توحید وسنت کے سچے علمبردار :شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کا عقیدہ

توحید وسنت کے سچے علمبردار :شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کا عقیدہ

آصف تنویر تیمی
شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی شخصیت اور ان کی خدمات محتاج تعارف نہیں۔ توحید کی نشر واشاعت اور شرک وبدعت کی تردید کی خاطر انہوں نے جو کوششیں کی ہیں ان سے پوری اسلامی اور غیر اسلامی دنیا بخوبی واقف ہے۔ آپ کی دعوتی جہود میں اللہ تعالی نے غیر معمولی برکت دی۔ آپ کی دعوت سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور گمراہی کے راستے کو ترک کرکے کتاب وسنت کے راستے کو اختیار کیا۔ اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ جس زمانے میں بھی اللہ والوں نے اصلاح وسدھار کی کوششیں کیں چند لوگوں نے ان کی مخالفت کیں۔ ان کی آواز کو دبانے کی مذموم حرکت دی۔ اپنے مفاد کی خاطر ایسے کتاب وسنت کے دیوانوں کے خلاف اول فول بکے۔ سازشیں کیں۔ امراء اور سلاطین سے مل کر ان کے خلاف وارنٹ جاری کرائے۔ ان کی شخصیت اور ان کی دعوت کو بدنام کرنے کے لئے اوچھے قسم کے ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ ایسے ہی مظلوم مبلغین اور مصلحین میں سے شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ بھی تھے۔برصغیر کے بھی بہت سارے لوگ ان کی دعوت اور شخصیت کے تعلق سے دھوکے میں رہے ہیں۔ان کے تعلق سے جانبدارانہ رویہ اختیار کرتے رہے۔حقیقت بیانی کو ترک کرکے افواہ پر اعتماد او ربھروسہ کرتے رہے۔ چنانچہ میں نے مناسب سمجھا کہ شیخ رحمہ اللہ کی دعوت اور ان کے عقیدے سے متعلق اپنے مسلمان بھائیوں کو کچھ مفید معلومات فراہم کرائی جائیں تاکہ ان کی غلط فہمی دور ہو اور مسلکی تعصب سے بالاتر ہوکر ہر محب کتاب وسنت کی کاوشوں کو سراہنے کا جذبہ اور ہنر ان کے اندر پیدا ہوسکے۔
شیخ رحمہ اللہ کے عقیدے کا اندازہ آپ کے اس خط سے ہوتا ہے جو آپ نے شہر قصیم والوں کے جواب میں تحریر کیا تھا اس خط کے بعض اقتباسات کا اردو ترجمہ ذیل کے سطور میں نقل کیا جاتا ہے:
’’میں اللہ تعالیٰ کو، اپنے پاس موجود فرشتوں کو اور آپ لوگوں کو گواہ بنا کر عرض کرتا ہوں کہ میرا وہی عقیدہ ہے جو فرقہ ناجیہ یعنی اہل السنت والجماعت کا ہے۔ یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر اور بھلی بری تقدیر پر ایمان۔ ایمان باللہ میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنی جو صفات بیان کی ہیں ان پر بغیر تحریف وتعطیل کے ایمان رکھا جائے۔ بلکہ میرا تو یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کی نفی نہیںکرتا جس سے اس نے اپنے آپ کو متصف فرمایا ہے، اور کلمات کو ان کی جگہوں سے محرف نہیں کرتا، نہ اللہ کے ناموں اور اس کی آیتوں میں الحاد سے کام لیتا ہوں، نہ ان کی کیفیت بیان کرتا ہوں، نہ اللہ کی صفتوں کو اس کی مخلوق کی صفتوں کے مثل مانتا ہوں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی ہم نام ہے، نہ ہمسر ہے، نہ کوئی اس کا مد مقابل ہے۔اور اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق پر قیاس نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو اور اپنے غیر کو خوب جانتا ہے، وہ سچے قول والا اور اچھی بات والا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے آپ کو ان چیزوں سے پاک وصاف قرار دیا ہے جن چیزوں سے کیفیت بیان کرنے والے اور تشبیہ دینے والے مخالفین نے اس کو متصف ٹھہرایا ہے، اور ان چیزوں سے بھی اپنے آپ کو پاک وصاف قرار دیا ہے جن کی، نفی کرنے والے اہل تحریف اور اہل تعطیل نفی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس نے فرمایا: (ترجمہ: پاک ہے آپ کا رب جو بہت عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں، اور پیغمبروں پر سلام ہے اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے-سورۃ الصافات:181-183)
فرقہ ناجیہ افعال باری تعالی کے باب میں قدریہ اور جبریہ کے بیچ اعتدال پر قائم ہے، وہ وعید الٰہی کے معاملے میں مرجئہ اور وعیدیہ کے درمیان اعتدال پر قائم ہے، اسی طریقے سے ایمان اور دین کے معاملے میں حروریہ و معتزلہ اور مرجئہ وجہمیہ کے درمیان اعتدال پر ہے، صحابہ رسول کے معاملے میں بھی یہ فرقہ ناجیہ روافض وخوارج کے بیچ اعتدال پر قائم ہے۔
اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن اللہ کا نازل کردہ کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، اللہ ہی سے شروع ہوا ہے اور اسی کی طرف پلٹے گا، اللہ نے اس کے ساتھ حقیقتاً کلام کیا ہے اور اسے اپنے بندے اور رسول، وحی کے امین اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
اور میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی چیز اس کے ارادے کے بغیر نہیں ہوتی، کوئی چیز اس کی مشیت سے خارج نہیں۔ دنیا کی کوئی چیز اس کی تقدیر سے باہر نہیں، ہر چیز اس کی تدبیر ہی سے صادر ہوتی ہے، کسی کو مقررہ تقدیر سے مفر نہیں اور لوح محفوظ میں اس کے لیے جو کچھ لکھا جاچکا ہے اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے جس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دے رکھی ہے اس پر میں کامل ایمان رکھتا ہوں، پس میں عذاب قبر اور نعمت قبر پر ایمان رکھتا ہوں اور روحوں کو جسموں کی طرف پلٹائے جانے پر ایمان رکھتا ہوں، اور یہ کہ لوگ رب العالمین کے لیے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون کھڑے ہوں گے، سورج ان کے قریب ہوگا اور میزان نصب کیے جائیںگے اور ان پر بندوں کے اعمال تولے جائیں گے:(ترجمہ:  تو جن کے میزان وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جن کے میزان ہلکے ہوں گے تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، یہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے-سورۃ المومنون: 102-103) اور نامہ اعمال پھیلائے جائیں گے تو کوئی اپنی کتاب کو داہنے ہاتھ سے لے گا اور کوئی اپنی کتاب کو بائیں ہاتھ سے لے گا۔
میں نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر بھی ایمان رکھتا ہوں جو قیامت کے میدان میں ہوگا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا، اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کی تعداد جیسی ہوگی، جو اس سے ایک بار پی لے گا اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور میں یہ بھی ایمان رکھتا ہوںکہ جہنم کے کنارے پل صراط نصب کیا جائے گااور لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گذریں گے۔
اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر بھی یقین رکھتا ہوں اور یہ کہ آپ پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے اور پہلے شخص ہوں گے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ علم کی شفاعت کا انکار اہل بدعت وضلال کے علاوہ کوئی نہیں کرتا۔ البتہ یہ شفاعت اللہ کی اجازت اور اس کی رضامندی کے بعد ہی ہوگی، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ: وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اسی کی جس سے اللہ راضی ہو-سورہ انبیاء: 28) مزید فرمایا:(ترجمہ: اس کے پاس بجز اس کی اجازت کے کون شفاعت کرسکتا ہے – سورہ بقرہ: 255) (ترجمہ: اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش ان کو کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے-سورہ نجم: 26) اور وہ بغیر توحید کے راضی نہیں ہوگا اور موحدین کے علاوہ کسی کے لیے اجازت نہیں دے گا۔ رہ گئے مشرکین تو ان کے لیے شفاعت میں کوئی حصہ نہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے: (ترجمہ: ان کے لیے سفارش کرنے والوں کی سفارش کوئی فائدہ نہیں دے گی-سورہ مدثر: 48)
اور میں اس پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ جنت وجہنم دونوں مخلوق ہیں اور آج بھی یہ دونوں موجود ہیں، یہ دونوں فنا نہ ہوں گی۔ اور یہ کہ اہل یمان اپنے رب کو اپنی نگاہوں سے قیامت کے روز دیکھیں گے جیسے چودہویں رات کا چاند دیکھتے ہیں وہ اس کو دیکھنے میں ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ نہ بنیں گے، اور میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والرسل ہیں، اور کسی بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک آپ کی رسالت پر ایمان نہیں لائے اور آپ کی نبوت کی شہادت نہ دے۔اور امت محمدیہ میں سب سے افضل ابو بکر صدیق، پھر عمر فاروق، پھر عثمان ذو النورین، پھر علی مرتضیٰ،پھر جنت کے بشارت یافتہ دس صحابہ میں سے باقی ماندہ، پھر اہل بدر، پھر اہل شجرہ یعنی بیعت رضوان والے، پھر بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو دوست رکھتا ہوں، ان کے محاسن کو ذکر کرتا ہوں، ان سے رضا کا اظہار کرتا ہوں، ان کے لیے مغفرت کی دعاکرتا ہوں، ان کی خامیوں پر گفتگو کرنے سے اپنے آپ کو روکتا ہوں، ان کے درمیان جو اختلافات ہوئے ا ن پر خاموشی اختیار کرتا ہوںاور اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے ان کے فضل کا عقیدہ رکھتا ہوں: (ترجمہ: اور جو لوگ ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گذرے ہیں۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کینہ نہ بنا، اے ہمارے رب!بے شک تو رؤوف ورحیم ہے-سورہ حشر:10)
اور میںامہات المومنین جوہر برائی سے پاک ہیں ان کے لیے رضا کی دعا کرتا ہوں۔ اور میں اولیاء وصالحین کی کرامات اور ان کے مکاشفات کا اقرار کرتا ہوں، البتہ یہ لوگ اللہ کے حق میں سے کسی بھی چیز کے مستحق نہیںاور ان سے کوئی ایسی چیز طلب نہیں کی جاسکتی جس پر اللہ کے سوا کسی کو قدرت نہ ہو۔ اور میں کسی بھی مسلمان کے لیے جنت یا جہنم کی شہادت نہیں دیتا مگر جس کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت دی ہو۔ البتہ نیکوکار کے لیے اچھی امید رکھتا ہوں اور بدکار پر خوف کھاتا ہوں، اور کسی مسلمان کو گناہ کی وجہ سے کافر نہیں گردانتا اور نہ اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہوں۔
اور میرا کہنا ہے کہ اہل بدعت کو چھوڑ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کی جائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں۔ اور میں ان کے ظاہر پر حکم لگاتا ہوں اور ان کا باطن اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ اور میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ دین میں جو نئی بات ایجاد کی جائے وہ بدعت ہے۔
اور میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ ایمان، زبان سے کہنے، اعضاء سے عمل کرنے اور دل سے یقین رکھنے کا نام ہے، وہ طاعت کے کاموں سے بڑھتا اور معصیت کے کاموں سے گھٹتا ہے، اس کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، سب سے اونچی شاخ لاالہ الا اللہ کی شہادت ہے اور سب سے معمولی شاخ راستے سے تکلیف کی چیزوں کو ہٹا دینا ہے۔ اور میں یہ مانتا ہوں کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر ویسے ہی واجب ہے جیسے کہ شریعت محمدیہ مطہرہ نے واجب ٹھہرایا ہے۔
یہی مختصرا میرا عقیدہ ہے جسے میں نے کافی مشغولیت کی حالت میں تحریر کردیا ہے تاکہ آپ لوگ میرے موقف سے آگاہ ہوجائیں۔ اور ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔
شیخ رحمہ اللہ کی زندگی میں لوگوں نے باطل اقوال اور عقیدے کو ان کی طرف منسوب کرکے ان کو بدنام اور ان کی دعوت کو ناکام بنانے کی کوشش کی جس کی ایک مثال شیخ رحمہ اللہ کا ذیل میں نقل کیا جانے والا رسالہ ہے جس کو پڑھنے کا بعد یہ حقیقت طشت ازبام ہوجاتی ہے کہ بہت ساری جھوٹی باتیں ان کی زندگی اور ان کی موت کے بعد ان کے دشمنوں نے ان کی طرف منسوب کیں جن کی کوئی سچائی نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہی باتیں عام ہوگئیں اور لوگ انہیں پر تکیہ کرکے شیخ رحمہ اللہ کی حقیقی دعوت کی لذت اور اس کی رعنائی سے محروم ہوگئے۔
شیخ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:پھر آپ لوگوں سے یہ بات مخفی نہیں کہ مجھے یہ خبر مل چکی ہے کہ سلیمان بن سحیم کا خط آپ لوگوں کو ملا ہے اور آپ لوگوں سے وابستہ بعض مدعیان علم نے اس خط کو سچا مان لیا ہے حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ اس شخص نے ایسی باتیں گھڑ کر میری طرف منسوب کی ہیں جنہیں میں نے کہا ہی نہیں اور ان میں سے اکثر میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آئی ہیں۔
انہی باتوں میں سے ان کا یہ کہنا کہ میں مذاہب اربعہ کی کتابوں کو باطل سمجھتا ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ لوگ چھ سو سال سے کسی چیز پر قائم نہیں ہیں، میں اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہوں، میں تقلید سے خارج ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ علماء کا اختلاف ایک عذاب ہے، میں صالحین کا وسیلہ پکڑنے والے کو کافر گردانتا ہوں، میں ’’یا اکرم الخلق۔۔۔الی آخرہ‘‘ کہنے پر بوصیری کی تکفیر کرتا ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ اگر میرے بس میں ہو تو قبہ رسول کو ڈھا دوں اور اگر میرے بس میں ہو تو خانہ کعبہ کا پرنالہ نکال کر لکڑی کا پرنالہ لگادوں، میں قبر نبوی کی زیارت کو حرام ٹھہراتا ہوں، والدین وغیرہ کی قبر کی زیارت کو میں غلط سمجھتا ہوں، غیر اللہ کی قسم کھانے والے کو کافر ٹھہراتا ہوں، ابن فارض اور ابن عربی کی تکفیر کرتا ہوں، دلائل الخیرات اور روض الریاحین نامی کتابوں کو نذر آتش کرتا ہوں، اور روض الریاحین کو روض الشیاطین کہتا ہوں۔ ان تمام باتوں پر میرا یہی جواب ہے کہ ’’سبحانک ھذا بہتان عظیم‘‘  اے اللہ تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔
اس بہتان کو ان لوگوں نے مان لیا جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگایا تھا کہ آپ عیسیٰ بن مریم کو اور صالحین کو گالی دیتے ہیں، جھوٹ کا بہتان باندھنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے دل ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ترجمہ: جھوٹ کا بہتان وہ لوگ باندھتے ہیںجو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے -سورہ نحل:105) ان مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگایا کہ آپ کہتے ہیں کہ فرشتے، عیسیٰ اور عزیر جہنمی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(ترجمہ: بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے-سورہ انبیاء: ۱۰۱)
رہ گئے کچھ دوسرے مسائل، مثلاً یہ کہ میں کہتا ہوں کہ جب تک انسان لا الہ الا اللہ کا معنیٰ نہیں سمجھے گا اس کا اسلام کامل نہ ہوگا اور یہ کہ جو میرے پاس آتا ہے میں اسے اس کا معنی سمجھاتا ہوں۔ اور یہ کہ اگر کوئی نذر ماننے والا اپنی نذر کے ذریعے غیر اللہ کے تقرب کا ارادہ کرتا ہے اور اسی خاطر نذر مانتا ہے تو میں اس کو کافر ٹھہراتا ہوں،اور یہ کہ غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا کفر ہے اور ایسا ذبیحہ حرام ہے، تو یہ مسائل درست ہیں اور میں ان کا قائل ہوں، اور میرے پاس ان مسائل پر کتاب وسنت اور ائمہ اربعہ جیسے علماء متبعین کے اقوال سے دلائل موجود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اس قول کو بھی سمجھیں اور غور کریں: (ترجمہ: اے ایمان والو!  اگر تمہیں کوئی فاسق کوئی خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے – سورہ حجرات،6)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *