں باپ کے گھر میں ہنوز بچی ہی شمار کی جاتی ہے، لیکن جب اس کا نکاح ہو جاتا ہے اور وہ اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے جہاں اس سے یکبارگی یہ توقع لگائی جاتی ہے کہ وہ ہر بات سمجھے، ہر کام انجام دے اور ہر ہنر سے واقف ہو۔ اس سے ذرا سی غلطی ہوئی نہیں کہ چڑھائی کر دی جاتی ہے جو ہرگز قرین انصاف نہیں۔
انہیں اوران جیسے بے شمار وجوہات کے باعث آج عورت کو معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ اسے طرح طرح ہراساں اور مبتلائے رنج و غم رکھا جاتا ہے۔آزاد خیال سوچ کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو تجارتی مال او ر کاروباری تشہیر کے ایک ذریعے سے زیادہ خیال نہیں کرتی۔ آزاد خیال اشرافیہ اسے کاروبار اور منافعوں کی بڑھوتری کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ایک طرف اگر ظالمانہ ذہنیت رکھنے والوں کا عورتوں پر ظلم و جبر غیر انسانی فعل اور غلامی ہے تودوسری طرف مغرب میں عورتوں کے جسموں کو اشیاء( products)بیچنے اور منافع کمانے کے لئے استعمال کرنا بھی ان کی نجات نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور انسانی زندگی کا دار و مدار جتنا شوہروں پر ہے اتنا ہے زوجات پر بھی ہے جبکہ فطری طور پر عورتیں خلقت کے انتہائی اہم امور سنبھال رہی ہیں۔ خلقت کے بنیادی امور جیسے عمل پیدائش اور تربیت اولاد عورتوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کا مقام بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔اس لئے ایک شوہر اپنی بیوی کو ایسی مخلوق کے طور پر دیکھے کہ جو بلند انسانوں کی پرورش کر کے معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تب اندازہ ہو گا کہ زوجہ کے حقوق کیا ہیں اور گھر اور معاشرے میں اس کی آزادی کی نوعیت کیا ہے۔ اگرچہ ایک کنبہ تو میاں بیوی دونوں سے مل کے تشکیل پاتا ہے اور دونوں ہی اس کے معرض وجود میں آنے اور بقا میں بنیادی کردار کے حامل ہیں لیکن گھر کی فضا کی طمانیت اور آشیانے کا سکھ و چین زوجہ اور اس کے زنانہ مزاج پر موقوف ہے۔انسان کو جن چیزوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے ان میں ایک سکون و چین ہے۔ انسان کی خو ش بختی اس میں مضمر ہے کہ ذہنی تلاطم اور اضطراب سے محفوظ و مطمئن رہے۔ انسان کو یہ نعمت کنبے اور خاندان سے ملتی ہے،سب کی حقیقت و ماہیت ایک ہے۔ سب ایک ہی حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب کا جوہر اور سب کی حقیقت ایک ہے۔ البتہ بعض خصوصیات کے لحاظ سے کچھ فرق ضرور ہے چنانچہ ان کے فرائض بھی الگ الگ ہیں۔  اس لئے لازم ہے کہ دونوں مخالف صنف ایک دوسرے کی معیت میں طمانیت حاصل کریں۔ جس طرح گھر میں داخل ہونے پر داخلی فضا پر محیط سکون و چین، مہربان، ، امانت دار اور پاکدامن بیوی پر نظر پڑنا ایک شوہر کے لئے باعث سکون و طمانیت ہوتا ہے۔عین اسی طرح ایک بیوی کے لئے بھی ایسے میاں اور ایسے مہربان و صالح سرتاج کا وجود، جو اس سے محبت کرے اور مستحکم قلعے کی مانند اس کا پاسبان ہو، باعث سکون و اطمینان اور موجب خوش بختی و سعادت ہوتی ہے بالفاظ دیگر شوہر کو قلبی سکون کے لئے گھر کی فضا میں بیوی کی ضرورت ہوتی ہے اور بیوی کو سکون و چین کے لئے گھر میں شوہر کی احتیاج ہوتی ہے۔اس طرح دونوں کو سکون و چین کے لئے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
یہ جو اسلام خاندان کے اندر نیک بیوی کے کردار کو اتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک پاکدامن بیوی نے خاندان کے فریضے کو سنبھالناہے تاکہ اس معاشرے کی انسانی نسلیں با شعور اور قابل افتخار ہوں۔ اس لئے میاں بیوی کا معاملہ، گھر اور خاندان کا معاملہ بہت ہی اہم اور حیاتی نوعیت کا ہے۔ یعنی اگر بیوی خاتون خانہ کے بجائے بہت بڑی ماہر ڈاکٹر یاایجوکیشنلسٹ بن جائے مگر گھر کے فرائض سے عہدہ برآ نہ ہو سکے تو یہ اس کے لئے ایک بڑا نقص اور کمی ہے۔ گھر کی مالکہ کا وجود ضروری ہے، بلکہ گھرکا محور ہی یہی ہے۔یہ تو جاہلانہ عادات و اطوار ہیں جس کی بنیاد میاں بیوی کچھ کام ایسے کر جاتے ہیں، جن کا اسلام اور اس کے نورانی احکامات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور بالآخر ان کا گھراجڑ جاتا ہے۔میاں بیوی کی اسلامی تربیت ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کنبہ اپنے شایان شان مقام و منزل پر پہنچ گیا ہے۔ اگر معاشرے میں دونوں علم و اخلاقی کمالات پر فائز ہو جائیں تو گھر کی فضا زیادہ پاکیزہ اور محبت آمیز ہو جائے گی، بچوں کی درست تربیت ہوسکے گی،جسے معاشرہ سدھرجائے گا، زندگی کی مشکلات زیادہ آسانی سے برطرف ہوں گی۔

میاں بیوی دونوں کے مزاج کی کچھ الگ الگ خصوصیات ہیں۔جیساکہ عرض کیا جا چکا ہے کہ شوہر کو اپنی بیوی سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ گھرکے اندر وہ اس کے شانہ بشانہ کام کرے، زوجہ پر شوہر کا جاہلانہ انداز میں اپنی طاقت کے استعمال، زیادہ روی، تحکمانہ روئے اور جبر و اکراہ کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ شوہر مالک ہے اور گھر کے کام، بچوں کی نگہداشت وغیرہ کو اس نے ایک سینیئر نوکر کے سپرد کر دیا ہے اور وہ سینیئر نوکر اس کی بیوی ہے وہ جس طرح چاہے جاہلانہ تحکمانہ برتاؤ کر سکتا ہے۔مرد نے جاہلانہ تحکمانہ رویہ اپنایا، عورت کو خادمہ کی حیثیت سے دیکھا تو یہی جھگڑے کی جڑ ہے۔اسی طرح ایک بیوی اپنے شوہر سے عورتوں جیسا برتاؤ اور اسلوب کی توقع نہ رکھے۔ دونوں کے مزاج اور فطرت کے الگ الگ تقاضے ہیں اور انسانی معاشرے میں، میاں بیوی کے سماجی نظام کی مصلحت اسی میں ہے کہ گھروں کے اندر ایک صنف اپنے دوسرے صنف کے مزاج اور ان کے فطری تقاضوں کا مکمل طور پر لحاظ رکھے۔ اگر اس کا خیال رکھا گیا تو دونوں کی خوش بختی و کامیابی کی راہ ہموار ہو گی اورپھرکسی کو بھی دوسرے کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ گھر کے اندر جہاں میاں بیوی کے درمیان گہرا محبت و الفت کا رشتہ ہے، دونوں ایک دوسرے کے کام بڑے شوق اور رغبت سے انجام دیتے ہیں۔ لیکن رغبت اور دلچسپی سے کوئی کام انجام دینا اور بات ہے اور اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے یا اپنے انداز سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ عورت ایک خادمہ کی طرح مرد کی خدمت کرے اور اسے اپنا فرض سمجھے تو یہ ایک الگ بات ہے۔ واضح رہے کہ اسلام نے عورت کو اپنے شوہر کی خادمہ نہیں بلکہ اس کی شریک حیات قرار دیا ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *