اساتذہ : ہمارے لئے انمول تحفہ

 

 

اساتذہ : ہمارے لئے انمول تحفہ

 

تحریر شاکر سیف بن جمعہ دین

رابطہ نمبر: 917643071718+

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زندگی کے مراحل میں بچپنہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور حسین مرحلہ ہوتا ہے ۔ بچہ اس میں اپنی معصومانہ شرارتوں اور متواتر سوالوں کے سبب سبھوں کا دلارا ہوتا بے ۔ ہم عمر یاروں کی یاری اور کھیلنے کو کھلونےاس کا مکمل سرمایا ہوتا ہے ۔ آپس میں بات بات پہ جھگڑنا پھر منٹوں میں ساتھ کھیلنا اور سادگی سے سچ بولنا۔۔۔یہ مناظر بہت ہی پر لطف و خوشنما ہوتے ہیں ۔

لیکن اس معصوم سی جان کو مستقبل کا خواب بنانا اور اس کے مستقبل کے لیے فکر مند رہنا امر فطری ہوا کرتا ہے،حوادث زمانہ کے رخ کو موڑنا اور ہر ضرر رساں سے اس کو محفوظ رکھنا بڑا ہی مشکل عمل ہوتا ہے،-

اپنے خوابوں کی تکمیل کے واسطے والدین اپنے بچوں کا داخلہ مدارس میں کرا دیتے ہیں اس سادہ زندگی کے فورا بعد اس کے سامنے ہاسٹل کی زندگی ہوتی ہے ۔ وہ بچہ جو کبھی گھر چھوڑ کر کہیں نہیں رہے ہوتا ہے اس پہ ہاسٹل کی زندگی گراں گزرتی ہے ۔ اس کے سامنے ایک مشکل گھڑی ہوتی ہے ۔ ضروریات تو والدین کی طرف سے پورا ہوجاتے ہیں مگر والدین کی شفقت و محبت اور لاڈ پیار سے پھر بھی محروم رہتا ہے۔ یادوں اور باتوں کے سہارے مستقبل کے خواب کی تکمیل میں لگا ریتا ہے بسا اوقات حالات آنسو بہانے ہر مجبور کر دیتی ہیں،

 

بلا شبہ ان حالات میں اساتذہ ہی والدین کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہیں- اس کے غموں کو پڑھتے ہیں ۔ اس کے حوصلے بلند کرتے ہیں ۔ والدین سے بڑھ کر پیار دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کو ایک کامیاب شخص کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اپنی نصیحتوں کے ذریعے ہر طرح کے فتنہ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ موجودہ حالات سے باخبر کراتے ہیں ۔ اسلاف کے تذکرہ کو چھیڑ کر ان کے نقش قدم پر چلانا چاہتے ہیں بلکہ ہمارے اندر ہر طرح کے خوبیوں کو داخل کرکے ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پھر رفتہ رفتہ ہمارے اور ان کے درمیان کبھی بھی نہ ختم ہونے والا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ہماری کامیابی سے ان کو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ والدین ہم کو دنیا میں لانے کا سبب تو بنتے ہیں مگر ہمارے یہ اساتذہ ہم کو آسمان کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں ۔ ہمارے اندر ایک بہترین شعور پیدا کرتے ہیں جس سے ہم دوسروں میں ممتاز ہوتے ہیں ۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہیں کہ اپنے اندر کی اچھائیوں کو ہمارے اندر نقش کریں، ہمارے علمی استواء کو پروان چڑھائیں ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ہماری کامیابی کے ذریعہ اپنے لئے دنیا میں ایک بہترین استاذی کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس خدمت کو اپنے لئے زاد آخرت کا ذریعہ تصور کرتے ہیں ۔ ہمیں ہدیہ کی شکل میں وہ علمی خزانہ عطا کرتے ہیں جس کو اختیار کرنے کے بعد دنیا کی ہر قیمتی سے قیمتی شیئ پھیکی معلوم ہوتی ہے ۔ اور اس کے بعد ایک طالب علم کامیابی کے ہر دروازے کو بآسانی کھولتا چلا جاتا ہے ۔ اساتذہ کی ذات اپنے آپ میں منفرد ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کو خود سے بھی زیادہ قابل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ رفعت و بلندی کے اس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سے تنزلی ناممکن ہو ۔ان کو ہماری ذات سے ایک باپ سے بڑھ کر ہمدردی رہتی ہیں۔ وہ ہماری غلطی پہ نشاندہی کرتےہیں اور ایسا ہماری بھلائی کے لئے ہی کرتے ہیں۔ وہ ہم کو مارتے، ڈانٹتے اور نصیحت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کی کمی دور ہوجائے، مستقبل میں بدنامی سے بچیں، ہم اپنے آپ میں ایک مثالی بن کر افق عالم پر چھا جائیں۔ وہ ہماری دوستی کے لئے (کتاب کی شکل میں ) ایک ایسی شئی کا انتخاب عمل میں لاتے ہیں جس میں سوائے فائدے کے کبھی نقصان نہیں ہوتا۔ وہ اپنے طلباء کو علمی کتاب کے مطالعے کی طرف اکساتے ہیں ۔ اگر طالب ان کے طرف ایک قدم بڑھائے تو وہ اس کی طرف دو قدم بڑھاتے ہیں ۔ اپنی زندگی کے تجربات سے نوازتے رہتے ہیں اور قدم قدم پہ مفید مشوروں سے ہمارے زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ اس جیسی ڈھیر ساری خوبیاں ہیں مگر حق تو یہ ہے کہ ہم ان کا شکریہ جتنا بھی ادا کریں ان کے احسانات کا ذرا بھی حق ادا نہیں کرسکتے ۔

قارئین کرام! یہ وہ حقائق ہیں جو مسلم ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ آج اساتذہ کرام کے اندر بھی وہ خوبی نہیں رہ گئی جسکو سابقہ سطور میں بیان کیا گیا ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا فریضہ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *