عظمت صحابہ عقیدہ کا مسئلہ ہے

 

عظمت صحابہ عقیدہ کا مسئلہ ہے

 

 

از .محمد افضل محی الدین

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

 

 

 

عظمت صحابہ ایمانیات کا جز ہے۔ اور ایمانیات کو من و عن تسلیم کیاجاتا ہے۔ اسے کریدا نہیں جاتا، اس میں بلاوجہ کی بحث و تمحیص نہیں کی جاتی۔ خیر القرون کے اخیار نصوص کی روشنی میں آئیڈیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ آئیڈیل افراد کے سلسلہ میں آئڈیالوجی نہیں چلتی ورنہ ہدایت اور راہ ہدایت بذات خود ہادی و رہنما سب کچھ مشکوک ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں نہ رہنمائی ممکن ہے نہ راہ یابی نہ منزل؛ کیوں کہ انسان خود مشکوک ہوتا ہے اور تذبذب کا شکار رہتا ہے، شکوک و شبہات ہی اس کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے اس کے سارے کام مشکوک اور ظنیات کے خانے میں سڑتے گلتے رہتے ہیں، اس کی کوئی جہت متعین نہیں ہوتی، بات بنا سر پیر کے ہی کرے گا، جب بھی بکے گا اول فول ہی بکے گا، صورتِ حال یہ ہوجاتی ہے کہ اسے خود ہی کسی کام میں شرح صدر حاصل نہیں ہوتا اس کی حالت غیر ہوتی جاتی ہے، وہ اپنی نظروں میں خود ہی کورا لگنے لگتا ہے، وہ اتنا لاخیر اور نکما ہو جاتا ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی تھو تھو کرنے لگتے ہیں، تنگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خود میں بھی نہیں سما پاتا، وہ ہر سو خطرات سے گھرا ہوتا ہے، سر چھپانے کو بھی خود کی کٹیا کم پڑنے لگتی ہے، جہاں بھی جاتا ہے، سڑک چلتے بر سرِ عام لوگ منہ بھر بھر کے گالیاں دے رہے ہوتے ہیں، وہ اتنا ڈھیٹ ہوتا ہے کہ اسے بھی اپنی کامیابیوں میں شمار کرتا ہے۔ بھلا بتائیں جو اپنے آئڈیل کے سلسلہ میں بد ظنی کا شکار ہو جائے، اس کی خود کی شخصیت کا کیا حال ہوگا، اتنی بدبودار شخصیت کا مالک جہاں بھی جائے گا گند ہی پھیلائے گا اور اس قدر بدبو ہوگی کہ لوگ آکسیجن کی کمی سے مرنے لگیں گے، پرندے بھی اپنا آشیانہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، طرح طرح کی وبائی بیماریاں روئے زمین پر بسنے والی آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیں گی، پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوگا کہ اسے بدترین موت سے دوچار کرکے زمین کو پاک و صاف کرے گا، کوئی تعجب کی بات نہیں ہے انجام یہی ہونا ہے ہاں اس میں مؤیدین بھی شامل ہوں گے اور سکوت اختیار کرنے والے بھی میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کہ ہر ایمان لانے والے پر خواہ یہ سلسلہ قیامت تک کیوں نہ چلتا رہے صحابہ کا احسان ہے اس کو کیسے سمجھنا ہے اور ادا کرنا ہے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آج کوئی شخص اوپر تو جانے دیجیے اپنی ذات کے بارے میں ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتا خیر سے اگر سن بھی لے تو کتے کی طرح کاٹنے چڑھ دوڑتا ہے؛ مگر صحابہ کی ہرزہ سرائی بر سرے عام ہوتی رہے، کیوں کر خاموش رہتا ہے، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ اس طرح کے چوزے جو ہمارے مدارس سے نکل رہے ہیں، یہ برسوں کی بوئی ہوئی بیج کا نتیجہ ہے ماضی کے جھروکوں سے بات کی جائے گی تو بات بڑھ جائے گی۔ سب سے بڑا تخم یہ ہے کہ اہل حدیث افراد میں سے بعض شذوذ پسند حضرات کے ذریعہ خیر القرون کے اصحاب اخیار کو مطعون کیا جاتا رہا ہے میں نے خود اپنے گنہ گار آنکھوں سے دیکھا اور سنا ہے اور بعض باوثوق حضرات نے خبر بھی دی ہے۔ ایک چبھتی ہوئی حقیقت یہ بھی ہے کہ عظمت صحابہ کا مسئلہ احناف کے یہاں استہزائی رہا ہے، جو کہ کل تک کتابوں تک ہی محدود تھا پھر عقلیاتی طبقہ پیدا ہوا اس نے عقیدہ کے مسئلہ کو تاریخی مسئلہ بنا دیا اور بیٹھ گئے فیصلہ کرنے اس کا کام بھی بند کمروں میں ہوتا رہا اور اندر ہی اندر تشیع نوازی سے سرفراز ہوتے رہے پھر ندوہ کے ایک دو لونڈے آئے اور اول فول لکھ کر سورگ سدھار گئے یہ اور بات ہے کہ بعد میں معذرت بھی پیش کی گئی، سمجھایا مگر ایسا سمجھایا گیا جو بعد میں جاکر حوصلہ افزائی کا باعث بنا اسی کی مثال سلمان لونڈا انجینئر ڈاکٹر نہ جانے کون کون سے بھانت بھانت کے بیہودے پیدا ہوے اللہ توبہ استغفر اللہ!

 

کہنا یہ تھا کہ عظمت صحابہ کا مسئلہ آج مسلکی مسئلہ بن گیا ہے سلمانی و فیروزی اجزاب جو بلا وجہ ساتھ دے رہے ہیں ایک اہم وجہ یہ بھی ہے، صحابہ کا تعلق بلا واسطہ عقیدہ سے ہے اسے مسلکی رنگ دینا غلط ہے یہی وجہ ہے کہ جب اپنوں سے غلطیاں ہوتی ہیں تو اس پر سرزنش کرنے کے بجائے لیپاپوتی سے کام لیا جاتا ہے خیر میں گڑے مردے نہیں اکھاڑنا چاہتا، صحابہ کا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، ان کے حقوق، ان کی پہچان، ان کی عظمت، سب کچھ نصوص سے طے ہیں، اس میں عقل کی درانتی چلانا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ پھر یہ کہ خیر القرون بالخصوص صحابہ تاریخ کا حصہ ضرور ہیں، مگر ان کی تاریخ عام تاریخ سے پرے ہے دیگر اصناف تاریخ کو عقیدہ کی حیثیت حاصل نہیں، صحابہ کا تاریخ ہونا فرع ہے اصل عقیدہ ہے ہم اس تاریخ کو تو تاریخ مانتے ہی نہیں جو عظمت صحابہ اور شان صحابہ کے خلاف ہو یہی میرا ایمان ہے پھر میرے ایمان میں یہ بھی شامل ہے کہ جن کو اللہ نے بزرگ و برتر بنایا ہے، ان کی تاریخی حیثیت کو کیوں کر کمزور ہونے دے گا اللہ کے فضل و کرم سے مرور ایام کے ساتھ ساتھ عظمت صحابہ کی تاریخی حیثیت کھری سے کھری ہوتی جا رہی ہے، یہ بھی اخیار الاخیار کے اعجاز میں شامل ہے۔ تیسرے خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کے دور سے مختلف قسم کے فتنے اٹھ کھرے ہوئے تمام صحابہ کرام نے مرور ایام کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی صوابدید کے مطابق اپنا موقف طے کرتے رہے، یہ سراسر اجتہادی مسئلہ تھا ان شاء اللہ تعالی تمام صحابہ ثواب دارین کے مستحق ہوں گے، مگر جن سے اجتہادی چوک ہوئی انہیں بھی اجر ملے گا ان شاء اللہ پھر یہ کہ یہ مسئلہ ایک تقدیری مسئلہ تھا طے شدہ تھا، اس کو ہوبہو مان لینے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں، اس میں مداخلت کرنا اللہ کی تقدیر سے بغاوت اختیار کرنا ہے اور کچھ نہیں، مزید بر ایں کہ اللہ نے جب ہمارے ہاتھوں کو ان سے محفوظ کر رکھا ہے تو ہم اپنی زبانوں کو کیونکر آلودہ کریں، دنیا کی سب سے بدترین قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے رہنمائوں کو گالی دے، انہیں برا بھلا کہے ہم اپنے رہنماؤں سے کٹ کر کیسے کہاں جا سکتے ہیں، پھر ہماری کیا حیثیت رہ جائے گی۔ ہماری آج تمام طرح کی پسماندگی کا اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے رہنماؤں سے بصیرت حاصل کرنے کے بجائے ان کی عزت و آبرو سے سے کھیلنا شروع کردیا ہے، برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ اس سلسلہ میں کارکنان بھگوا سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے بجائے طوطا چشمی اختیار کر لی ہے اور اصحاب اخیار کو گالیاں دینا شروع کر دیا ہے، اسے بھلے ہی دنیائے فن علمی غلغلہ۔ مطالعہ کا نچوڑ، تجزیاتی تقریر و تحریر کا نام دیں، مگر میری نظر میں فضائی آلودگی، فکری آوارگی، ضیاع وقت، قلم و قرطاس کی بے حرمتی اور جہنم کے ایندھن کے سوا کچھ بھی نہیں۔ صحابہ ہماری اساس ہیں، خدارا بنیاد نہ کھودو ورنہ عمارت ڈھہ جائے گی، وہی تو ہماری پناہ گاہ ہیں، وہی تو ہماری آخری چھاؤں ہیں، جس کے دیوار تلے ہم سستاتے ہیں اور سکون کی سانس لیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں فتنہ پرور کون ہو سکتا ہے جو پوری امت کو عظمت صحابہ کے سلسلہ میں الجھائے رکھے، اور سب کے ایمان اور عقیدہ کو داؤ پر لگاتا پھرے۔

خیر آج ضرورت ہے کہ مسلک اور مذہب سے اوپر اٹھ کر صحابہ کا دفاع ان کے منہج کا تحفظ اور دفاع اور اس کو پھیلایا اور عام کیا جائے اللہ ان نفوس قدسیہ کی مغفرت کرے اور ان کے درجات کو بلند کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے.. آمین

 

از .محمد افضل محی الدین

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *