گاندھی جی کا نظریۂ امن: اور ملک کی موجودہ صورتحال

گاندھی جی کا نظریۂ امن: اور ملک کی موجودہ صورتحال

 

عبید نظام (گروپ ایڈیٹر اڑان نیوز)

 

آج جب امن و شانتی اور اہنسا کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے لوگوں کے ذہن و دماغ میں ایک نام انمٹ نقوش کی طرح ابھر کر سامنے آتا ہے وہ آزادی ہند کے معمار اور سپہ سالار مہاتما گاندھی جی کا ہے۔جنہوں نے مرتے دم تک امن وشانتی کے پرچم کو اپنے سینے سے لگائے رکھا اوراسی نظریہ امن نے سماج کے ایک حصہ کو ان کا دشمن بنا دیا اور جس کی قیمت ان کو جان دے کر چکانی پڑی اور ملک ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کے ساتھ ہی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو گیا جس سے آزاد ہونا کبھی ممکن نہیں رہا ۔

 

اب جو ملک کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ گاندھی جی کے اس ملک میں امن کا تصور کرنا سراب سے سیرابی کے مانند ہے کیوں کہ امن کا جنازہ گاندھی جی کے قتل سے ہی نکل گیا تھا۔بے شمار فرقہ وارانہ فسادات ہوئے لاکھوں جانیں تلف ہوئیں کروڑوں کی مالیت تباہ وبرباد ہوگئیں۔جو ہاتھ ملک کی آزادی کے لیئے ایک ساتھ اتحاد کاثبوت پیش کرتے ہوئے انگریزوں کے خلاف اٹھا تھا وہی آج ایک دوسرے کے خلاف امن و آشتی اوراتحاد ویگا نگت کاقتل کرنے کے لیئے اٹھ رہا ہے ۔

 

پہلے جب ملک کے اندر کوئی حادثہ ہوتا تھا تو دل ایک بات سے پر سکون اور مطمئن رہتا تھا کہ قانون اور قائدین ان مسائل کو بہتر طریقہ سے حل کر کے معاملے کوسلجھا دیں گے اور ملک کی فضا کو مسموم ہونے سے بچا دیں گے، لیکن آج معاملہ اس کے بر عکس ہے قانون نے عدل وانصاف کا گلا گھونٹ دیا ہے، عوام تماشائی اور مفاد پرست بن چکی ہے، رہنماؤں نے اسے اپنا سیاسی منشور بنا رکھا ہے۔

 

ملک میں ابھی جو سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ ہے وہ ہے مذہبی بقاء اکثریتی طبقہ کے لوگ جن کی ملک کی آبادی پر اسی فیصد کی حصہ داری ہے ان کودشمن عناصر ڈراتی ہے کہ اگرتم اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے تو یہ ملک کی اقلیت بالخصوص مسلمان تم پر ظلم کریں گے تمہاری وجود کو ختم کر دیں گے جو کہ عقل سے پرے بات لگتی ہے۔جب کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے آج جگہ جگہ مسلم سماج کے لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنیا جا رہا ہے اور بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جا رہا ہے۔

 

 

آج اگر باشندگان ہند اپنے آپ کو گاندھی جی کا سچا آئیڈیل مانتےہیں ۔ تو آزادی سے پہلے والی فضا کو ایک بار پھر سے قائم کریں نفرت وعداوت کا خاتمہ کریں یہی گاندھی جی سے عقیدت و محبت کاصحیح خراجِ عقیدت ہوگا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *