سلسلۂ آن لائن دروس ای-مدرسہ:بعنوان ارکان اسلام

کلاس نمبر (2)

سلسلۂ آن لائن دروس ای-مدرسہ

مدرس
امان اللہ ذوالفقار احمد نوری
(استاد، ای_مدرسہ)

ارکان اسلام.
لاالہ الا اللہ کے شروط.
محمد رسول اللہ کا تقاضہ.
ارکان ایمان.
احسان کی تعریف
______________

ارکان اسلام اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں.
یعنی اسلام کے پانچ اہم ارکان ہیں یا اسلام کے پانچ ستون ہیں یا اسلام کے پانچ بنیادی پیلر ہیں جو ایک مسلمان کے اندر پایا جانا بے حد ضروری ہے اس کے بغیر کوئی کامل وخالص مسلمان نہیں ہوسکتا، اس لئے ایک حقیقی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلام کی بنیادی ارکان سے باخبر ہو اور وہ تمام ارکان پر عمل پیرا ہو. تب جا کرکے ایک حقیقی اور پکا سچا مسلمان مانا جائے گا.
اسلام کے بنیادی ارکان کچھ اس طرح ہیں
پہلا(1) کلمہ شھادت (لاالہ اللہ محمد رسول اللہ) یا (اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ) یا (اشھد ان لاالہ اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسوله) یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سواء کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں.
یہ سب سے پہلا اسٹیپ ہے اسلام میں داخل ہونے کا، اگر کوئی اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے اسلام کو قبول کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کلمہ شھادت کا اقرار کرے کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے یا اللہ کے سواء کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں.
تو اگر کوئی “لاالہ” کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام معبودان باطلہ کا انکار کیا. یعنی “لاالہ” میں تمام معبودان باطلہ کا انکار ہے جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے یا پرستش کی جاتی ہے اور “الااللہ” میں صرف ایک اللہ تعالی ہی کے لئے عبادت کا اقرار ہے یعنی “لاالہ الااللہ” کے اقرار کے بعد تمام معبودان باطلہ کا انکار اور ایک اللہ کی عبادت کا اقرار کرتا ہے.
لاالہ الااللہ کے شروط
1-ایساعلم جو جہالت کے منافی ہو.
2-ایسا یقین جو شک کے منافی ہو.
3-ایسا اخلاص جو شرک کے منافی ہو.
4-ایسی سچائی جو جھوٹ کے منافی ہو.
5-ایسی محبت جو نفرت کے منافی ہو.
6-ایسی اطاعت جو نافرمانی کے منافی ہو.
7-ایسی قبولیت جو انکار کے منافی ہو.
8-ان سارے معبودوں کا انکار جن کی اللہ کے سوا پرستش کی جاتی ہے.
یہ وہ تمام نفی ہے جو “لاالہ الااللہ” کے اقرار کے بعد لازم آتا ہے
اسی طرح “محمد رسول اللہ” کے اقرار کے بعد لازم آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوطریقے پرعمل پیرا ہوں اور اپنی زندگی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گذارے.
محمد رسول اللہ کا تقاضہ
جب کوئی “اشھد ان محمد رسول اللہ” یا “محمد رسول اللہ” کا اقرار کرتا ہے تو اس پر چند تقاضے لازم آتے ہیں جو اس طرح ہے.
1-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کی خبر دی ہے ان میں آپ کو سچا جاننا.
2-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان میں آپ کی اطاعت کرنا.
3-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کاموں سے روکا ہے ان سے باز رہنا.
4-اللہ کی عبادت اسی طریقہ پر جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز ٹھہرایا (بتایا) ہے.
یعنی خلاصہ یہ ہے کہ “لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ” کے اقرار کے بعد ہم آزاد نہیں ہیں ہم من مانی زندگی نہیں گذرا سکتے،بلکہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گذارنا ہوگا.تب جاکرکے ہم حقیقی معنوں میں مسلمان ہوں گے.
دوسرا(2) نماز قائم کرنا.
یعنی ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی کرے اور نماز کو نماز کے وقت پر ادا کرے، اور اگر کوئی نماز نہیں پڑھتا ہے سرے سے تو وہ کامل مسلمان نہیں ہے، کیونکہ کامل مسلمان ہونے کےلئے نماز کی ادائیگی ضروری ہے.
تیسرا(3) زکواۃ کی ادائیگی کرنا.
اگر کسی مسلمان پر زکواۃ واجب ہو تواس کےلئے ضرورہے کہ وہ زکواۃ کی ادائیگی کرے.
چوتھا(4) رمضان المبارک کے روزے رکھنا.
یعنی رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا تمام مسلمانوں پر فرض و ضروری ہے اور ایک کامل مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ رمضان کے روزے رکھے، اگر کوئی بلا عذر شرعی رمضان کے روزے ترک کرتا ہے روزہ نہیں رکھتا ہے تو گویا کہ وہ کامل مسلمان نہیں ہے.
پانچواں(5) استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا.
یعنی: اگر کسی کے پاس مال دولت ہے اور حج کرنے کی طاقت ہے تو چاہیے کہ وہ حج کرے،کیونکہ اس پر حج واجب ہوگیا ہے، اور اگر طاقت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتا ہے تو گویا کہ وہ کامل مسلمان نہیں ہے
ارکان ایمان
ایمان کے بنیادی ارکان چھ/6 ہیں.
1-اللہ پر ایمان لانا.
2-اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا.
3-اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا.
4-اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا.
5-آخرت کے دن پر ایمان لانا.
6-اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا.
اللہ پر ایمان لانے کا مطلب اللہ پر ایمان لانےکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمام جہاںوں کا خالق رازق مدبر الأمور ہے، وہی اللہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، جو ہمیں کھلاتا، پلاتا ہے، اس دینا کو چلانے والا ایک اللہ ہے.
اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب
اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا ہے اور فرشتوں کی تعداد سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے، اور فرشتہ الگ الگ کاموں پر مامور ہیں.
انس وجن وفرشتوں کی تخلیق
* اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا.
* اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو میٹی سے پیدا کیا.
* اللہ تعالیٰ نے جنات کو آگ سے پیدا کیا.
مشہور فرشتوں کے نام
*حضرت جبریل علیہ السلام
*حضرت میکائیل علیہ السلام
*حضرت اسرافیل علیہ السلام
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کامطلب
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانےکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں نازل کیں وہ سب برحق اور سچی کتابیں تھیں. اور تمام کتابوں پر ہمارا ایمان ہونا چاہئے.
مشہور آسمانی کتابیں
توریت موسی علیہ السلام پر نازل ہوئی.
زبور داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی.
انجیل عیسٰی علیہ السلام پر نازل ہوئی.
قرآن مجید محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی.
یہ چار مشہور کتابیں ہیں اس کے علاوہ کئی اور کتابیں نازل ہوئی ہیں.
اللہ کے رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب
اللہ کے رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی رسول اس دنیا میں آئے سب کے سب اللہ کے نیک صالح بندے اور رسول تھے سب اللہ کی دین کی بلندی کے لئے اور توحید کو عام کرنے کے لئے آئے.
انبیاء کے تعلق سے مشہور ہے کہ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000) انبیاء کرام مبعوث کئے گئے .
قرآن مجید میں پچیس (25) انبیاء کرام کا نام موجود ہے
اولوالعزم انبیاء ابراہیم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسٰی علیہ السلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم.
آخرت کے دن پر ایمان لانے کا مطلب
آخرت کے دن پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک نہ ایک دن قیامت آئی گی، دنیا فنا ہوجائے گا، سب کواللہ کی طرف لوٹنا ہوگا، میدان محشر قائم ہوگا. سب کا اپنا اپنا حساب دینا ہوگا وغیرہ .
اچھی بری تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب
اچھی بری تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے حق میں کوئی چیز اچھا ہوا یا خراب ہوا تو بھی ہمارا ایمان ہونا چاہئے کہ یہ ہمارے تقدیر میں لکھا تھا.
اگر، مگر، ایسا،ویسا، نہیں کہنا چاہئے کہ اگر ایسا نہیں کرتا تو ایسا نہیں ہوتا یہ سب غلط چیز ہے. بلکہ اگرہمارے حق میں کچھ بہتر ہوا تو ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہماری تقدیر میں لکھا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اگر ہمارے حق میں کچھ خراب ہوا تو بھی ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہمارے تقدیر میں لکھا تھا اس پر صبر کرنا چاہئے.
احسان کی تعریف
احسان یہ ہے کہ ہم اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ ہم اللہ رب العزت کو دیکھ رہے ہیں (یعنی خشوع وخضوع) کے ساتھ عبادت کریں، اور اگر ہم سے یہ نہ ہوسکے یا ہم یہ تصور نہ کرسکتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں تو کم از کم ہم یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے.

آخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا صحیح سمجھ عطاء فرمائے اور اسلام کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے والا بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

 

 

Arkaan-e-Islam.
Laa-ilaah illalAllah k Shuruut.
Muhammad Rasoolullah (Sallallahu alaihi wasallam) ka taqazah.
Arkaan-e-Imaan.
Ehsaan ki tareef.
_________

#Arkaan-e-Islam :- Islam k paanch bunyadi arkaan hain.
Y’ani Islam ke paanch ahem arkaan hain ya Islam ke paanch sutoon hain ya Islam ke paanch bunyadi pillar hain jo aik Musalman ke andar paaya jana behad zaroori hai is ke baghair koi kaamil wa khalis Musalman nahi ho sakta, is liye aik haqeeqi musalman ke liye zaroori hai ke woh islam ki bunyadi arkaan se bakhabar ho aur woh tamam arkaan par Amal paira ho. Tab ja kar k eak haqeeqi aur pakka sacha Musalman mana jaye ga.

#Islam k bunyadi arkaan kuch is tarah hain.
Pehla(1) Kalma-e-shahadat (Laa-ilaah illalAllah Muhamma-dur Rasoolullah) ya (Ashhadu an laa-ilaaha Illalahu wa Ashhadu Anna Muhamma-dur Rasoolullah) ya ( Ashhadu an laa-ilaaha illalaahu wa Ashhadu anna Muhammadann Abduhu wa Rasooluhu) yani is baat ki gawahi dena ke Allah ke siwa koi haqeeqi ma’bood nahi aur Muhammad Sallallahu alaihi wasallam Allah k Rasool hain.

Yeh sab se pahela step hai islam mein daakhil honay ka, agar koi Islam mein daakhil hona chahta hai Islam ko qubool karna chahta hai to uske liye zaroori hai ke sab se pahele kalimah-e-shhadat ka iqraar kere k Nahi hai koi haqeeqi ma’bood siwaye Allah ke ya Allah ke siwa koi haqeeqi ma’bood (God) nahi hai aur Muhammad Sallallahu alaihi wasallam Allah ke Rasool (Messenger) hain.

To agar koi “Laa-ilaaha” kehta hai to is ka matlab yeh huwa ke tamam ma’budaan-e-batilah (False gods) ka inkaar kiya. Yani “Laa-ilaaha” mein tamam ma’budaan-e-batilah Ka inkaar hai jin ki Allah ke ilawah ibadat ki jati hai ya parastish ki jati hai aur “illalah” mein sirf aik Allah Ta’ala hi ke liye ibadat ka iqraar hai yani” Lailaha illalah” ke iqraar k baad tamam ma’budaan-e-batilah ka inkaar aur aik Allah ki ibadat ka iqraar karta hai.

#Laa-ilaah illalAllah k Shuroot
1- Aisa ilm jo jahalat k manafi ho.
2- Aisa yaqeen jo shak k manafi ho.
3- Aisa ikhlaas jo shirk k manafi ho.
4- Aisi sacha’i jo jhoot ke manafi ho.
5- Aisi muhabbat jo nafrat k manafi ho.
6- Aisi ita’at jo nafarmani k manafi ho.
7-Aisi qabuliat jo inkaar k manafi ho.
8- In saarae ma’budon ka inkaar jin ki Allah k siwa parastish ki jati hai.
Yeh woh tamam nafi hai jo” Laa-ilaaha illalaah” ke iqraar k baad lazim aata hai.
Isi tarah “Muhammad Rasoolullah” k iqraar k baad lazim aata hai k Nabi kareem sallallahu alaihi wasallam k bataye hue tareeqe par Amal paira hon aur apni zindagi ko Nabi kareem sallallahu alaihi wasallam ki sunnat k mutabiq guzaren.

“Muhammad Rasoolullah” k taqazeh
jab koi “Ashhadu anna Muhamma-dur Rasoolullah” ya” Muhammad Rasoolullah” ka iqraar karta hai to is par chand taqazhe lazim ate hain jo is tarah hai.
1-Rasoolullah sallallahu alaihi wasallam ne jin baton ki khabar di hai un mein aap ko sachcha janna.
2-Rasoolullah sallallahu alaihi wasallam ne jin baton ka hukum diya hai un mein aap ki ita’at karna.
3-Aap sallallahu alaihi wasallam ne jin kamon se roka hai un se baaz rehna.
4-Allah ki ibadat isi tareeqeh par jaise Allah aur us ke Rasool ne jaaiz thehraya (bataya) hai.
Yani khulasa yeh hai k “Laa-ilaaha illalaah Muhammad Rasoolullah” k iqraar ke baad hum azad nahi hain hum mann maani zindagi nahi guzar satke, balke hamein Allah aur us k Rasool ki bataye hue tareeqe par zindagi guzaarna hoga. Tab jaakar k hum haqeeqi ma’no mein musalman honge.

Dusra(2) Namaz Qayam karna.
Yani aik musalman k liye zaroori hai k woh namaz ki adaayegi kare aur namaz ko namaz k waqt par ada kere, aur agar koi namaz nahi padhta hai siray se to woh kaamil musalman nahi hai, kyunkay kaamil musalman hone k liye namaz ki adayegi zaroori hai.
Teesra(3) Zakaat ki adayegi karna.
Agar kisi Musalman par zakaat wajib ho to us k liye zaroori hai k woh zakaat ki adaigi kare.
Chautha(4) Ramzan-ul-mubark k Roze rakhna.
Y’ani Ramzan k mahine k roze rakhna tamam musalmanon par farz-o-zaruri hai aur aik kaamil Musalman hone ke liye zaroori hai k ramzan k roze rakhe, agar koi bila uzr shr’ie ramzan k roze tark karta hai roza nahi rakhta hai to goya k woh kaamil musalman nahi hai.
Paanchwan(5) Iste’tat ho to Baitullah (Allah k Ghar) ka Hajj karna.
Y’ani : Agar kisi ke paas maal doulat hai aur Hajj karne ki taaqat hai to chahiye ke woh Hajj kere, kiyunky us par Hajj wajib ho gaya hai, aur agar taqat hone k bawajood Hajj nahi karta hai to goya k woh kaamil Musalman nahi hai.

#Arkaan-e-Imaan
Imaan k buniyadi Arkaan chah/ 6 hain.
1-Allah par Imaan lana.
2-Allah k farishton par Imaan lana.
3-Allah ki kitabon par imaan lana.
4-Allah k Rasoolon par imaan lana.
5-Aakhirat k din par Imaan lana.
6-Achchi buri taqdeer par imaan lana.

#Allah par #Eemaan lane ka matlab Allah par Eemaan lane ka matlab yeh hai k Allah tamam jahano ka Khaaliq, Raziq Mudabbir-ul-Omoor hai, wahi Allah hai jis ne hame paida kiya hai, jo hame khilata, pilata hai, is duniya ko chalane wala aik Allah hai.

#Allah k farishton par Eemaan lane ka matlab
Allah ke farishton par Eemaan lane ka matlab yeh hai k Allah Ta’ala ne farishton ko apni ibadat ke liye paida kiya hai, Allah Ta’ala ne farishton ko noor se paida kiya hai aur farishton ki ta’daad siwae Allah k kisi ko malum nahi hai, aur farishte alag-alag kamun par mamoor hain.

Inss-o- jinn aur farrishton ki creation
Allah Ta’ala ne farishton ko noor se paida kiya hai.
*Allah Ta’ala ne innsano ko metti se paida kiya hai.
*Allah Ta’ala ne jinnaat ko aag se paida kiya hai.

Mashhoor farishton k naam
*Hazrat Jibreel alaihsalam
*Hazrat Mekayeel alaihsalam
*Hazrat Israfeel alaihsalam

#Allah Ta’ala ki kitabon par Eemaan lane ka matlab
Allah Ta’ala ki kitabon par Eemaan lane ka matlab yeh hai k Allah Ta’ala ne jitni bhi kitabein nazil kein woh sab barhaq aur sachhi kitaaben then.Aur tamam kitaboon par hamara imaan hona chahiye.

Mashhoor Aasmani kitaaben

#Tauraat Moosa alaihi salam par nazil hui.
#Zaboor Da’wood alaihi salam par nazil hui.
#Injeel Eesa alahi salam par nazil hui.
#Qura’n Majeed Muhammad Sallallahu alahi wasallam par nazil hui.
yeh chaar mashhoor kitabein hain is ke alawah kai aur bhi kitaben nazil hui hain.

#Allah k Rasoolon par Eemaan lane ka matlab
Allah k Rasoolon par Eemaan lane k matlab yeh hai k jetne bhi Rasool is duniya mein aaye sab k sab Allah k neik saaleh bande aur Rasool the sab Allah ki deen ki bulandi k liye aur Tawheed ko aam karne k liye aaye.
Am’biya k talluq se mashhoor hai k kam o beish aik laakh chaubees hazar (124000 ) anbiya karaam bheje gaye.
Qur’an Majeed main Pachhis (25) Am’biya karaam ke naam maujood hai.

Ulul A’zm #Am’biya Ibrahim alaihisalam , Nooh alaihisalam , Moosa alaihisalam, Esa alaihisalam, Muhammad Sallallahu alahi wasallam.

#Aakhirat K din par Eemaan lane ka matlab.
Aakhirat k din par Imaan lane ka matlab ye hai k aik na aik din Qayamat aayegi, duniya fana ho jayegi, sab ko Allah ki taraf lautna hoga. Maidaan-e-mahshar Qayem hoga. Sab ko Apna-Apna hisaab dena hoga Etc.

Achchi buri taqdeer par Eemaan lane ka matlab
Achchi buri taqdeer par Imaan lane ka matlab ye hai k agar hamare haqq mein koi Cheez achcha hui ya Kharab hui to bhi hamara Imaan hona chahiye K ye hamare taqdeer me likha tha. Agar, magar, Aisa, waisa, nahi kahena chahiye k agar aisa nahi karta to aisa nahi hota ye sab galat chiz hai. Balke agar hamare haqq mein kuch bhetar hua to hamara Eemaan hai k ye hamari taqdeer me likha hai is par Allah ka shukr ada karna chahiye, aur agar hamare haqq mein kuch kharab hua to bhi hamara Eemaan hai k yeh hamare taqdeer mein likha tha is par sabr karna chahiye.

Ehsaan ki tareef
Ehsaan ye hai k ham Allah ki ibadat is tarah karein k ham Allah Rabbul izzat ko dekh rahen hain (yani Khushu-o-khuzu) k saath ibadat karein, aur agar ham se yeh na ho sake ya ham yeh tasawwur na kar sakte k ham Allah Ta’ala ko dekh rahen hai to kam az kam ye tasawwur karein Allah Ta’ala hame dekh raha hai.

Aakhir me Allah Ta’ala se dua go hun k Allah Ta’ala ham sab ko deen ka sahi samjh ata farmaye aur Islam k bataye hue tareeqe par amal karne wala banaye Aameen summa Aameen ya Rabbal Aalameen

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *