مانو کالج اورنگ آباد کی استقبالیہ تقریب

مانو کالج اورنگ آباد کی استقبالیہ تقریب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذیشان الہی منیر تیمی

مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اورنگ آباد کی سرزمین پر موجود مانو کالج اپنی سرگرمیوں اور نشاطات کی وجہ سے صرف مہاراشٹرا ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں اپنی الگ پہچان اور شان رکھتا ہے جو چیزیں دیگر اسکول اور کالج کے لئے قابل دید اور قابل تقلید بھی ہیں کیونکہ یہاں کے بچوں کو خالص اسلامی ماحول میں سینچنے ،سنوارنے اور ایک اچھا شہری و انسان بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کو ایک خوشبودار پھول بنانے کی بھی ہر ممکن سعی مسعود کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں وقت و حالات کے اعتبار سے کچھ ایسے پروگراموں یا پھر نشاطات کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو دیگر ادارے یا پھر اسکول و کالج میں ناپید ہیں اور اس کی جیتی جاگتی ثبوت 30/09/2019 کی اسقبالیہ تقریب ہے ۔اس کی صدارت ڈاکٹر عبدالرحیم سر (پرنسپل مانو ،سی، ٹی، ای، اورنگ آباد )کے ذمہ تھی جب کہ نظامت کا فریضہ شہاب الدین اور کاتب سطور(ذیشان الہی منیر تیمی) بی ایڈ تھرڈ سمیسٹر نے انجام دی ۔

 

اس پروگرام کی ابتداء اس کتاب سے کی گئی جو کتاب اس دنیا کی سب سے سچی ،اچھی اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ،جو کتاب فصاحت و بلاغت ،بصیرت و دانائی کا زینہ ہے جس پر چل کر ایک انسان ہدایت ،وحدت ،انسانیت ،الفت اور محبت جیسے خزینے سے اپنی زندگی کو مالا مال کرلیتا ہے ۔جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود رب کائنات نے لے رکھی ہے “انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون “والی آیت اس کی واضح برہان ہے ۔ قرآن کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گلہائے عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لئے نمرہ زینب تشریف لائیں موصوفہ نے بہترین لب و لہجہ اور مسحور کن آواز میں نعتیہ اشعار گنگناکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے عقیدت و محبت کا ثبوت پیش کیا ۔

قرآن کی تلاوت اور نعت کے بعد مانو کالج اورنگ آباد کی روایت حسنہ کو برقرار رکھتے ہوئے مانو ترانہ کو اس پروگرام میں بذریعہ آڈیو پیش کیا گیا یہ ترانہ مانو کی جو حقیقی پہچان ہے اس کو واضح کرتی ہے ۔

ترانہ مانو کے بعد گل پوشی کا سلسلہ شروع ہو ا اور ڈاکٹر عبد الرحیم سر، ڈاکٹر پٹھان وسیم سر، ڈاکٹر خان شہناز بانو میم، ڈاکٹر بدر الاسلام سر، محترمہ عظمی صدیقی میم، ڈاکٹر شاہین پروین میم اور محترمہ سیدہ ہاجرہ نوشین میم کو گل پوشی کے مد نظر خراج تحسین پیش کیا گیا ۔پھر ابصار عالم نے اپنی خوبصورت آواز میں ایک استقبالیہ نظم پڑھی ۔ اس استقبالیہ نظم کے ذریعہ ہمارے بڑے بھائی یا پھر پرانے طلبہ اس کالج میں تشریف لائے ہوئے نئے طلبہ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ۔حالانکہ اسقبالیہ نظم کا ہر ہر لفظ و جملہ ایک خوشبودار باغیچہ کے مانند تھا ۔جس سے الفت ،محبت ، چاہت اور عقیدت کی خوشبوں آرہی تھی اور جس کے مد نظر کالج میں تشریف لائے ہوئے نئے طلبہ و طالبات کا پرجوش اسقبال کیا جارہا تھا ۔یہ اشعار تو اپنی جگہ ہیں ہی لیکن دوسری طرف ہمارے اس اشعار کے مفہوم سے کہیں زیادہ الفت و محبت اور چاہت ہمارے قدیم بھائیوں کے دلوں میں نئے طلبہ و طالبات کے لئے ہیں ۔جس کو نئے طلبہ و طالبات نے یہاں آکر دیکھا اور محسوس بھی کیا۔اس کے بعد محمد علی، معید انجم ،ملک رضا الباری اور خادم الاسلام وغیرہ نے مزاحیہ شاعری، غزل اور مزاح کے تحت اس مجلس کو خوبصورت بنانے کی پوری کوشش کی ۔

 

اس استقبالیہ تقریب کی مناسبت سے نو وارد طلبہ و طالبات نے اپنا اپنا تعارف بھی پیش کیا جس کی وجہ سے نئے اور پرانے طلبہ و طالبات کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننے اور پہچاننے کا موقع ملا اس مناسبت سے کالج کے باالعموم تمام طلبہ و طالبات نے اپنا اپنا تعارف پیش کیا لیکن باالخوص میں فردوس ،نظام ،نظام الدین، صلاح الدین ،محمد علی تیمی ،مبشر ،عاشق ،شاداب ،شمیم ،دانش ،عارف ،تفضل ،ملک رضا الباری ،فردوس ،عامر ،سنجور،انور ،غلام ،چاند ،یزدانی ،شاکر ،جمیل ،عدنان ،نوشین ،عائشہ ،رقیہ اور صفیہ جیسے طلبہ و طالبات نے اپنا اپنا تعارف پیش کیا ۔

اس استقبالیہ تقریب کی مناسبت سے کالج کے لگ بھگ تمام طلبہ و طالبات موجود تھے لیکن باالخصوص میں محمد علی ،شاہ رخ خان، محمد عمران، مستحسن، عبد القادر، معید انجم، ابو نصر، عاشق، افروز، احمد رضا، سلامل انصاری، قابل، سلمان، عبد السمیع، شمشاد، امتیاز، علی تیمی، نظام الدین، فردوس، جمیل، عاشق، شمیم، عبد المتین، تفضل، ملک عبد الباری، شاکر، خادم الاسلام سیماب، سائمہ، نمرہ، عمرانہ، ترنم، عائشہ، رقیہ، صفیہ اور نوشین جیسے طلبہ و طالبات موجود تھے ۔

اس استقبالیہ تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ قدیم طلبہ و طالبات کی جانب سے کھانے پینے کا بھی خوب خوب انتظام تھا اس موقع سے تمام بچے خوب بریانی اور حلوی کھائے ۔

صدر پروگرام پروفیسر عبد الرحیم سر پروفیسر پٹھان وسیم سر اور پروفیسر بدر الاسلام سر حفظھم اللہ ،محترمہ خانم شہناز بانو،محترمہ عظمی صدیقی ،ڈاکٹر خان شاہین میم، سیدہ ہاجرہ نوشین میم حفظھن اللہ کے ساتھ ساتھ تمام طلبہ و طالبات کی موجودگی نے اس پروگرام کو کامیاب اور مثالی بنانے میں کافی اہم کردار ادا کیا ۔

اخیر میں صدر محترم کا پر مغز خطاب ہوا پھر اختتامی کلمات کے لئے محمد عمران تشریف لائے ۔موصوف کی زیر نگرانی ہی میں اس تقریب کا انعقاد ہوا تھا انہوں نے تمام اساتذہ و معلمات اور طلبہ و طالبات کے شکریہ کے ساتھ اس تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔

ذیشان الہی منیر تیمی

مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *