اس دور میں ایسا کوئی مسیحا نہیں دیکھا

اس دور میں ایسا کوئی مسیحا نہیں دیکھا

 

شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی

 

سر زمین بہار کی مٹی کے کئے رنگ و روپ ہیں اور ہر رنگ و روپ ایک دوسرے سے نمایاں اور ممتاز ہیں کبھی اس مٹی نے ہندوستان کو بسم اللہ خاں کی شکل میں شہنائی کا بے تاج بادشاہ دیا جنہوں نے ملک کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں میں بھی جا کر اپنے دھن کا لوہا منوایا، تو کبھی اس مٹی نے خانوادہ صادق پور کی شکل میں اس ملک کو وہ نایاب ہیرے اور جانباز سپاہی عطا کئے جنہوں نے ملک کو آزادی دلانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا_____باتیں تو بہت ساری ہیں لیکن تفصیل سے قطع نظر تحریر کے حقیقی مصداق پورنیہ کے لعل، انسانیت کے سچے مسیحا، قوم وملت کے حقیقی علمبردارد،بے زبانوں کی زبان، غریب، نادار مسکین، بے کس اور لاچار ومجبور کی آواز، دکھ کی گھڑیوں میں سہارا بننے والا، محبت بانٹنے اور نفرت کے پجاریوں سے نفرت کرنے والا اور قوم کے دکھ درد کو سمجھنے والے اس شخص کی طرف لوٹتے ہیں جنہیں دنیا جناب راجیش رنجن عرف پپویادو کی نام سے جانتی اور پہچانتی ہے، واقعی ایسا سچا، اچھا، نیک، ایماندار، غمخوار اور قوم وملت کا بہی خواہ انسان صدیوں میں کوئی ایک پیدا ہوتا ہے. چھوٹی سی عمر میں کاتب سطور کا یہ تجربہ رہا ہے کہ جب بھی بہار کے کسی بھی اضلاع میں کوئی قدرتی آفات یا اس طرح کی کوئی بھی پریشانی عوام کو در پیش آتی ہے تو وہاں پپویادو اپنے تن من دھن کے ساتھ حاضر نظر آتے ہیں اور اپنی بساط بھر لوگوں کے دکھ درد کو بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں. موجودہ دنوں میں بہار کی راجدھانی پٹنہ سیلاب کی زد میں ہے جہاں زندگی تباہ ہو کر رہ گئ ہے، معصوم بھوک سے بلک رہے ہیں، مائیں اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے تڑپ رہی ہیں خلاصہ کلام یہ کہ معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئ ہے اس کے باوجود وہاں موجود سیاسی رہنما اپنے اپنے سفر پہ نکل چکے ہیں، نتیش کمار ہوائی دورہ کر ہوا ہوائ اور گول مول باتیں کر رہے ہیں، ششیل کمار مودی جنہیں این ڈی ار ایف کے جوانوں نے ریسکیو کر نکالا آج وہ بھی دربھنگہ کی سیر کر رہے ہیں وہیں چھوٹی عمر اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے تیجیسوی یادو جنہیں قوم کے کچھ لوگ ہونہار، ہوشیار اور بہار کا مستقبل کہتے ہیں وہ بھی بہنوئ کے پرچہ نامزدگی میں شرکت کے لئے ہریانہ پہونچ چکے ہیں.

قارئین!!

بات کریں دینی وملی جماعتوں کی تو وہ بھی معدود چند(السلام فاؤنڈیشن) کے علاوہ تمام کے تمام گوشہ عافیت میں راحت کی سانس لے رہے ہیں.دل میں اس وقت کئ سوال ہچکولے لے رہیں کہ آخر کہاں ہے “جمیعت علما” کہاں ہے “امارت شرعیہ” کہاں ہے “جماعت اہل حدیث” کہاں ہے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور کہاں ہے “جماعت اسلامی” کے وہ رہنما اور رہبر جو بڑی بڑی کانفرنسیں انسانیت کی حفاظت کے نام پر کرتے ہیں اور چیخ چیخ کر ان کے حقوق کی حفاظت اور خود کو قوم کا بہی خواہ بتاتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں آج ان سب کی حقیقت عیاں ہوگئ کہ یہ جماعت وجمیعت کے علمبردار قوم کے رہنما نہیں بلکہ رہزن ہیں.

قارئین!!

مصیبت کی اس گھڑی میں اگر کوئی پٹنہ والوں کے سامنے کھڑا نظر آرہا ہے تو وہ ہے پپو یادو اور ان کے کارکنان جو اپنے جسم، جاں، صحت اور مال و زر کی پرواہ کئے بغیر ان کے کھانے پینے کا سامان مہیا کرنے میں پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، خود پپو یادو گندے پانی میں کھڑے ہوکر، دروازے دروازے جا کر لوگوں کو پانی، بسکٹ اور دودھ پہونچا رہے ہیں، گھروں میں پھنسے افراد کو نکال کر محفوظ جگہ پر پہونچانے کی بھی کوشش جاری وساری ہے- قوم کا یہ سچا غمخوار قوم کی خدمت کرنے کو ہی اپنا کرم اور اپنا دھرم مانتا ہے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *