این آر سی کے نام پر بہار کے مسلمانوں کے خلاف سازش

این آرسی کے نام پر بہار کے مسلمانوں کے خلاف سازش

 

محمد ذبیح اللہ عبدالرﺅف تیمی

 

استاد:ایس بی بی ایل این 2+ گورنمنٹ اسکول

پٹی ،مشرقی چمپارن

 

این آرسی کے نام پر پورے ملک کے مسلمانوں کو جس طرح سے خوف وہراس میں مبتلاکیاجا رہاہے وہ کسی سے مخفی وپوشیدہ نہیں ہے۔بی جے پی حکومت کھلے عام مسلمانوں کا دشمن اور آر ایس ایس کا پروردہ ہے یہ بھی کسی سے صیغہ راز میں نہیں ہے۔ وہ آئے دن کسی نہ کسی مسئلہ کو لے کر مسلمانوں کو پریشان کرتے رہتی ہے ۔پہلے تین طلاق پھر آسام میں این آر سی اور اس کے بعد کشمیر کے خصوصی درجے کی سلبی اور لامتناہی ماب لنچنگ یہ سارے واقعات اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ بی جے پی آر ایس ایس کے اشارے پر مسلم مخالف ایجنڈوں پر منظم انداز سے یکے بادیگرے کام کر رہی ہے ۔این آر سی کے نام پر جس طرح سے آسام کے اندر لاکھوں مسلمانوں کو ہندوستانی شہریت سے محروم کیا گیاہے وہ ایک سوچی سمجھی سازش کا ہی نتیجہ ہے۔ہندو راشٹر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا بی جے پی چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ہندوستان سے بے دخل کردیا جائے ۔اسی لئے اس کے بڑے لیڈروں کی طر ف بار بار یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پورے ملک میں این آرسی کو نافذ کیا جائے ۔

 

اسی بابت صوبہ بہار میں بھی بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں کی طرف بار بار این آر سی کی مانگ کی جارہی ہے ۔اسی ماہ پٹنہ کے ودھا پتی بھون میں منعقد رام دیو مہتو یادگار کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بہار سرکار میں وزارت پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ کلیان کے وزیر ونود کمار سنگھ نے علی الاعلان دعوی کیا کہ بہار میں 40سے 53لاکھ بنگلہ دیشی پناہ گزین غیر قانونی طور سے ر ہ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف سرحدی ضلعوں میں چار لاکھ ووٹرس اور 20سے 51لاکھ آبادی بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی ہے۔وزیر نے پرزور لفظوں میں مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ این آرسی یعنی نیشنل رجسٹریشن فار سیٹیزن شپ پورے ملک میں لاگو کیا جائے ۔بھاجپا کوٹے کے اس وزیر نے صاف طور پر کہاکہ این آرسی ان کی پار ٹی کا اہم ایجنڈہ ہے اور ہر حال میں یہ لاگو ہوگا۔بھاجپا اپنے ایجنڈے کو پورا کر رہی ہے ۔تین طلاق سے لے کر کشمیر میں آرٹیکل 370ہو یا 53 اے کو کالعدم کرنا پارٹی نے اپنے کیے گئے وعدے کے مطابق کام کیاہے ۔اب رام مندر اور این آر سی کے مسئلے پر پاٹی کا موقف بالکل صاف ہے ۔ وزیر نے آگے کہا کہ بہار میں سب سے پہلے این آرسی کشن گنج ،کٹیہار ،سہرسہ ،کھگڑیا کے ساتھ دوسرے سرحدی ضلعوں میں لاگو ہونی چاہیئے ۔ان ضلعوں میں1932 میں ہوئے الیکشن اور 1954میں ہوئے بھومی سرویکچھن کو بنیاد مان کر شہریت طے کی جائے ۔جن کے آباءواجداد یا والدین کے نام کے رکارڈ اس وقت کے ہیں انہیں ہندوستان کا باشندہ مانا جائے اور جن کا رکارڈ نہیں ہے وہ بنگلہ دیشی پناہ گزین ہیں ۔یہ پناہ گزین ہی ملک کی سالمیت اور لا اینڈ آرڈر کو بگاڑتے ہیں ۔چوری ،ڈکیتی ،انسان اسمگلنگ اور گائے اسمگلنگ سمیت دہشت گردانہ حملوں میں ان کا رول رہتاہے ۔وزیر سے جب پوچھاگیاکہ سرکار میں شامل جدیو پارٹی کا رخ این آرسی کو لے کر اس سے الگ ہے تو انہوں نے کہاکہ یہ بھاجپا کا اپنا ایجنڈہ ہے۔

غور طلب ہے کہ یہ آواز بی جے پی کے صرف ایک لیڈر کی نہیں ہے بلکہ اس کے کئی لیڈران اس کا راگ الاپ رہے ہیں ۔پچھلے دنوں بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ راکیش سنہا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں انہیں باتوں کا ذکر کیا تھااور کہاتھا کہ سیمانچل علاقے میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔اس علاقے میں این آرسی لازمی ہے۔بہار ودھان سبھا میں اپوزیشن نے جب اس کی مخالفت کیاتو نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کئی سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کی بنیاد پر این آر سی کی مخالفت کر رہی ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے۔ بی جے پی ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے غیر قانونی پناہ گزینوں کے داخلے کو ہی سبب مانتی ہے ۔

دراصل سیمانچل میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہمیشہ سے بی جے پی کو کھٹکتی رہی ہے اسی لیے وہ چاہتی ہے کہ این آر سی کے نام پربہار میں بھی مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا جائے تاکہ ان علاقوں میں ہندو مسلم ووٹوں کا جوتناسب ہے وہ بدل جائے جس سے آسانی کے ساتھ بی جے پی لیڈران انتخاب میں کامیاب ہوسکیں۔

حالانکہ بی جے پی کے وزیر نے جن دو باتوں کو این آرسی کے لیے بنیاد بنانے کو کہا ہے وہ سراسر غیر قانونی ہے اور من مانی طور سے مسلمانوں کو بے وطن کر نے کی بہت بڑی سازش ہے۔کیونکہ این آر سی کے تعلق سے ہندوستانی آئین کے اندر اس بات کا خلاصہ کیا گیاہے کہ 26جنوری 1950سے یکم جولائی1987 کے درمیا ن ہندوستان میں پیداہو اہر آدمی ہندوستانی ہے (Indian citizenship Act 1955 Section-03 The)

اسی طرح جولائی 1987 سے لیکر دسمبر 2003 کے درمیان پیدا ہو ا ہر مرد و زن جس کے ماں باپ میں سے کوئی بھی ہندوستانی ہو اسے ہندوستانی شہریت حاصل ہوگی،(The Indian citizenship Act-1955,Section03) ۔اسی طرح 2003سے لے کر آج تک جو بھی لڑکا یا لڑکی ہندوستان میں پیدا ہوا ہو اور اس کے ماں باپ دونوں قانونی طور پر ہندوستانی ہوں یا دونوں میں سے کوئی بھی ایک غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل نہیں ہوا ہوتو وہ ہندوستانی ہے ،(The Indian citizenship Act-1955,Section03)

 

بی جے پی کے رگوں میں آر ایس ایس کا خون دوڑتا ہے اسی لیے وہ ہمیشہ سنگھ کے چشمے سے ہی دیکھتی ہے او ریہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سنگھ کی نظر میں ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے مشکوک رہے ہیں ۔سنگھ شروع سے ہی ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کو شش کرتارہا ہے۔ملک میں جہا ں بھی کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش آجا ئے بی جے پی بلا تحقیق اس کا سرا مسلمانوں سے جوڑدیتی ہے اور اسی کے بہانے مسلمانوں کو پریشان کرنے لگتی ہے ۔حالانکہ ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ کون ہے اس کا اندازہ تو اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ گزشتہ دنو ں پچھم بنگال میں بی جے پی کے ایک قد آور لیڈر کے گھر سے چھاپہ ماری میں تین سو بم برآمد ہوئے ہیں۔جب کہ بی جے پی الیکشن کے قبل سے ہی ترنمول کانگریس پر زیادتی کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے ۔

 

اس لیے بہا رکی سیکولر پارٹیوں کو بہت زور شور سے این آر سی کی مخالفت کرنی چاہیے تاکہ بی جے پی اپنے سیاسی ہتھکنڈے میں کامیاب نہ ہو جائے ا ور مسلمان ایک نئی پریشانی سے دوچار نہ ہوجائیں کیونکہ جب یہاں این آر سی شروع ہو جائےگی تو مسلمان اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لیے چاہے لاکھ ثبوت اور شواہد پیش کریں پھر بھی لاکھوں مسلمانوں کا این آر سی سے غائب ہو جانا یقینی ہے کیونکہ این آر سی کا مقصد ہی مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کرنا ہے جیسا کہ آسام کے اندر اس کا بخوبی مشاہدہ کیا گیا ہے ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *