سلسلۂ آن لائن دروس ای-مدرسہ- بعنوان علم کے معانی

سلسلۂ آن لائن دروس ای-مدرسہ- بعنوان علم کے معانی

*مدرس*
*امان اللہ ذوالفقار احمد نوری*
(استاد، ای_مدرسہ)

*علم کے معنیٰ.*
*علم حاصل کرنے کی ترغیب.*
*شرعی علم کی اہمیت و فضیلت.*
*علم سیکھنے کی فضیلت.*
*دینی معلومات رکھنے والا شخص دنیا کا عظیم شخص ہے.*
*علم سیکھنے کی عمر.*
*انسان کے پیدائش کا مقصد.*
______________________________________

*علم کے معنیٰ* علم کے معنیٰ ہیں جاننا، پہچاننا، معرفت حاصل کرنا.جستجو کرنا،
علم ہی وہ نور ہے جس کی بدولت انسان اشرف المخلوقات کہلایا. علم کے بغیر انسان حیوانوں سے بھی بدتر ہے.
*علم حاصل کرنے کی ترغیب* علم سیکھنے اور علم حاصل کرنے پر جتنا مذھب اسلام نے زور دیا ہے اتنا کسی اور مذاھب نے نہیں دیا. اس چیز کا اندازہ ہم اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ سب سے پہلی جو نازل ہوئی وہ تعلیم وتعلم اور پڑھنے، سیکھنے، کے تعلق سے نازل ہوئی. :” اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5)”
ترجمہ:”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا(1)جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔(2)تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے(3)جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔(4)جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔(5)(سورہ علق)
یعنی سب سے پہلی وحی غار حرا میں پانچ آیت سورہ علق کی نازل ہوئی. جس میں اللہ رب العزت نے سیکھنے اور پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے.
اسی طریقے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :”طلبُ العِلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ” (جامع الصغیر) کہ شرعی علم حاصل کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کسی کو خاص نہیں کیا کہ علم صرف بچوں کو سیکھنا ہے، یا صرف مردوں کو علم سیکھنا ہے، یا صرف عورتوں کو علم سیکھناہے. الغرض کسی کو خاص نہیں کیا اور نہ ہی عمر کی تعین کی بلکہ عام طور پر فرمایا کہ علم حاصل کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے.
تو معلوم یہ چلا کہ مرد ہویا عورت بچہ ہویا جوان تمام پر شرعی علم حاصل کرنا فرض اور ضروری ہے اور کم ازکم اتنا علم حاصل کرنا ضروری اور لازم ہے کہ اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گذار سکے، اور عبادات نماز، روزہ، اور دیگر عبادات ومعاملات شرعی طریقے پر کرسکے.
*شرعی علم کی اہمیت و فضیلت* علم حاصل کرنے اور سیکھنے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ عالم کی بھی فضیلت وراد یعنی علوم شرعیہ رکھنے والوں کی فضیلت. :جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا” (الفاطر، 28)
بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں،
اسی طرح دوسری جگہ علوم شریعیہ رکھنے والوں کے درجات کی بلند کا تذکرہ کیا:” يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ” ترجمہ:”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے۔(سورہ مجادلہ)
*علم سیکھنے کی فضیلت* علم سیکھنے اور علم حاصل کرنے کی فضیلت بھی وارد ہے. جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: وَمَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ.(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تلاشِ علم کی راہ پر چلا اللہ تعاليٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے.
*دینی معلومات رکھنے والا شخص دنیا کا سب سے عظیم شخص ہے*
یہ اہمیت و فضیلت اس شخص کے تعلق سے ہے جو دین سیکھتا اور سکھاتا ہے علم حاصل کرتا ہے اور دوسروں تک پہنچاتا ہے. جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے إرشاد فرمایا:”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ” (صحیح بخاری)
ترجمہ: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔”
*علم سیکھنے کا عمر* علم سیکھنے یا علم حاصل کرنے کا کوئی عمر نہیں ہے بلکہ کبھی بھی علم حاصل کرسکتے ہیں، علم سیکھ سکتے ہیں، علم حاصل کرنے یا علم سیکھنے کے تعلق سے کہاجاتا ہے کہ” ماں کی گود سے لیکرکے قبر کی گود تک “سیکھنا چاہئے،یعنی علم سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہے کسی بھی عمر میں علم سیکھا جا سکتا ہے.
*انسان کے پیدائش کا مقصد* اللہ رب العزت نے تمام مخلوق کو کسی نہ کسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ا، اسی طرح تمام مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق انسان کو عظیم ترین مقصد کے لئے پیدا کیا ہے جس کی وضاحت خود قرآن مجید کرتی ہے :”وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ” ترجمہ:میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔(سورہ الذاريات) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی کا مقصد بتایا، ہم کیوں پیدا کئے گئے ہیں، ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے،” وہ ہے اللہ رب العالمین کی عبادت” اسی عظیم ترین مقصد کے لئے انسانوں وجنات کو پیدا کیا گیا، تو معلوم یہ چلا کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ رب العزت کی عبادت ہے، اور کھانا کمانا محنت ومشقت کرنا یہ ہماری زندگی کی ضرورت ہے نہ مقصد ہے.
اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے مقصد حیات کو سمجھیں اور اس مقصد میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں اور عبادت میں سستی کاہلی نہ کریں.
اللہ تعالیٰ آپ ہم سب کو دین کا صحیح سمجھ عطاء فرمائے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے (آمین ثم آمین)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *