چل دیکھ بھال کر کہ زمانہ خراب ہے

چل دیکھ بھال کر کہ زمانہ خراب ہے

الحمدلله رب العالمين حمدًا كثيرًا طيبًا مُباركًا على كل حال

اللهم صل وسلم على نبينا محمد وعلى آله   وصحبه أجمعين تسليما كثيرا  كثيرا إلى يوم الدين

اتنا نہ بن سنور کہ زمانہ خراب ہے                               میلی نظر سے ڈر کہ زمانہ خراب ہے                            پھسلن قدم قدم پہ ہے بازار شوق میں                      چل   دیکھ بھال کر کہ زمانہ خراب ہے

عزیز قارئین عصر حاضر میں ہند کے مسلمانوں کے حالات ہر خاص و عام پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔۔۔ ہر محاذ پر بڑے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو ان سے جڑی تنظیموں کو، درسگاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حد تو تب ہوگئی جب اعلانیہ طور پر غیروں نے اپنے لڑکوں کو یہ حکم دیا کہ مسلم بچیوں کو اپنی جھوٹی محبت کا شکار بناؤ اور اسی بہانے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرو۔۔۔ اور ہماری مسلم بچیاں ان کے دھوکے میں  آسانی سے آجاتی ہیں کیونکہ وہ لڑکے انکے ساتھ اسکول کالج یا ٹیوشن میں پڑھنے والے ہی ہوتے ہیں اور اسکی اصل وجہ یہی ہے۔

ہمارے یہاں اکثر اسکول کالج غیر مسلم کے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کے ان اسکولوں اور کالجوں میں مختلف مذاہب کے بچے پڑھتے ہیں اور وہاں لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ساتھ تعلیم دی جاتی ہے اور ان اسکولوں میں غیر مسلم بچوں کا غلبہ ہوتا ہے اور ان اسکولوں میں اکثر غیر اسلامی سرگرمیاں  ہوتی ہیں اسی وجہ سے ہمارے بچے بچیاں ان سب سے متاثر ہوتے ہیں اور غیر مسلموں کے طور طریقے کو اپنانے لگتے ہیں اور ان کا پہناوا چلنا پھرنا زندگی گزارنے کا طور طریقہ غیر اسلامی ہو جاتا ہے اور یہ غیر اسلامی طور طریقہ دھیرے دھیرے ہمارے بچوں کے دل و دماغ میں پروان چڑھتا ہے۔

بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ غیر مسلم بچے ہمارے بچوں کے اخلاق و ادب ۱ور تہذیب سے متاثر ہوں اور مذہب اسلام کے بارے میں مثبت خیال رکھیں اور انکا دل مذہب اسلام کی طرف راغب ہو۔

اور بعض والدین کہتے ہیں کے ابھی تو بچے ہیں ابھی انکی عمر ہی  کیا ہے اور ان کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کن طور طریقوں کواپنا رہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا اور جب تک وہ اس مسئلے سے واقف ہوتے ہیں تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

اور اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں دینی ماحول نہیں ہے اور ہم دن رات غیر شرعی کاموں میں ملوث رہتے ہیں اور ناچنے گانے والوں کو اپنا رول ماڈل بنالیے ہیں اور ان کاموں میں ملوث ہونے کی وجہ ٹیلیویژن اور موبائل فون ہے اور خاص کر موجودہ زمانے کی تازہ ترین وبال ٹک ٹاک اور رییل ہے اور در حقیقت ان سب نے ہمارے معاشرے کو تباہ و برباد کر دیا ہے

ہم اپنے بچوں کی دینی تعلیم بس ایک رسم کی طرح ادا کر دیتے ہیں جبکہ ہم انکی دنیاوی تعلیم کے لیے اپنے گھر بار کو گروی رکھ دیتے ہیں

میں یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ دنیاوی تعلیم سے بچوں کو دور رکھا جائے کیونکہ موجودہ حالات میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کی اشد ضرورت ہے

 

بلکہ ہم جس طرح اپنے بچوں کے لیے دنیاوی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں اسی طرح ان کے لیے دینی تعلیم کا بھی اہتمام کرنا چاہیے

جس طرح ہم اپنے بچوں سے اکثر دنیاوی تعلیم کی خبر لیتے ہیں کہ وہ کیا پڑھ رہےہیں انکے اسکول کا تعلیمی نظام کیا ہے وہ کون سے مضمون میں کمزور ہیں ان کو کن چیزوں کی ضرورت ہے

اسی طرح ہمیں ان سے دینی تعلیم کے بارے میں بھی خبر لینی چاہیے کہ وہ اس کو سمجھ کر پڑھ رہے ہیں یا نہیں اور اگر سمجھ رہے ہیں تو وہ اس پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں گاہے بگاہے ان سے اس کے متعلق سوال کرتے رہنا چاہیے

اور یہ اس وقت ہوگا جب والدین خود با عمل ہونگے کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں اور بچوں کی تربیت چھوٹے میں ہی کی جاتی ہے کیونکہ پودے کو شروعات میں ہم جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں  لیکن پودے کے بڑے ہو جانے کے بعد اگر ہم اس کو موڑنے کی کوشش کریں گے تو وہ ٹوٹ جائے گا۔ اور ٹھیک ہمارا معاشرہ اسی مثال کی نقاشی کر رہا ہے کہ بچوں کے بڑے ہو جانے کے بعد والدین جب ان کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ والدین کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں اور والدین سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور اس وقت ان کے لیے والدین کی باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں

بہر کیف ہمیں اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت پوری نگرانی کے ساتھ کرنی چاہیے اور انکے ہر فعل پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں کن سے مل رہے ہیں کن کو اپنا دوست بنا رہے ہیں اور زندگی کے ہر موڑ پر انکی رہنمائی اور اصلاح کرنی چاہیے اور انکو اسلامی ماحول میں اس قدر ڈھال دیں کہ وہ نازک سے نازک حالات میں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کر سکیں اور ایمان پر ثابت قدم رہ سکیں

 

●وَٱللَّهُ يَهْدِىْ مَنْ يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ●

♧مخلصكم : محمد حسين اقبال فیضی ثقافی

متعلم جامعة مركز الثقافة السنية الإسلامية كيرالا الهند

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *