سفر نامہ :گھر سے کشمیر تک

سفر نامہ(گھر سے کشمیر تک)

 

از قلم ۔۔ ۔۔ شریف اکرام تیمی کٹیہاری

 

سفر کو حدیث میں ” قطعۃ من النار “سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی سفر جنہم کا ایک ٹکڑا ہے مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی موجودہ ترقی یافتہ دور نے اسے بہت حد تک آرام دہ، غیر ضرررساں اور گھریلو حالات کے موافق بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے باوجود بھی انسان حدیث کے مذکورہ مفہوم ومعنی کو انکار کرنے سے قاصر ہے۔چونکہ سفر کتنا ہی پر امن اور آسان کیوں نہ ہو اگر دور کا سفر ہو تو آدمی اس کے مصائب وآلام اور اس کے تکان کے تئیں پہلے ہی سے بہت کچھ سوچتا ہے اور تیاریاں کرتا ہے۔ اسی طرح کی کیفیت کچھ میری بھی تھی جب مجھے یقین ہوگیا کہ کشمیر کا سفر کرنا ہے۔ میں پٹنہ میں گریجویشن آخری سال کا امتحان دےکر رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا اور آگے کی تعلیم کےلیے فکر مند تھا۔ جے این یو میں پی جی، جامعہ ملیہ اور مانو میں بی ایڈ ان ٹرانس امتحان کے لیے فارم پر کیا ۔ میری خواہش تھی کہ دہلی میں داخلہ کو ترجیح دوں مگر شاید خدا کو منظور نہیں تھا اور میرا نام مانو کالج سرینگر کے لیے کوالیفائی لسٹ میں آیا ۔ اس کے بعد بہت سے دوست و احباب سے بات ہوئی اور غالباً مجھے سبھوں نے وہاں کے خوشگوار آب و ہوا ، رونق ، موسم بہار اور دنیا کی جنت کہی جانے والی جگہ سے متعارف کروا کر میری روانگی کو یقینِ محکم اور عزم مصمم بنانے میں تعاون کیا۔

 

میں سرینگر جانے کے لیے پختہ ارادہ بنالیا اور پھر مانو کالج دربھنگہ کونسلنگ کروانے گیا جہاں پہ سرینگر جانے والے کئی ہم نشینوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک دوسرے سےکچھ دیر گفت وشنید ہوئی اور رابطہ نمبر کا لین دین ہوا ۔ سفر سے قبل وہاں جانے والے ساتھیوں سے بات ہوتی رہی اور اس دوران دل میں وادئ جنت اور سیاحوں کامرکز کے بارے طرح طرح کے افکار و خیالات آتے رہے ۔ میں سوچتا رہا اور من ہی من خوش ہوتا رہا کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ سیر وسیاحت بھی مقدر کا حصہ بن گئی یعنی آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام یا یوں کہہ لیں دونوں ہاتھ میں لڈو ہی لڈو۔بہر کیف 30 جولائی 2019 کو کٹیہار ریلوے اسٹیشن سے جموتوی کے لیےرات 1:35 میں گاڑی تھی جس میں ایک پیارے کلاس ساتھی اور ایک معمر بزرگ ، جو کشمیر کے سرحدی علاقے میں تقریبا 30 سالوں سے امامت وخطابت کے فرائض انجام دےرہے تھے ، سے ملاقات ہوئی۔ سلام وسناشائی کے بعد کچھ دیر بات ہوئی اور پھر صبح ملنے کی بات کہہ کر اپنی سیٹ پر سونے کو چلا ۔ صبح بیدار ہوکر برش کیا، منہ ہاتھ دھویا اور ان دونوں کے پاس چلا آیا۔ تینوں مل کر باتیں کرتے رہے اور وقتاً فوقتاً بھوک و پیاس کی تشنگی کو بجھاتے رہے۔ بزرگ صاحب نے وہاں کے تعلق سے بہت ساری باتیں بتائی اور ہم دونوں ساتھیوں کی اجنبیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ہمارے منزلِ مقصود کے قرب جوار کے علاقے تک ساتھ ساتھ جانے کی تسلی دے کر غیر معروف جگہ کے لمبے سفر کی تکان دور کردیا۔ ہم دونوں بے فکر ہو کر سفر طےکر تے گئے یہاں تک کہ31جولائی کو 2بجے دن میں جموں پہنچ گئے۔ وہاں پر پلیٹ فارم سے اترتے ہوئے فوجیوں کے جم غفیر کا نظارہ عجیب سا لگا اور چلتے ہوئے انہیں غور سے دیکھتا رہا اسی اثنا میں بس اڈا جانے کے لیے سواری گاڑی ملی جس سے ہم لوگ بس پڑاؤ پہنچے۔ وہاں اتر کر سرینگر جانے کے لیے بس کی جانکاری لی تو پتہ چلا کہ 9 بجے رات کو گاڑی کھلےگے جو صبح تک سرینگر پہنچائے گی۔ ہم لوگوں نے ٹکٹ لیا اور سامان کو ٹکٹ کاؤنٹر کے روم میں رکھ دیا۔ بھوک بھی لگی تھی تو سب مل کر ہوٹل میں کھانا مزے سے کھائے ۔ اب ہمارے پاس انتظار کے لیے وہاں کافی وقت تھا، سیم کارڈ prepaid تھا جس کا نیٹ و رک کٹھوعہ اسٹیشن کےبعد ختم ہو گیاتھا تو پھر ہم دونوں ساتھی نے دکان سے دو postpaid sim خریدا جس کو چالو کروانے میں انتظار کا اچھا خاصا وقت پاس ہو گیا، کچھ ادھر ادھر مٹرگشتی کیا ۔ رات 9 بجے بس کے پاس پہنچے تو ڈرائیور صاحب بار بار سب سواریوں کو بول رہے تھے کھانا پینا اچھا سے کر لیجیے اور کچھ زاد راہ بھی لے لیجیے۔ ہم لوگوں نے سوچا صبح تک تو پہنچ ہی جائیں گے اور ابھی تو پیٹ بھرا ہوا ہے کوئی دقت نہیں ہے۔ تقریباً 11 بجے رات کوبس کھلی تو میں دل ہی میں سوچ رہا تھا کہ کاش گاڑی دن میں جاتی تو پہاڑیوں کی ہریالی، خوبصورت اور دلکش مناظر کا نظارہ کرتے ہوئے جاتا اسی اثنا میں 20 کیلومیٹر جانے کے بعد راستے میں سرینگر جانے والی ساری گاڑیوں کو پولیس افسران نے رکوا دیا ۔ سب لوگ پوچھنے لگے کیا ماجرا ہے؟

 

کچھ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ صرف “امرناتھ یاترا ” والی گاڑی کو جانے کی اجازت مل رہی ہے تاکہ وہ لوگ بآسانی پر پیچ راستہ کو پار سکے ، راستے میں گاڑیوں کا ازدحام نہ ہو اور پھر صبح کو دوسری سواری گاڑی بھی جا سکے۔ خیر مجبوراً کسی طرح رات کٹی مگر صبح بھی ڈرائیور آرام کی نیند لے رہا تھا ۔ جب سب لوگوں نے اسے جگانے کی کوشش کی تو جواب آیا کہ ابھی سگنل نہیں ملا ہے اور کب ملے گا اس کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔ یہ خبر سن کر کچھ ذہنی پریشانی ضرور بڑھی مگر بزرگ صاحب ساتھ تھے جو بتارہے تھے کہ اس طرح کا معاملہ اس راستے میں ہوتا رہتا ہے۔ اس دوران جب بھوک کی شدت محسوس ہوئی تو کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر گیا ، کچھ دوری پہ ایک ہوٹل ملا ۔ اس میں ہم لوگوں نے غالباً 1 بجے دن کو کھانا کھایا ۔ اس وقت ہمیں سمجھ میں آیا کہ ڈرائیور صاحب بار بار سواریوں کو توشہ راہ کے لیے کیوں زور دے رہے تھے۔ آخرکار 15 گھنٹے سے زیادہ رکنے کے بعد لگ بھگ ساڑھے تین بجے دن کو گاڑی کھلی راستے میں بھوک کا احساس تو ہو رہا تھا مگر ڈر ڈر کے کھا رہا تھا کہ کہیں قضاء حاجت کی دعوت نہ مل جائے چونکہ پانی کی قلت تھی ۔ خیر دن میں وادئ کشمیر کا کچھ گھنٹے نظارہ کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ گاڑی چل رہی تھی ، بس کے سلیپر والی سیٹ میں بیٹھ کر بڑے شوق و ذوق سے لذت دیدار سے فیض یاب ہو رہاتھا، شادابی وہریالی کو نگاہیں بڑی گہرائی وگیرائی سےمطالعہ کر رہی تھیں اور دن میں سورج کی روشنی سے شام کے وقت پہاڑیوں کی طمطراق و دیدہ زیب اور خوشنما و دلکش منظر سے لطف اندوزی کا دلی آرزو و ارمان اور خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا تھا۔ گاڑی کا پہاڑ کے اوپر چڑھنا پھر سطحیت کی طرف اترنا، اوپر سے نیچے تک وہاں کے باشندوں کے خوبصورت اور مختلف ومتنوع گھروں کی سجاوٹ کا نظارہ، طرح طرح کے باغات ،ہرے بھرے درخت کا نظارہ اور پہاڑ کی کھائیاں وغیرہ آنکھوں کو تادیر پلک جھپکنے اور زیادہ سے زیادہ نظارہ کرنے پر مجبور کیے ہوئے تھے۔ بہر حال ان خوبصورت نظاروں سے سورج کی شعائیں باقی رہنے تک لطف اندوز ہوتا رہا اسی اثنا میں جب پہاڑ کے بالائی سطح سے اس کی کھائیاں غور سے دیکھا تو احادیث میں مذکور جہنم کی کھائیاں بھی یاد آنے لگیں۔ یقیناً ہم عالم برزخ کا مکمل تصور نہیں کر سکتے ہیں لیکن کچھ دیر کے لیے مجھے لگنے لگا کہ شاید ایسا ہی کچھ منظر ہوگا۔ اوپر ی سطح پر گاڑی جب کسی موڑ کو کروس کرتی توکھائیاں دیکھ کر لگتا کہ جان ہتھیلی میں آگئی ہے ۔ اس طرح سے گاڑی چلتی رہی، راستے میں کہیں کہیں ہوٹل میں رکتی رہی تاکہ سواری اپنی بھوک کو شانتی پہنچا سکے۔ تقریباً 12 بجے رات کو گاڑی پھر بیچ راستے میں رک گئی۔ صبح تک سب لوگ گاڑی ہی میں سوتے رہے۔ جب صبح بیدار ہوئے تو موسمِ سرد کا احساس ہونے لگا۔ ٹھنڈی کے کچھ کپڑے نکال کر زیب تن کیا۔ صبح 7 بجے گاڑی پھر کھلی، راستے میں فوجیوں کی اتنی گھیرا بندی پہلی باردیکھ ر۔ کہیں کہیں گاڑی کو فوج لوگ روکتے، تفتیش وتحقیق کے بعدآگے جانے کی اجازت ملتی۔ اس طرح کرتے ہوئے بس دن ڈیڑھ بجے کے قریب سرینگر پہنچی ۔

 

سرینگر سے ہمیں 15 کیلومیٹر دور اور آگے سفر طے کر نا تھا۔ بزرگ صاحب پھر ہم لوگوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے اور وہاں پر ہم دونوں کو الوداع کہے جہاں سے ہم دونوں کو گاڑی بدل کر ہمہاما چوک تک جانا تھا جو 4 کیلومیٹر کے آس پاس دور تھا۔ ہم دونوں نے ہمہاما چوک کے لیےگاڑی میں بیٹھا، وہاں پہنچنے کے بعد السابقون الأولون میں سے جو ساتھی تھے انہیں فون کرکے رسیو کرنے کے لیے بلایا۔ کچھ دوری پرمانو کالج کا کیمپس تھا اس کے اردگرد پہنچے اور کچھ جدید وقدیم طلباء سے لقاء کا شرف حاصل ہوا۔ سڑک سے ہی کالج کا نظارہ ہوا ، اس کے بعد رہائش کے لیے روم کا بندوبست ہوا اور پھر آرام کے لیے رہائش گاہ کی طرف رواں دواں ہوئے۔ اس طریقے سے سرینگر میں اپنی منزل تک امن و سلامتی کے ساتھ پہنچ گئے۔

 

یہ سفر گھر سے 29 جولائی رات 8 بجے سے شروع ہوکر 2 اگست 2019 دن 3 بجے ختم ہوا یعنی مکمل چار دنوں کا سفر رہا۔ اس دوران کھانے پینے کا خاص خیال نہ رکھنا مجبوری تھی ۔ نئی جگہ کی نئی چاہت اور لذت دیدار نے اتنا سفر ہونےکے باوجود بھی سکون واطمینان بخشا ورنہ اس طرح کے سفر سے اکثر لوگ تنگ آکر اپنا نظریہ بدل لیتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں منزل مقصود تک سلامتی کےساتھ پہنچا دیا۔ بدنی وجسمانی تھکاوٹ پر سرینگر جانے کا ذہنی جوش وجذبہ ، شوق ورغبت اور عزم مصمم حاوی او غالب رہا جس کی وجہ سے تکان کا زیادہ احساس نہیں ہوا مگر سفر نے اپنا اثر چھوڑ ہی دیا۔ زندگی کا پہلا اتنا طویل سفر تھا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے! (آمین )

 

نوٹ : اگلی قسط میں کشمیر سے بھوپال تک کا سفر نامہ ہوگا جو زیادہ روچک، دلچسپ، درد والم کی کچھ کہانی۔ ۔۔۔۔ ۔

 

شریف اکرام تیمی کٹیہاری

مانو بی ایڈ کالج، بھوپال

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *