گاندھی جی کا نظریہ امن :اور ملک کی موجودہ صورت حال ۔

گاندھی جی کا نظریہ امن :اور ملک کی موجودہ صورت حال ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مانو سی ٹی ای اورنگ آباد

رابطہ :8826127531

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موہن داس کرم چند گاندھی جی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں یہ وہ شخصیت ہے جو صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے آپ گجرات کے پور بندر ضلع کے اندر ۲ اکتوبر ۱۸۶۹ میں پیدا ہوئے ۔ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے ضلع میں پیدا ہونے کے باوجود آپ نے اپنی محنت لگن اور شوق و جذبے کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب ہوئے اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ لوگوں نے آپ کو باپو ،مہاتما اور گاندھی جیسے عظیم القاب سے نوازا جو کہیں نہ کہیں آپ کے اخلاق حسنہ اور اچھی کارکردگی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔2 اکتوبر 2019ءکو ملک بھر میں گاندھی جی کے 151 ویں یوم پیدائش کو بڑے ہی زور و شور کے ساتھ منایاجائے گا اور ہندوستان کے ہر اسکول و کالج اور یونیورسیٹوں کے اندر گاندھی جی کے افکار ونظریات کی یاد دہانی کی جائے گی ۔بڑے بڑے اسکالر گاندھی جی کے اچھے کاموں اور اچھی سوچ پر اپنے جذبات کا اظہار کریں گے ۔اس مناسبت سے مالے اور پھول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ ہندوستان کے کونے کونے میں گاندھی جی کے لاکھوں پتلے کو مالا پہنایاجائے گا بہت سارے اسکولوں اور کالجوں میں گاندھی جی کے اوپر مکالمے اور ڈرامے پیش کرکے ان کے افکار و نظریات کو دیکھا کر ہندوستانی سماج کو ایک مثبت اور مؤثر پیغام دینے کی کوشش کی جائے گی ان کے نظریہ امن کو لوگ سر آنکھوں پر رکھیں گے ۔ان کے اقوال و نظریات اور عادت و اطوار کو بیان کیا جائے گا اور موجودہ ہندوستان کی ناکام صورت حال کی تصویر اس میں دیکھنے کی کوشش کی جائے گی ہر نیتا اور لیڈر گرچہ وہ گاندھی جی کے راستے پر نہ چلتا ہو لیکن پھر بھی ان کے لئے اپنی الفت اور محبت کا دروازہ کھول دے گا لوگوں کے سامنے جھوٹا چہرہ لے آئے گا اور لمبے لمبے نمک مرچ لگے ہوئے جملے ان کی شخصیت کے متعلق انڈیل دیگا تاکہ ووٹ کی مناسبت سے اپنی سیاسی زندگی کو مزید چٹپٹا بنایا جا سکے. مگر افسوس کہ یہ لوگ بولتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور .

 

چنانچہ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم

گاندھی جی کے اس یوم پیدائش کی مناسبت سے گاندھی جی اور ان کی اچھی اچھی باتوں کوتو یاد کرتے ہیں لیکن پھر ہمارے اندر وہی بے ڈھنگی آجاتی ہے جو پہلے تھی اس لئے اس مناسبت سے ہم تمام ہندوستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ رسمی طور پر مہاتما گاندھی جی کے یوم پیدائش کو نہ منائے بلکہ ہمیں اور آپ کو چاہئے کہ حقیقی طور پر ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں چوری ،ڈکیتی ،زناکاری چھیر خوانی ،شراب نوشی ،عیش پرستی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سرزمین کو گندی سیاست سے پاک کریں ۔کیونکہ پوری دنیا میں ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو اپنے سیکولر افکار و نظریات یا پھر سب کا ساتھ سب کا وکاس والا ملک کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے کیونکہ یہاں ہندو ،مسلم ، سکھ اور عیسائی آپس میں مل جل کر رہتے ہیں ایک دوسرے کے خوشی و غم میں شریک ہوتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ کچھ سیاسی لوگوں نے اپنی مفاد کی خاطر گاندھی جی کی اس سرزمین کو ناپاک کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ہندو مسلم اور مندر و مسجد اور گائے و بیل کی سیاست کررہے ہیں ان کے لسان و زبان سے نکلنے والا جملہ نہایت ہی زہریلا ہوا کرتا ہے وہ ۸۰ فیصد ہندوؤں کو مسلمانوں سے ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے ابھی ایسا ایسا نہیں کیا تو پھر تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا ۔چنانچہ اس قسم کے غلط جملے بازی اور ذہن سازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنگا اور فتنہ و فساد باپو کی سرزمین کا مقدر بن گئی جس باپو نے نرمی و شانتی اور پیار و محبت کا درس دیا تھا آج انہیں کی سرزمین پر ایک جانور کے لئے یا پھر شک کی بنیاد پر ایک انسان کو ناحق قتل کردیا جاتا ہے انہیں پیٹا اور گھسیٹا جاتا ہے لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک کئے جاتے ہیں غرض یہ کہ کچھ لوگ اپنی ذاتی مفاد کے لئے باپو کے روح کو تکلیف پہنچا رہے ہیں اور ہندوستانی سرزمین پر ظلم و ستم کا مظاہرہ کررہے ہیں اس لئے آج ہم باپو کی یوم پیدائش کی مناسبت سے تمام ہندوستانیوں سے کہنا چاہونگا کہ اگر انہیں حقیقی طور پر مہاتما گاندھی جی سے الفت ومحبت اور چاہت ہے تو پھر وہ آج ہی توبہ کریں اپنے کٹرپنتھی اور دیکھاواپن کو چھوڑ دے اور باپو کے راستے کو اپنالے سچ کا ساتھ دے عدل و انصاف کا حامی و مددگار بنے عیار و مکار اور فریبکار کا جم کر کلاس لے ۔نرمی و شانتی کو ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچائے تب جاکر ۲ اکتوبر کو گاندھی جی کو یاد کرنا ہمارا مفید اور کار آمد ثابت ہو گا کیونکہ ایسا کرنے میں ہندوستان کی خوشحالی اور ترقی کا راز مضمر ہے یہی میرا پیغام ہے تمام ہندوستانیوں سے اس 151 ویں یوم پیدائش آف مہاتما گاندھی جی کی مناسبت سے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہندوستانیوں نے اسے اپناکر اپنے قلب و جگر میں جگہ دیا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستانی فضا سے امن و امان کی خوشبو آئے گی اور ہر شخص ایک دوسرے کا حامی و مددگار ہوگا ۔اگر ہم ایسا کریں گے تو باپو کے روح کو بھی شانتی ملے گی ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مانو سی ٹی ای اورنگ آباد

رابطہ :8826127531

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *