درد اور ہمدرد

درد اور ہمدرد

 

دردہوتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے درد سے بے قراری پیدا ہوتی ہے دردکاروگ فطری بھی ہوتا ہے بسا اوقات انسان دردکاروگ پالنے میں فخر محسوس کرتاہے اور دنیا وجہاں بتاتا پھرتا ہے کہ بڑا مظلوم اور دکھیاری انسان ہے مطلب یہ کہ ہر درد درد نہیں ہوتا کبھی کبھار ذاتی مفاد اور ترجیحات کی غیر تکمیلی کیفیت کو درد کانام دیا جاتا ہے یہ خود پسندی اور جبر و اکراہ کا اسٹیج ہے یہاں انسان ہر ناحیے سے لائقِ مذمت ہوتا ہے خودپسندی کااور ذاتی مفاد کا رسیا اس کی تکمیل کی ہر ممکن کوششیں کر ڈالتا ہے جب ساری کوششیں رائیگاں نظر آنے لگتی ہیں تو رونے بلکنے چیخنے چلانے لگتا ہے اوربلا وجہ لوگوں کو مطعون کرنا شروع کر دیتا ہےاسی لئے آج جتنے بھی خود پرست انسان ہیں سب اسی کا شکار ہیں یا ہوجاتے ہیں جتنی بھی تخریبی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں اس کا سب سے سہل طریقہ یہی ہے کہ اسے درد سے تعبیر کیا جائے درد کو ہرانسان اپنے ظرف اور دلی قوت کے بقدر برداشت کرتا ہے اسی لئے اپنا درد دوسروں کے مقابلے چھوٹا نظر آتا ہے اور اپنے درد کوبڑھاوا دینے اور دوسروں کی تکالیف کو صفر یا کم از کم معمولی اور حقیر بنانے کی کوشش کرتا ہے ہر ایک کا اپنا درد ہوتا ہے اور درد کو جھیل جانا اس کےمستطیع ہونے پر دلالت کرتا ہے درد کا تعلق محسوسات سے بہت گہرا ہوتا ہے حسیاتی مریض معمولی درد کو بھی رائی کا پہاڑ بنادیتا ہے درد باہمی مقابلہ کی چیز نہیں بلکہ درد کا اختتام باہمی تعاون اور الفت و محبت پر مبنی ہے خیر جو بھی ہو درد کی ترجمانی دنیاکامشکل ترین کام ہے درد انسان کو توڑ دیتا ہے اور دوسرے کو مضمحل کر دیتا ہے درد سے دل زخمی ہوجاتا ہے زبانیں سکوت اختیار کر لیتی ہیں اعصاب اپنا دسترس کھودیتے ہیں درد کا اثر براہ راست سارے افراد اور امور پر ہوتا ہے جب درد اٹھتا ہےتو آباد شہر بھی ویران معلوم ہوتا ہے اور شادابی کربلائی میدان درد میں اپنے پرایے لگتے ہیں بے بسی زندگی کا مزہ لوٹ لیتی ہے درد ایک بحر بیکراں کا نام ہے درد میں جب توفان اٹھتا ہے تو اچھے اچھے ہمت ہار جاتے ہیں آنکھیں دریا بہانے لگتی ہیں مگر کثرت درد آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے درد ہی کرنے کرانے مرنے مارتے پر آمادہ کرتا ہے درد میں انسان خود کو بھول جاتا ہے درد میں انسانی نظریہ بھی تبدیل ہونے لگتا ہے ہر شئے اسے الٹی نظر آنے لگتی ہے دردمیں انسان اتنا خودسر ہوجاتا ہے کہ دوسروں کا جینا محال کر دیتا ہے درد کو جاننے کے لئے حساسیت کا ہونا ضروری ہے ورنہ درد کا قصہ تو اہل درد ہی جانتے ہیں درد انسان کو ایک دوسرے سے برگشتہ بھی کرتا ہے درد مانو زندگی میں زہر گھول دیتا ہے ہر شی زہریلی ہر فرد زہریلا یہاں تک کہ مزاج اور زبان بھی زہریلی ہوجاتی ہے درد میں انسان جب بھی بولتا ہے آگ ہی اگلتا ہے مگر درد کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اس کے لئے اسے الفاظ و بیاں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے درد لاکھ چھپائے نہیں چھپتا جب درد اٹھتا ہے تو سہارے کی ضرورت پیش آتی ہے درد خون کے آنسو بھی رلاتے ہیں درد کازخم بہت گہرا ہوتا ہے زخم بھر جاتا ہے مگر درد دیر تک بسیرا جمائے رہتا ہے کبھی درد بھی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوجاتا ہے مگر اس کے اثرات تادیر قائم رہتے ہیں ایسی صورت میں نقاہت درد کا نمائندہ ہوتی ہے درد چہرے کی بشاشت اور رونق چھین لیتا ہے درد اپنوں سے دوری کا سبب بنتا ہے درد دنیا کا سب سے بڑا خسارے کا سودا ہے درد اٹھتا ہے تو جان و مال عزت و آبرو شان و شوکت فضائل و مناقب سب لے ڈوبتا ہے درد درد نہاں ہوتا ہے درد سامان عبرت بھی ہے اور نقوش راہ بھی درد تحمل مزاجی سکھاتا ہے اور انسانیت کا درس بھی دیتا ہے درد بتاتا ہے سب کا درد یکساں ہوتا ہے درد ایک فتنہ ہے جہاں زبان کی بولی انسان کو بھاری پڑنے لگتی ہے منجمد انسان بھی درد خود کی خاطر سرگرم نظر آتا ہے اچھے بھلے افراد اپنا اپنا راستہ ناپ لیتے ہیں کچھ بے حسی کی چادر تانے ڈھٹائی اور بے دردی سموئے ہوے تماشائی بنے ہوتے ہیں درد اپنوں غیروں کی تفریق بھی کرتا ہے درد میں اقرب الی النفس انسان بھی پیچھا چھڑاتا ہے درد ہمدرد بناتا بھی ہے اور جعلی قسم کے تھرڈکلاس ہمدردوں کی کھٹیا کھڑی کرتا ہے درد کے وقت ملا ٹائپ لوگوں کو کم نصیحت کرنی چاہئے درد جب شدت اختیار کرتا ہے شخصیت اور مقام نہیں دیکھتا درد کبھی کبھار بے حسی کی چادر کو چاک کر دیتا ہے درد بزرگوں کی جعلی بزرگی کی مٹی پلید کرتا ہے درد مواسات اور غم خوار کا طلب گار ہوتا ہے درد کو ہمدرد محسوس ہی کر لیتا ہے ااس وقت اظہار واخفاء کی ضرورت نہیں ہوتی مسافتیں اپنا دامن سکوڑ لیتی ہیں حقیقی ہمدرد بھی درد میں گرفتار نظر آتا ہے حقیقی ہمدرد درد سے نجات دلانے کی خاطر کچھ بھی کر بیٹھتا ہے حسب نسب تعلق دوری عوائق و عوارض سب کو پھاند جاتا ہے اسے اہل درد کا تڑپنا دیکھا ہی نہیں جاتا ہے آہ و کراہ اسے کھائے جاتی ہے حقیقی ہمدرد درد کے وقت موت کا انتظار نہی کرتا ہے بلکہ فوری تدبیر کرتا ہے وہ لوگ چیل کوے کی مانند ہوتے ہیں جو درد کے وقت لاوارث چھوڑ دیتے ہیں یا کسی غیبی امداد کے منتظر رہتے ہیں یہ وہ سیار ہوتے ہیں جو درد کے وقت طرح طرح کی آوازیں نکالیں گے اور خود بھی دوسروں سے تشجیع حاصل کریں گے حالانکہ مطمح نظر انکی اپنی ذات اپنے لوگ اور اپنے مصارف و امور ہوتے ہیں .انسان بڑا عجیب مزاج واقع ہوا ہے دوسرے کا درد بانٹنا ہی نہیں چاہتا بعض تو اتنے کم ظرف ہیں اپنے درد کو بھی برائویسی اور سکورٹی سے نوازتے نہیں تھکتے اور ہمدرد کو تسلی دیتے پھرتے ہیں تاآنکہ دوران ہمدردی کوئی راز فاش نہ ہو جائے ایسا انسان درحقیقت فطری جاجوس واقع ہوتا ہے دوران درد چھوڑ جاتے والے وہ کتے ہیں جن کو فقط ہڈیوں سے مطلب ہوتا ہے سب کچھ ہونے ہوانے کے بعد تعزیتی جلسہ کرتے ہیں اور ہمدردی کا بازارگرم کرتے ہیں اور خیر خواہی کا ولیمہ کھاتے ہیں اوراہل درد کے ساتھ شب زفاف مناتے ہیں یہ ارذل قسم کے لوگ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے یہ وہ اجگر ہوتے ہیں جو انسان کو صحیح سلامت نگل جاتے ہیں اور کسی کو کانو کان خبر نہیں ہوتی یہ وہ بدترین مجموعہ خلائق ہوتے ہیں جن کی دھمک سے زمین لرزہ براندام ہوتی ہے آسمان کے بادل اپنا راستہ لے لیتے ہیں راستہ میں کتے دیکھ کر بھونکتے ہیں اور اپنی زبان میں منھ بھر بھر کے گالیاں دیتے ہیں اور سانپ بھی انکے زہریلے پن پر اش اش کرتا ہے دنیا کی خاردار وادیاں ان سے پناہ مانگتی ہیں ان کی خباثت انکی زبان و بیان بتلاتی ہےان کے وجود میں سراپا زہر ہستا ہے جسے چھو لیں وہ بھی زہریلا ہوجائے انکا زہر میٹھا ہوتا ہے پینے میں دقت کم مگر جب سرایت کرتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے خیر درد ایک انعام ہے احسان ہے درد تلخی ایام کا نام ہے درد سراپا دردہوتا ہے مگر اپنے پیچھے بہت ساری بھلائیاں چھوڑ جاتا ہے درد انسانی خوشی اور خورشید کو درشاتا ہے درد طمانینت اور سکون کا سہی مفہوم طیے کرتا ہے درد فارغ البالی بے فکری صحت و عافیت کی عظمت کو چار چاند لگاتا ہے درد اپنے دامن میں بہت سی بھلائیاں لئے پھرتا ہے درد جہاں نشان عبرت ہے وہیں نقوش راہ بھی ہے درد انسانی ہمدردی کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کا پرچار کرتا ہے دردباہمی الفت و محبت کے بیج بوتا ہے درد انسانی جان کی قدرد و قیمت بتلاتا ہے درد ایک دایمی خوف کا نام ہے جس سے سب کو ڈرنا چاہئے درد محبت کا مارا ہے اسے محبت سے ختم کیجئے درد نفرت کی بھرپور مذمت کرتا ہے درد رقت قلب کو فروغ دیتا ہے اور پتھر دل وحشی انسان کو بھی مفید اور کار آمد بناتا ہےدرد قربت کا نام ہے اتحاد کا عنصر ہے درد ایک معبودی جزبے کا نام ہے جو جن و انس سب کے اندر موجزن ہے درد تفریق کا قائل نہیں اورہمیں بھی یہی درس دیتا ہے درد حسیاتی انجماد کو ختم کرتا ہے اور ہمہ وقت سرگرم رہنے کی تلقین کرتا ہے درد بیدار مغزی کا نام بے مغز کھوپڑی کے پاگل گلی کے کتوں کا کوئی سروکار نہیں نہ ان کی ضرورت ہے درد باہمی رواداری کا نام ہے درد جس سے جو چاہے جب چاہے جہاں چاہے جیسے چاہے سب کروا لیتا ہے درد آگے بڑھنے کی تعلیم دیتا ہے درد اجتہاد کا پیغام دیتا ہے ہدرد یہ بتاتا ہے کہ ہم دوسروں کے لئے سر درد بن کر نہ رہیں درد آزادی کا نام ہے درد امید کی کرن ہے وہ سراب ہے جس کے بعد میٹھا پانی ہے درد بے ثمر نہیں ہوتا درد اور کیا کیا ہے یہ اہل درد اور ہمدر جانتے ہیں آج کئی غموں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا سلمان کے آنسو بہن کی بے بسی ماں کا تڑپنا باپ کی جفاکشی گھر والوں کا اضطراب اور گنہگار کا قلم اور ذاتی مسائل اللہ سب کے ساتھ بہتر معاملہ کرے اور صبر و ثبات عطا کرے آمین

محمد افضل فراز

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *