یا رب نہ کیجیو کسی کو وطن سے دور

یا رب نہ کیجیو کسی کو وطن سے دور

 

از۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب تیمی

 

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

وطن انسان کی یادوں کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں اس کے دوست ہوتے ہیں، احباب ہوتے ہیں اور اس سے انسان کا آبائی تعلق ہوتا ہے، یقیناََ وطن کی محبت ہر دل میں پوشیدہ ہوتی ہے، وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، وطن سے محبت و وجدان اور عقیدت کے تخم کو پیدا کرتی ہے، وطن سے محبت انسان کی فطری خوبی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں ودیعت فرمائی ہے، انسان وہاں کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے، لھذا اس کی فطرت وہاں کی ہواؤں اور پانی سے مربوط ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن میں وطن کی محبت حب نفس کے ساتھ جوڑا ہے ۔

وطن سے محبت کے باب میں سید الوری کی ذات بابرکت تمام انسانوں کے لے بہترین نمونہ ہے، آپ صلی الله عليه وسلم نے وطن سے محبت و عقیدت کو کھبی راز میں نہیں رکھا بلکہ مختلف مواقع پر اپنے محبوب شہر مکہ سے دلی محبت وعقیدت اور گہرے تعلق کا اظہار فرمایا، ہجرت کے موقع پر جب آپ صلی الله عليه وسلم مکہ سے نکل رہے تھے، ایک بلند ٹیلے پر کھڑے ہو گئے، مکہ کی جانب الوداعی نظریں ڈالیں، آنکھیں اشکبار تھیں، دل مغموم تھا، دل میں مغموم احساسات لیے ہوئے آپ مکہ کی وادیوں اور اس کے پہاڑوں کو الوداع کہتے ہوئے فرما رہے تھے “الله کی قسم! اے مکہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے نکالا نہ جاتا تو کھبی تجھے نہ چھوڑتا “ترمذی کی روایت ہے کہ” اے وطن! کتنا پاکیزہ ہے تو، اور کتنا محبوب، میری قوم مجھے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا”

 

مذکورہ بالا باتیں آپ صلی الله عليه وسلم اس وقت کہے تھے جب آپ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے نکل رہے تھے، یہ کلمات ،وطن سے اس کے درودیوار سے، اس کی پہاڑیوں، وادیوں، چٹانوں، اس کی آب و ہوا اور گرد و غبار سے محبت اور تعلق کی جانب اشارہ کرتی ہیں،

وطن سے محبت انسانی فطرت ہے اور ہر انسان اپنے وطن سے فطری طور پر محبت رکھتا ہے، اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب انسان روزگار اور تلاش معاش میں اپنے وطن سے ہزاروں کیلو میٹر دور در بدر کی خاک چھان رہا ہوتا ہے، اسے آئے دن ایک اجنبی ملک میں ایک نئے ماحول کا سامنا ہوتا ہے ، انجان شہر ،انجان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، جن کی زبانیں الگ ہوتی ہیں ،تہذیب وثقافت ،رہن سہن کے طور طریقے مختلف ہوتے ہیں،یہاں تک کہ اسے ہر چیز نئی لگتی ہے، اس وقت انسان کو ایک پردیسی ہونے کا احساس ہوتا ہے، دل کی کیفیت عجیب ہوتی ہے، دل و دماغ میں عجب سی الجھنیں پیداہوتی ہیں اور ہر نئی صبح کو ذہن میں نئے نئے سوالات اٹھتے ہیں، گھر کی یادیں، والدین کی محبت، بھائ بہن کی شفقت، بچوں کا دن بھر کے لاجواب بورنگ سوالات بارہاں ستاتے رہتے ہیں، اور پردیشی پردیش میں اکثر اسی یاد میں آب آتش رنگ روتے ہیں ۔اسی لے کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔!

 

بلبل کو. تڑپتے ہی دیکھا چمن سے

یا رب نہ کیجیو کسی کو وطن سے دور

 

 

وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان بلکہ ذی روح میں پایا جاتا ہے، جس زمین میں انسان پیدا ہوتا ہے، اپنی زندگی کے رات دن گزارتا ہے، جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں، جہاں اس کی شریک حیات، لخت جگر کی بے پناہ محبت ہوتی ہے، جہاں اس کے والدین، دادا دادی کا پیار پایا جاتا ہے، وہ زمین اس کا اپنا گھر کہلاتی ہے، وہاں کی گلی، وہاں کے در و دیوار، وہاں کے پہاڑ، گھاٹیاں، چٹان، پانی اور ہوائیں، ندی نالے، کھیت کھلیان غرض کہ وہاں کی ایک ایک چیز سے اس کی یادیں جڑی ہوئی ہوتی ہیں ۔

اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ! تو ہمارے محبوب وطن، پیارے چمن ہندستان کو حاسدین کی حسد، تخریب کار حاکموں کی حاکمیت سے محفوظ رکھ، اس کے باشندوں کی حفاظت فرما اور وہاں کے ہر شہریوں کے دل میں اس کے تئیں ان کی محبت پیوست کر ۔۔ آمین ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *