اگر ایسا ہی رہا

 

اگر ایسا ہی رہا

 

عبدالعزیز تیمی گوپال گنج

 

انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ انسان کو جب بھی تکلیف پہونچتی ہے تو وہ تکلیف کسی اور کی جانب سے نہیں بلکہ اپنی ہی ہو تے ہے۔

آج امت مسلمہ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے ہر گاؤں بلکہ ہر محلہ میں مسجد بنی ہوئی ہیں مسجد بنانا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس کی حق کو ادا کر دینا یہ بڑی بات ہے۔۔۔

ایک جماعت اہل حدیث کے علماء اکرام نرمی اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے لئے اپنے مساجد کے دروازے کھول کر رکھتے ہیں ،

لیکن یہ مسلمان جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود یہ صرف اپنے ہم مسلک کے علاوہ تمام فرقوں کے مصلین کو اپنے مساجد میں نماز پڑھنے پر روک لگا دیتے ہیں اتنا ہی نہیں ان کے بعض علماء کی حالت یہ کہ حرم شریف میں جاکر بھی نماز ادا نہیں کرتے کیونکہ انکی نکاح ٹوٹ جائے گی وہاں کے امام گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نعوذباللہ ۔۔ دن کے اجالے کو بھی رات کی تاریکی بتانے والے کو ہم پاگل مجنوں نہیں تو کیا کہیں یہ آستین کے سانپ ہیں اگر انکا ابھی علاج نہیں کیا جائے تو اہل حق کو بڑی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ۔۔صرف کتابیں لکھنے اخبار و جرائد میں مقالے سے اصلاح ممکن نہیں بلکہ ہمیں بھی قریہ قریہ جانا ہوگا امیر، غریب سب تک حق کی آواز پہونچانا ہماری ذمہ داری ہے،عملی زندگی میں جب تک ہم آ گے نہیں آئیں گے اس وقت تک ہم اصلاح کا فریضہ انجام نہیں دے سکتے۔ نہ تو ہمارے پاس مساجد ہیں اور نہ ہی مدراس پورے ہندوستان میں چند گنے چنے ادارے اور مساجد جہاں تک علماء کی بات کی جائے تو اس میدان میں بھی بہت دور ہیں چند گنے چنے ہیں، آج تک میں نے کبھی یہ نہیں سنا کی کسی عالم کی نصیحت سے کوئی شخص ہدایت کے راستے کو اختیار کیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اوپر دعوت فرض نہیں؟

کیا ہمارے علماء اکرام کو ان باتوں کا علم نہیں ؟

کیا ہم حق پر ہونے کے باوجود خاموش رہیں؟

کیا ہر وقت ہمیں مصلحت ہی نظر آتی ہے ؟

یا ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اللہ ہمارے لئے عذاب نازل کرے؟

 

یقین جانئے جتنا وقت آج ہم فیس بک اور دیگر سوشل نیٹورک پر اپنی صلاحیتوں کو صرف کر رہے ہیں اتنی محنت اگر کسی عام آدمی پر کرتے تو شاید وہ ہدایت کے راستے کو اختیار کر لیتا ۔

اللہ ہم سب کو دین کی صحیح علم حاصل کرنے اور اس کو اپنے زندگی میں نافذ کرنے کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے۔ آمین

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *